’بشار الاسد کو شام سے نکلنے کا راستہ دیا جائے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 6 نومبر 2012 ,‭ 15:33 GMT 20:33 PST

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ اگر اس سے شام میں خون خرابہ ختم ہوتا ہے تو وہ صدر بشارالاسد کو ملک سے نکلنے کے لیے محفوظ راستہ دینے کی حمایت کریں گے۔

کیمرون نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ شامی صدر کو ملک سے نکالنے کی ہر ممکن حکمتِ عملی پر غور کریں۔

انہوں نے العربیہ ٹیلی ویژن چینل کو بتایا کہ وہ اس بات کے حق میں ہیں کہ صدر اسد ’بین الاقوامی قانون کی بھرپور طاقت کا سامنا کریں۔‘

انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ڈیوڈ کیمرون پر یہ کہہ کر تنقید کی ہے کہ وہ ’صدر اسد کے لیے معافی کے معاہدوں کے بات کر رہے ہیں۔‘

ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون کو چاہیے وہ ان کوششوں کی حمایت کریں جن کے تحت شامی صدر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکے اور انہیں ہیگ میں جرائم کی بین الاقوامی عدالت میں لایا جا سکے۔

حکومت کے مخالفین کے مطابق گزشتہ مارچ میں صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت پھوٹ پڑنے کے بعد سے اب تک شام میں پیتیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ابوظہبی میں العربیہ سے بات کرتے ہوئے برطانوی وزیرِاعظم نے کہا کہ ’سب سے پہلی تشویش یہ ہونی چاہیے کہ شام میں ہلاکتوں کا سلسلہ بند ہو۔‘

’مجھے مایوسی ہے کہ ہم اور کچھ نہیں کر سکتے۔ (شام میں) ہولناک قتلِ عام ہو رہا ہے۔‘

انھہوں نے مزید کہا کہ ’میں یقیناً (اسد کو) برطانیہ آنے کا منصوبہ پیش نہیں کر رہا، لیکن اگر وہ جانا چاہیں تو ان کے جانے کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔