براک اوباما کون ہیں؟

آخری وقت اشاعت:  بدھ 7 نومبر 2012 ,‭ 07:46 GMT 12:46 PST

لگاتار دوسری مرتبہ صدارتی انتخاب جیتنے والے براک اوباما نے دو ہزار آٹھ میں امریکی صدر منتخب ہو کر پہلے سیاہ فام امریکی صدر ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

انھوں نے اس بار سخت مقابلے کی پیش گوئیوں کے برخلاف با آسانی دو سو ستّر کا مطلوبہ عدد حاصل کیا اور ریپبلکن پارٹی کے اپنے حریف مٹ رومنی کو بہ آسانی شکست دے دی۔

ان کے بارے میں خاص بات یہ ہے کہ شاید ان کے ووٹرز انھیں چاہتے ہیں کیونکہ موجودہ اقتصادی بحران کے باوجود وہ ان سے جڑے رہے۔

ان کی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم پہلی بار دوہزار آٹھ میں اوباما کو ووٹ دینے والوں کو پھر سے راضی کرنے میں کامیاب رہی بلکہ انھوں نے ایسے لوگوں کی بھی حمایت حاصل کی جنھوں نے پہلے سے اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا تھا۔

حالیہ کئی دہائیوں میں آنے والی سب سے بڑی اقتصادی کساد بازاری کے دور میں اوباما نے صدر کی ذمہ داری سنبھالی اسی کے ساتھ ہی امریکہ میں بے روزگاری کی شرح بھی قریب آٹھ فیصد پر لگاتار موجود تھی۔

ڈیموکریٹک پارٹی کو نومبر دوہزار دس کے وسط مدتی انتخابات میں تاريخی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ریپبلکن پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ اپنے قدامت پسند منصوبوں کو پیش کر رہے تھے۔

مٹ رومنی اور اور ریپبلیکن کا خیال تھا کہ اوباما اس بار پہلےجیسا جوش جگانے میں ناکام رہیں گے اور آزاد ووٹرز اس لڑکھراتی معیشت کے دوران انھیں خارج کر دیں گے۔

وہ ہنری ٹرومین کے بعد دوسرے امریکی صدر ہیں جس کا تعلق امریکہ کے شہری علاقے سے ہے اور یہ بھی کہ ان سے پہلے کسی بھی امریکی صدر کا تعلق امریکی ریاست ہوائی سے نہیں تھا۔

جب سے وہ صدر منتخب ہوئے ہیں انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اقتصادی پروگرام کو ایک نئی تحریک دی ہے، اسی طرح امریکہ کے نظامِ صحت کو نئے سرے سے بحالی دی ہے، وال سٹریٹ اور بنکوں کی صنعت کے لیے نئے اصول و ضوابط وضع کیے ہیں اور امریکی آٹو انڈسٹری کو تباہ ہونے سے بچایا ہے۔

براک اوباما پہلے سیاہ فام امریکی صدر ہیں۔

صدر اوباما اور ان کی پارٹی نے دو دہائیوں سے جاری اس قانون کو بھی بدل دیا جو ہم جنس پرست امریکیوں کو فوج میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔

اس کے علاوہ انھوں نے کانگریس کی اجازت لیے بغیر صدارتی اختیار استعمال کرتے ہوئے ان بچوں کو عارضی قانونی حیثیت دینے کی منظور دی جنھیں غیر قانونی طور پر امریکہ لایا جاتا تھا۔

ان کے کارناموں میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے لیے کمانڈو ایکشن کرانا، عراق میں جنگ کو خاتمے کے قریب لے جانا اور روس کے ساتھ نئے ایٹمی معاہدے پر دستخط بھی شامل ہیں۔

ان کے دور میں افغانستان کی صورت حال خاصی تبدیل ہوئی ہے اور وہ افغانستان کی سکیورٹی کو دو ہزار چودہ تک افغان حکام کے حوالے کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

اکیاون سالہ براک اوباما کو سنہ دو ہزار چار کے ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن میں کی گئی تقریر میں قومی اور عالمی شہرت ملی جس میں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے امریکی روایات کی بات کی۔

براک اوباما انیس سو اکسٹھ میں امریکی ریاست ہوائی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا تعلق کینیا سے جبکہ والدہ کا ہوائی سے تھا۔

ان کے والدین کی ملاقات دوران طالب علمی ہوائی یونیورسٹی میں ہوئی جہاں ان کے والد سکالرشپ پر پڑھنے آئے ہوئے تھے۔

والدین کی علیحدگی اور طلاق کے بعد اوباما اپنی والدہ کے ساتھ امریکہ اور کچھ عرصے کے لیے انڈونیشیا میں رہے کیونکہ ان کے سوتیلے باپ کا تعلق انڈونیشیا سے تھا۔

براک اوباما اپنے والد کے ساتھ ایک تصویر میں۔

امریکی سینٹ انتخابات میں جیت کے چند ماہ بعد وہ میڈیا کی پسندیدہ شخصیت بن گئے اور انہوں نے دو کتابیں بھی لکھی ہیں۔

انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی لا سکول سے تعلیم حاصل کی اور ہارورڈ یونیورسٹی میں وہ ہارورڈ لا ریویو کے پہلے سیاہ فام امریکی صدر بنے۔

انہوں نے شکاگو میں پہلے سماجی پروگراموں میں اور پھر بطور وکیل کام کیا۔ وہ آٹھ سال تک ریاست الینوئے کی سیاست میں سرگرم رہے اور سنہ دو ہزار چار میں وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے۔

اوباما کی اہلیہ مشیل رابنسن بھی وکیل ہیں اور پرنسٹن اور ہارورڈ کی پڑھی ہوئی ہیں۔ ان کی دو بیٹیاں ملیا اور ساشا ہیں جن کی عمریں نو اور چھ سال ہیں۔

براک اوباما کو مبینہ طور پر قتل کرنے کی سازش میں بھی کی گئی۔ حکام کے مطابق پال سکیلیسمین اور ڈینیئل کووارٹ نے ’قتل کی سازش کی جس کے تحت درجنوں سیاہ فام افراد کو ہلاک کیا جانا تھا اور براک اوباما کو قتل کرنا سازش کا منتہائے مقصود تھا‘۔

براک اوباما نے پچھلے سال فروری میں امریکی صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔

سنہ دو ہزار سات میں ساؤتھ کیرولائنا میں ان کے جلسے میں تیس ہزار افراد نے شرکت کی جن کا کہنا تھا کہ وہ بہت ایماندار معلوم ہوتے ہیں۔

براک اوباما اپنی والدہ اور سوتیلے باپ کے ساتھ انڈونیشیا میں بھی رہی کیونکہ ان کے سوتیلے باپ کا تعلق انڈونیشیا سے تھا۔

اوباما نے فنڈ اکٹھے کرنے کے بھی تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے جب انہوں نے نہ صرف انٹرنیٹ سے چھوٹی مقدار میں فنڈز اکٹھے کیے بلکہ بڑی کمپنیوں سے بھی فنڈز حاصل کیے۔

سینیٹر اوباما دو دہائی تک شکاگو میں ٹرینٹی یونائیٹڈ چرچ جاتے رہے لیکن سنہ دو ہزار آٹھ میں میں یہ وابستگی اس وقت ختم کی جب وہاں کے پادری نے ایک متنازع بیان دیا۔

اوباما نے نسلی مسئلے کو براہ راست حل کرنے کی کوشش کی۔ ان کا موقف ہے کہ ’اس مسئلے پر غصہ موجود ہے اور بہت شدید ہے۔ اس پر آنکھیں بند کر لینے سے یہ مسئلہ ختم نہیں ہو گا اور نہ ہی اس کی بنیادی وجہ معلوم کیے بغیر نسلی امتیاز پر تنقید کرنا عقلمندی ہے‘۔

براک اوباما نے شروع ہی سے عراق جنگ کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اس مسئلے کا حل فوجی نہیں ہے۔

براک اوباما ایران کے معاملے میں سفارتی حل کو جارحانہ حکمت عملی پر ترجیح دیتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔