افغانستان: پرتشدد واقعات، اٹھارہ ہلاکتیں

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 8 نومبر 2012 ,‭ 11:20 GMT 16:20 PST

شدت پسند افغانستان میں سکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں

افغانستان میں شدت پسندوں کے تین حملوں میں کم سے کم دس شہریوں سمیت اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پہلا واقعہ اُُس وقت پیش آیا جب جنوبی صوبے ہلمند میں ایک منی بس سڑک کنارے نصب بم سے ٹکرا گئی جس میں عورتوں اور بچوں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق یہ بس مسافروں کو شادی کی تقریب میں لے کر جا رہی تھی۔

صوبے لغمان میں ہوئے ایک دوسرے حملے میں پانچ افغان فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ جنوبی صوبے قندھار میں ہونے والے بم حملے میں تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

شدت پسند افغانستان میں سکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔

سنہ دو ہزار ایک میں اقتدار کے خاتمے کے بعد سے شدت پسند افغانستان کے جنوبی صوبوں قندھار اور ہلمند میں کافی سرگرم ہیں اور غیر ملکی افواج پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

گذشتہ چند برسوں میں لغمان میں حملے نسبتاً کم ہوئے ہیں۔ تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہاں کے شہری علاقوں میں طالبان کی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے۔

ستمبر میں نیٹو فورسز نے لغمان میں طالبان کے خلاف ایک کارروائی کے دوران آٹھ عورتوں کو ہلاک کیا تھا۔ اس واقعے کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

افغانستان میں تعینات نیٹو فورسز دو ہزار چودہ میں واپس چلی جائیں گی جس کے بعد ملکی سکیورٹی کی تمام ذمہ داری افغان فورسز کی ہوگی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔