براک اوباما یا مِٹ رومنی، امریکی آج فیصلہ کریں گے

آخری وقت اشاعت:  منگل 6 نومبر 2012 ,‭ 11:34 GMT 16:34 PST

کانٹے دار الیکشن میں ووٹنگ شروع

نیو ہمپشائر کے ایک گاؤں ڈکس ویلی نوچ میں بارہ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے دس نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا

کئی ماہ کی انتخابی مہم کے بعد امریکہ میں ملکی تاریخ کے ممکنہ طور پر سب سے کانٹے دار اور سب سے مہنگے صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ شروع ہو گئی ہے۔

اس الیکشن میں دس کروڑ سے زائد شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار براک اوباما اور ری پبلکن پارٹی کے امیدوار مٹ رومنی میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گے۔

کلِک امریکی الیکشن 2012 پر خصوصی ضمیمہ

رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق دونوں صدارتی امیدواروں میں مقابلہ اتنا سخت ہے کہ کسی فریق کو اپنی جیت کا مکمل یقین نہیں ہے۔

امریکہ میں مشرق سے مغرب تک چار مختلف ٹائم زون ہونے کی وجہ سے مختلف اوقات میں ووٹنگ شروع ہوگی۔

باقاعدہ ووٹنگ کا آغاز مشرقی امریکہ میں نیویارک، نیوجرسی، ورجینیا اور نیوہمپشائر سمیت دس ریاستوں میں امریکہ کے مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے جبکہ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق دن گیارہ بجے ہوا۔

نیوہمپشائر کے ایک گاؤں ڈکس ویلی نوچ میں منگل کو رات گئے ہیں بارہ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے دس نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور دونوں امیدواروں کو پانچ پانچ ووٹ ملے۔

گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق ساڑھے گیارہ بجے تین اہم ریاستوں اوہایو، مغربی ورجینیا اور شمالی کیرولائنا میں پولنگ کا عمل شروع ہوا۔

الینوائے، فلوریڈا، لوئزیزیا سمیت بارہ ریاستوں میں سات بجے یا گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق دن بارہ بجے جبکہ ایریزونا، کنساس، مینیسوٹا سمیت بارہ ریاستوں میں دوپہر ایک بجے جبکہ آرکنساس میں ڈیڑھ بجے پولنگ شروع ہوگی۔

گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر دو بجے، کولوراڈو، مونٹینا سمیت چھ ریاستوں میں جبکہ سہ پہر تین بجے کیلیفورنیا سمیت چار ریاستوں میں پولنگ شروع ہوگی۔

اس کے بعد الاسکا میں شام چار بجے جبکہ سب سے آخر میں ہوائی میں شام پانچ بجے پولنگ شروع ہوگی۔

سب سے پہلے ووٹنگ ریاست انڈیانا اور کنٹکی سے گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق منگل کی رات گیارہ بجے اور سب سے آخر میں ریاست الاسکا میں بدھ کی صبح پانچ بجے ختم ہوگی۔

روایتی طور پر گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح تین بجے سے سات بجے تک کے درمیان مجموعی طور پر نتائج آ جاتے ہیں لیکن انتخابی معرکہ سخت ہو تو ان میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ سال دو ہزار کے انتخاب میں ہوا تھا۔

امریکہ میں ارلی ووٹنگ یا الیکشن کے دن سے قبل ووٹنگ بھی ہوئی اور ایک اندازے کے مطابق ملک میں ساڑھے پندرہ کروڑ سے زائد رجسٹرڈ ووٹروں میں سے تیس فیصد ووٹرز ووٹنگ کا حق استعمال کر چکے ہیں۔

سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخاب میں ایک سو تیس ملین یا تیرہ کروڑ ووٹ ڈالے گئے تھے جبکہ ارلی ووٹنگ کا شرح تیس اعشاریہ چھ تھی۔

صدر براک اوباما نے بھی گذشتہ ماہ کی چھبیس تاریخ کو الیکشن کے دن سے قبل ووٹنگ کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے اپنے آبائی شہر شکاگو میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔

خیال رہے کہ دنیا کے کئی ممالک کی طرح ووٹرز کو انتخاب کے دن سے قبل ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اس کا مقصد ایک تو ووٹنگ کے دن پولنگ سٹیشنوں پر ووٹرز کی طویل قطاروں سے بچا جا سکے اور دوسرا جو انتخاب کے دن اپنے حلقے سے دور ہو، جن میں انتخابی مہم میں حصے لینے والے کارکن، انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے افراد، طبی عملہ وغیرہ شامل ہیں۔

یہ لوگ خصوصی طور پر بنائے گئے پولنگ سٹیشنز پر خود جا کر ووٹ ڈال سکتے ہیں یا ڈاک کے ذریعے بھی اپنا ووٹ بھیج سکتے ہیں۔ امریکہ کی بعض ریاستوں میں قبل از وقت ووٹ ڈالنے کے لیے جواز پیش کرنا ضروری ہے جبکہ کئی ریاستوں میں اس ضمن میں شرائط نہیں ہیں۔

صدر کا فیصلہ الیکٹورل ووٹ سے

امریکہ میں صدر منتخب ہونے کے لیے دو سو ستر ووٹ درکار ہوتے ہیں اور صدارتی انتخاب کا فیصلہ الیکٹورل کالج کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخاب میں صدر اوباما نے کل پانچ سو اڑتیس میں سے تین سو پینسٹھ الیکٹورل کالج ووٹوں سے فتح حاصل کی تھی جب کہ ان کے مدِمقابل ری پبلکن جماعت کے امیدوار جان مکین نے ایک سو تہتر ووٹ حاصل کیے تھے۔

امریکہ میں عوام براہِ راست اپنا صدر منتخب نہیں کرتے بلکہ انتخاب کنندگان کی ایک جماعت مِل کر یہ کام کرتی ہے جِسے الیکٹورل کالج کہا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر کیلیفورنیا (آبادی 37.7 ملین) کے پچپن الیکٹورل کالج ووٹ ہیں جبکہ مونٹانا جیسی ریاست کے جس کی آبادی دس لاکھ ہے صرف تین ووٹ ہیں۔ جو صدارتی امیدوار ریاست میں جیت جاتا ہے اس کو اس ریاست کے تمام ووٹ مل جاتے ہیں۔ (میئن اور نیبراسکا کی ریاستوں میں الیکٹورل کالج کے ووٹ عام شہریوں کی جانب سے دیئے گئے ووٹوں کے تناسب سے بنانٹے جاتے ہیں۔)

ہر ریاست کو اس کی آبادی کے مطابق ووٹ دیے جاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ تمام امریکی ریاستیں آبادی کے لحاظ سے مساوی نہیں ہیں۔ کوئی ریاست کروڑوں کی آبادی رکھتی ہے اور کوئی محض چند لاکھ کی۔ چنانچہ ایوانِ نمائندگان میں کسی ریاست سے صرف چار نمائندے جاتے ہیں اور کسی ریاست سے پچاس نمائندے۔

اس صورتِ حال میں توازن پیدا کرنے کے لئےامریکی سینیٹ میں ہر ریاست کی مساوی نمائندگی رکھی گئی ہے یعنی ریاست چھوٹی ہو یا بڑی، اسکے دو نمائندے سینیٹ میں جائیں گے۔ گویا پچاس ریاستوں کے کُل ایک سو (100 ) سینیٹر ہوتے ہیں، لیکن ایوانِ نمائندگان میں محض آبادی کے تناسب سے نیابتی حلقے مقرر ہوتے ہیں۔ مثلاً کیلیفورنیا جیسی بڑی ریاست میں 53 نیابتی حلقے ہیں تو وہاں سے 53 ارکان اپنی ریاست کی نمائندگی وفاق میں کریں گے لیکن کنسِاس جیسی چھوٹی ریاست میں صرف 4 نیابتی حلقے ہیں تو وہاں سے صرف 4 ارکان وفاق میں نمائندگی کریں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔