اوباما کی جیت میں کن کا ہاتھ؟

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 8 نومبر 2012 ,‭ 21:59 GMT 02:59 PST

امریکی صدر براک اوباما کی جیت اس بار بھی سنہ 2008 جیسی ہی تھی یعنی ان کو ووٹ دیے خواتین نے، نوجوانوں، افریقی امریکن اور لاطینیوں نے۔

لیکن پاپولر ووٹ اس بار ان کو اتنے نہیں ملے جتنے کہ 2008 میں ملے تھے۔

خواتین ووٹرز

مرد اور عورتیں ووٹرز نے مختلف امیدواروں کو ووٹ دیے۔ مجموعی طور پر اوباما کو 55 فیصد خواتین نے جبکہ 44 فیصد خوتین نے مٹ رومنی کو ووٹ دیے۔

مردوں میں 52 فیصد رومنی کے حق میں تھے جبکہ 45 فیصد اوباما کے۔

لیکن سنہ 2008 انتخابات میں اوباما نے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔ 2008 کے الیکشن میں 49 فیصد مرد اور 56 فیصد خواتین نے اوباما کو ووٹ دیے۔

تاہم شادی شدہ اور غیر شادی شدہ خواتین میں بھی تفریق رہی۔ مٹ رومنی کو 53 فیصد شادی شدہ خواتین نے ووٹ دیے۔ غیر شادی شدہ خواتین میں سے 67 فیصد نے اوباما جبکہ 31 فیصد نے رومنی کو ووٹ دیا۔

ووٹرز میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے جو کُل ووٹرز کی 53 فیصد ہیں۔

لسانی ووٹ

اگرچہ اس بار اوباما کو سیاہ فام ووٹرز کے اتنے ووٹ نہیں ملے جتنے 2008 میں ملے تھے لیکن اس کے باوجود ان کو 93 فیصد سیاہ فام ووٹ ملے۔

اس کے علاوہ 71 فیصد لاطینی ووٹرز نے ڈیموکریٹ جماعت کو ووٹ دیے۔

امریکہ میں لاطینی اور ہسپانوی وٹرز کُل ووٹرز کا دس فیصد ہیں۔

اوباما کو اس بار سفید فام امریکیوں سے کم ووٹ ملے ہیں۔ 2008 میں ان کو 43 فیصد ووٹ ملے تھے لیکن اس بار 39 فیصد۔

نوجوان ووٹرز

دوسری مدت کے لیے اوباما کے منتخب ہونے میں نوجوان ووٹرز کا کلیدی کردار تھا۔

اٹھارہ سے انتیس سال کے ووٹرز کے ساٹھ فیصد ووٹ اوباما کے حق میں پڑے۔ تاہم 2008 میں یہ شرح 66 فیصد تھی۔

تیس سے چوالیس سال کے ووٹرز بٹے رہے اور ان میں سے 52 فیصد نے اوباما جبکہ 45 فیصد نے رومنی کو ووٹ دیے۔

رجسٹرڈ ووٹرز میں سب سے زیادہ تعداد 45 سے 64 سال کے افراد کی ہے اور ان میں سے 51 فیصد لوگوں نے رومنی کو ووٹ دیے۔

کم آمدنی والے امریکی

کم آمدنی کے ووٹرز نے بڑی تعداد میں اوباما کو ووٹ دیے۔ وہ امریکی جن کی سالانے آمدنی پچاس ہزار ڈالر سے کم ہے ان میں 60 فیصد نے اوباما کو ووٹ دیے۔

درمیانی آمدنی اور امیر طبقے میں بھی اوباما کو کافی ووٹ ملے۔ درمیانی آمدنی کے 46 فیصد اور امیر طبقے کے 44 فیصد ووٹ۔

مذہبی ووٹرز

صدارتی امیدوار مٹ رومنی کو پروٹیسٹنٹ کے 62 فیصد ملے۔

اس کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگ بشمول یہودی ووٹرز کے 70 فیصد ووٹ اوباما ہی کو ملے۔ مٹ رومنی اگر جیت جاتے تو وہ پہلے مورمن صدر ہوتے اور اسی لیے 78 فیصد مورمن ووٹرز نے رومنی ہی کو ووٹ دیے۔

اس کے علاوہ وہ افراد جو مذہبی رسومات میں ہفتے میں کم از کم ایک بار شریک ہوتے ہیں ان میں سے 59 فیصد نے رومنی کو ووٹ دیے۔

تاہم وہ جو ایک ماہ میں کبھی کبھار ایسی رسومات میں شریک ہوتے ہیں ان میں سے 55 فیصد نے اوباما کو ووٹ دیے۔

معیشت

دونوں صدارتی امیدواروں نے اپنی اپنی مہم میں معیشت پر بہت زور دیا۔ لیکن ووٹرز نے اس کو ووٹ دیا جو ان کے خیال میں معیشت پر اچھا بولا۔

ووٹرز میں سے 59 فیصد نے کہا کہ معیشت سب سے اہم ہے۔ ان 59 فیصد ووٹرز میں سے 51 فیصد نے رومنی کو ووٹ دیا۔

تو پھر اوباما کی کامیابی کیسے ہوئی؟ وہ ووٹرز جنہوں نے بےروزگاری کو سب سے بڑی فکر قرار دیا ان میں سے 54 فیصد نے اوباما کو ووٹ دیے۔

اس کے علاوہ ان افراد نے بھی اوباما ہی کو ووٹ دیے جن کے نزدیک ہیلتھ کیئر اور خارجہ پالیسی کی اہمیت زیادہ تھی۔ تاہم وہ افراد جن کے خیال میں خسارہ اہم ہے انہوں نے رومنی کو ووٹ دیے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔