امریکی انتخابات:’ کانگریس میں تبدیلی نہیں آ رہی‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 7 نومبر 2012 ,‭ 08:35 GMT 13:35 PST

منقسم ایوان کی وجہ سے امریکہ میں قانون سازی کا عمل مشکلات کا شکار رہا ہے

امریکہ میں چھ نومبر کو صدارتی انتخاب کے ساتھ ساتھ ایوانِ نمائندگان کی تمام چار سو پینتیس جبکہ سینیٹ کی سو میں سے تینتیس نشستوں کے لیے بھی انتخابات ہوئے ہیں۔

ان انتخابات کے اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق صدر اوباما کی ڈیموکریٹک پارٹی میساچوسٹس، انڈیانا اور ورجینیا میں اہم مقابلے جیت کر توقعات کے مطابق سینیٹ میں اپنی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔

ادھر ایوانِ نمائندگان میں ری پبلکن پارٹی کا غلبہ بھی برقرار رہا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹ میں قائد حزب اقتدار ہیری ریڈ اور ایوان نمائندگان میں اکثریتی جماعت ریپبلکن پارٹی کے سپیکر جان بوہئنر اپنے اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔

کانگریس کے دونوں ایوانوں میں دو مخالف جماعتوں کی اکثریت کی وجہ سے سنہ دو ہزار دس کے انتخابات کے بعد سے قانون سازی کا عمل مشکلات کا شکار رہا ہے اور اب براک اوباما کے لیے ایک مرتبہ پھر ایک منقسم ایوان تشکیل پایا ہے۔

تازہ نتائج کے بعد اب سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے اکیاون نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ انہیں دو آزاد امیدواروں کی حمایت بھی حاصل ہے جبکہ ری پبلکن پارٹی کے پاس چوالیس نشستیں ہیں۔

چار سو پینتیس نشستوں کے ایوانِ نمائندگان میں تازہ ترین نتائج کے مطابق ری پبلکن پارٹی نے اب تک دو سو چھبیس نشستیں جیتی ہیں جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس ایک سو تہتر نشستیں ہیں۔

سینیٹ کے الیکشن میں ری پبلکن ٹیکساس، ٹینیسی اور مسیسیپی میں اپنی نشستیں دوبارہ جیتنے میں کامیاب رہے ہیں تاہم اس کے دائیں بازو کے حامی دو امیدوار جنہوں نے جنسی زیادتی کے بارے میں متنازع بیان دیا شکست کھا گئے ہیں۔

منقسم ایوان

کانگریس کے دونوں ایوانوں میں دو مخالف جماعتوں کی اکثریت کی وجہ سے سنہ دو ہزار دس کے انتخابات کے بعد سے قانون سازی کا عمل مشکلات کا شکار رہا ہے اور اب براک اوباما کے لیے ایک مرتبہ پھر ایک منقسم ایوان تشکیل پایا ہے۔

میساچوسٹس میں ڈیموکریٹ امیدوار الزبتھ وارن نے اس نشست پر کامیابی حاصل کی جو اس سے قبل ری پبلکن سینیٹر سکاٹ براؤن کے پاس تھی۔

ریاست میزوری میں ری پبلکن پارٹی کے ٹاڈ ایکن کی پوزیشن ابتداء میں مضبوط تھی لیکن جنسی زیادتی کے بارے میں ان کے بیان نے صورتحال تبدیل کر دی اور یہاں سے ڈیموکریٹ امیدوار کلیئر مکیسکل کامیاب ہوئی ہیں۔

اسی معاملے پر بیان ببازی انڈیانا میں ری پبلکن امیدوار رچرڈ مرڈوک کو بھی مہنگی پڑی اور انہیں بھی ڈیموکریٹ امیدوار جو ڈونلی کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے۔

امریکہ کی شمال مشرقی ریاست مین میں ری پبلکنز کو سینیٹ میں ایک اور نشست کھونی پڑی ہے جب یہاں سے آزاد امیدوار اور ریاست کے سابق گورنر اینگس کنگ کامیاب ہوئے۔

ان انتخابات میں سینیٹ کا پہلا نتیجہ ورمونٹ کی ریاست سے سامنے آیا اور وہاں توقعات کے عین مطابق عموماً ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دینے والے آزاد امیدوار برنی سینڈرز کامیاب قرار پائے تھے۔

سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی ریپبلکن پارٹی کی امیدوں پر اس وقت مزید اوس پڑ گئی جب مین کی ریاست میں آزاد امیدوار جن کے بارے میں توقع ہے کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کا ساتھ دیں گے رپبلکن پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں کامیاب قرار پائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔