سینڈی: نیویارک میں قیمتوں میں اضافے کی تفتیش

آخری وقت اشاعت:  منگل 6 نومبر 2012 ,‭ 11:43 GMT 16:43 PST
نیویارک شہر میں ایک گیس سٹیشن

نیویارک شہر میں گیس اور پیٹرول کی ڈمانڈ میں اضافہ ہوا ہے

نیویارک کے اٹارنی جنرل نے سینڈی طوفان کے بعد قیمتوں میں اضافے کی شکایت کے معاملے میں جانچ کا حکم دیا ہے۔

ایرک شنائڈر مین نے کہا ہے کہ زیادہ تر شکایتیں ایندھن یعنی پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں موصول ہوئی ہیں جبکہ طوفان کے سبب دوسری ایمرجنسی اشیاء کی قیمتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

سینڈی طوفان کے بعد سے نیوجرسی اور نیویارک شہر میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ بغیر بجلی کے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

طوفان سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے میں ان شہروں کے اخراجات میں آٹھ کروڑ چون لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

نیویارک کے جون لیو نے کہا کہ تباہی سے ہونے والے نقصانات کی ہنگامی تلافی کے لیے تین کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ خرچ ہوا ہے۔ اس میں شہر کے ساحل پر کام بھی شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر پمپنگ اور نالیوں کے نظام کو درست کرنے پر لگایا جائے گا۔

طوفان سے ہونے والی تباہی میں منگل کو ہونے والے انتخابات بھی متاثر ہوئے ہیں کیونکہ سینکڑوں پولنگ بوتھ بند کر دیے گئے ہیں۔

نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو کے اعلان کے تحت اب نیویارک کے لوگ کسی بھی پولنگ بوتھ پر اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

اسی دوران ایک اور طوفان جمعرات کو نیویارک کے ساحل سے ٹکرانے کا خدشہ ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ طوفانی ہوائیں پچاس میل فی گھنٹے کی رفتار سے ہو سکتی ہیں۔

نیویارک اور نیو جرسی کے سامنے قریب ڈیڑھ کروڑ گھروں میں بجلی کی فراہمی کا بڑا چیلنج ہے۔ ایک ہفتے سے ان گھروں میں بجلی نہیں ہے۔

لگاتار دوسری رات درجہ حرارت نقطۂ انجماد تک پہنچ رہا ہے۔ ایسے میں نیویارک کے مئیر مائیکل بلوم برگ نے بزرگوں اور چھوٹے بچوں والے خاندانوں سے کہا ہے کہ وہ کیمپوں میں چلے جائیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ریاست کے گورنر انڈریو کومو نے کہا تھا کہ شہر کے ٹرانسپورٹ سروسز کی بحالی کا کام جاری ہے۔

وہیں نیو جرسی کی سرکاری ٹرانسپورٹ ایجنسی این جے ٹرانزٹ نے متنبہ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹ سروسز کی مکمل بحالی میں ابھی اسے کچھ ہفتوں کا وقت لگے گا۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیویارک میں دفتر جانے والے عوام کی پریشانی کے حل کے لیے وہ بعض ایمرجنسی بسیں چلا رہا ہے۔

اس سے قبل نیویارک کے میئر اور گورنر نے خبر دار کیا تھا کہ سمندری طوفان سینڈی کے باعث بے گھر ہوجانے والے ہزاروں افراد کو آنے والے سرد موسم کے پیشِ نظر جلد از جلد مناسب رہائشگاہوں کی ضرورت ہے۔

نیویارک کے میئر مائیکل بلوم برگ کا کہنا ہے کہ تیس سے چالیس ہزار افراد کے لیے رہائش گاہیں مہیا کرنا ہوں گی۔

ریاست کے گورنر اینڈریو کومو کا کہنا ہے کہ ایندھن کی کمی کو پورا کیا جا رہا ہے۔

انتیس اکتوبر کو آنے والے سمندری طوفان کی وجہ سے امریکہ میں کم سے کم ایک سو چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں، ان میں سے چالیس افراد کا تعلق نیویارک سے تھا۔

اتوار کو ریاست کے گورنر نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ درجۂ حرارت گرنے کے بعد وہ تمام گھر جہاں حدّت کا نظام نہیں ہے، رہنے کے قابل نہیں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ اب تک اپنے گھروں کو چھوڑنے سے انکاری ہیں، موسم سرد ہونے کے بعد ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچے گا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ پیر کو دفاتر اور سکول کھلنے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی خاصا دباؤ رہے گا۔

انہوں نے نیویارک کے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ ایندھن ذخیرہ نہ کریں اور کیونکہ مزید ایندھن کی ترسیل کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔