امریکہ انتخابات: کڑے مقابلوں کی تاریخ

آخری وقت اشاعت:  منگل 6 نومبر 2012 ,‭ 14:09 GMT 19:09 PST

سال دو ہزار بارہ کو امریکی انتخابات کی تاریخ میں کانٹے کے مقابلے والے انتخابات کے طور پر یاد رکھا جا سکتا ہے۔ اِن انتخابات میں باراک اوباما اور اُن کے مدِ مقابل مِٹ رومنی کے درمیان کڑا کا مقابلہ متوقع ہے۔

امریکی صدارتی انتخاب میں جیتنے کے لیے امیدوار کو زیادہ عوامی ووٹوں کے بجائے زیادہ الیکٹورل کالج ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ملک میں کُل 538 الیکٹورل کالج ووٹ ہیں اور امیدوار کو جیتنے کے لیے 270 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

امریکی صدارتی انتخاب میں جب بھی کانٹے کا مقابلہ ہوتا ہے تو ساری توجہ ایسی ریاستوں کی جانب ہو جاتی ہے جہاں کے رائے دہندگان کے بارے میں صورتحال غیر واضح ہوتی ہے کہ وہ کسے ووٹ دیں گے۔ ایسی ریاستوں کو سونگ سٹیٹس یا ڈاواں ڈول ریاستیں کہا جاتا ہے۔

1916: وڈرو ولسن بمقابلہ چارلس ہیوز

اُن دنوں جب یورپ میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر وڈرو ولسن نے اِس وعدے کے ساتھ الیکشن میں حصہ لیا کہ وہ اِس جنگ میں غیر جانبدار رہیں گے۔ انتخابی مہم انہوں نے اِس نعرے کے ساتھ جاری رکھی ’اُس نے ہمیں جنگ سے باہر رکھا‘۔

وڈرو ولسن نے اپنے مدِ مقابل ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار چارلس ہیوز کو ایک سخت مقابلے میں شکست دی۔

1960: جان ایف کینیڈی بمقابلہ رچرڈ نکسن

جان ایف کینیڈی اور رچرڈ نکسن کے درمیان سخت ترین مقابلہ تھا جس میں کینیڈی نے 49.7 فیصد جبکہ نکسن نے 49.6 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ امیدواروں کے درمیان ٹیلی وژن پر براہ راست نشر ہونے والی بحث نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ امریکی انتخابی تاریخ میں یہ پہلی صدارتی بحث تھی۔ اِس بحث کے دوران نوجوان جان ایف کینیڈی پر اعتماد نظر آئے جبکہ نکسن کو پسینہ پوچھتے ہوئے دیکھا گیا۔

1976: جمی کارٹر بمقابلہ جیرالڈ فورڈ

ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے نائب صدر جیرالڈ فورڈ نے صدر نکسن کے مستعفی ہونے کے بعد صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ صدر رچرڈ نکسن نے واٹر گیٹ سکینڈل کے نتیجے میں استعفیٰ دے دیا تھا۔ لیکن صدر فورڈ کی جانب سے نکسن کو معاف کر دینے کے فیصلے کو عوام نے پسند نہیں کیا۔

صدارتی انتخاب میں فورڈ کا مقابلہ جارجیا کے گورنر جمی کارٹر سے تھا جنہیں قومی سطح پر کم ہی امریکی جانتے تھے۔ دونوں امیدواروں نے ٹیلی وژن پر صدارتی بحث میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کی۔ یہ 1960 میں نکسن اور کینیڈی کے درمیان ہونے والی صدارتی بحث کے بعد پہلی بحث تھی۔

جمی کارٹر نے یہ انتخاب 50.1 فیصد ووٹ حاصل کر کے جیت لیا جبکہ کے جیرالڈ فورڈ کو 48 فیصد ووٹ ملے۔

دو ہزار: جارج ڈبلیو بش بمقابلہ ایلگور

یہ امریکی تاریخ میں سب سے کم فرق والا اور سب سے متنازع صدارتی انتخاب تھا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار اور ملک کے نائب صدر ایلگور نے 48.38 فیصد جبکہ جارج بش نے 47.87 فیصد عوامی ووٹ حاصل کیے۔ لیکن ریاست فلوریڈا کی صورتحال نے سب کچھ بدل دیا جہاں جارج بش صرف 537 ووٹوں سے جیت گئے تھے اور سپریم کورٹ نے ڈیموکریٹک پارٹی کی یہ درخواست مسترد کر دی کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرائی جائے۔ صرف 537 ووٹوں کی جیت سے جارج بش کو ریاست فلوریڈا کے پچیس الیکٹورل کالج ووٹ مل گئے اور اِس طرح انہیں ملنے والے الیکٹورل کالج ووٹوں کی کل تعداد 271 ہو گئی۔

دو ہزار چار: جارج ڈبلیو بش بمقابلہ جان کیری

اِس انتخاب میں صدر بش کا مقابلہ میسوچوسٹس کے سینیٹر جان کیری سے تھا۔ گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں کے اثرات باقی تھے اور صدارتی مہم میں صدر بش اپنے آپ کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے ایک بڑے رہنما کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ الیکشن سے چند روز پہلے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لان کا بیان نشر کیا گیا جس میں انہوں نے گیارہ ستمبر کے حملوں کی ذمہ داری قبول کی اور صدر بش کے فیصلوں کا مذاق اڑایا۔ اسامہ کا بیان نشر ہونے کے بعد جارج بش کی برتری مستحکم ہو گئی اور آخر کار وہ جان کیری کے 251 الیکٹورل ووٹوں کے مقابلے میں 286 ووٹوں سے کامیاب ہو کر ایک مرتبہ پھر صدر بن گئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔