ویڈیوگیم کی تیاری میں مدد پر فوجیوں کو سزا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 9 نومبر 2012 ,‭ 11:32 GMT 16:32 PST

یہ واضح نہیں کہ ویڈیو گیم بناتے وقت کون سا راز فاش کیا گیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے آپریشن میں شامل امریکی نیوی سیل یونٹ چھ کے سات جوانوں کے خلاف دورانِ ملازمت راز فاش کرنے کی پاداش میں تادیبی کارروائی کی گئی ہے۔

ان جوانوں پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک ویڈیوگیم کی تیاری کے لیے مشاورت کی تھی۔

ان جوانوں کو ’میڈل آف آنر: وار فائٹر‘ نامی ویڈیو گیم بنانے میں مدد دینے کے الزام میں کئی تادیبی خطوط بھیجے گئے ہیں، اور ان کی آدھی تنخواہ دو مہینوں کے لیے معطل کر دی گئی ہے۔

ان حاضر سروس جوانوں میں ایک جوان اس ٹیم کا حصہ تھا جس نے دو ہزار گیارہ میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تھا۔

یہ گیم الیکٹرانک آرٹس نامی کمپنی نے تیار کی ہے۔ اس میں اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی تو نہیں دکھائی گئی بلکہ حقیقت سے قریب فوجی حملے دکھائے گئے ہیں۔

جوانوں پر لگائے گئے الزامات میں احکام کی خلاف ورزی، سرکاری سامان کا غلط استعمال، فرائض سے غفلت اور خفیہ مواد کا افشا کرنا شامل ہیں۔

سی بی ایس نیوز نے کہا ہے کہ سات فوجی جوانوں نے اس سال موسمِ بہار اور گرما میں حال ہی میں ریلیز ہونے والی ویڈیو پر دو دنوں تک کام کیا تھا۔

گیم بنانے والی کمپنی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس گیم کو اصلیت سے ہر ممکن حد تک قریب بنانے کے عمل میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ کمانڈوز کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔

"ہم ان پالیسیوں سے روگردانی برداشت نہیں کرتے جو ہمیں امریکہ کی بحریہ کی ارکان بناتی ہیں۔"

ریئر ایڈمرل گیری بونیلی

نیول سپیشل وارفیئر کمانڈ کے ریئر ایڈمرل گیری بونیلی نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’ہم ان پالیسیوں سے روگردانی برداشت نہیں کرتے جو ہمیں امریکہ کی بحریہ کا رکن بناتی ہیں‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ تادیبی کارروائی تمام فوج کے اندر ’ایک واضح پیغام بھیج دے گی کہ ہمیں احتساب کے اعلیٰ ترین معیارات سے پرکھا جائے گا۔‘

عام طور پر نیوی سیلز غیر تحریر شدہ اصول پر عمل پیرا ہوتے ہیں کہ وہ عوامی توجہ سے دور رہیں گے لیکن واشنگٹن میں بی بی سی کی جین لٹل کہتی ہیں کہ سیل ٹیم سکس اب ایک گھریلو نام بن چکا ہے، اور ان کے کارنامے کو ٹی شرٹوں پر چھاپا جاتا ہے اور ان پر فلمیں بنائی گئی ہیں۔

حال ہی میں ٹیلی ویژن کے لیے بن لادن پر حملے پر مبنی فلم بنائی گئی ہے اسی طرح انھیں ایک اور فلم میں بھی دکھایا گیا ہے جس میں وہ ایک بحری جہاز کے کپتان کو صومالی قزاقوں کے قبضے سے چھڑاتے ہیں۔

اس سے قبل بن لادن پر حملہ کرنے والی ٹیم کے ایک اور رکن نے ’نو ایزی ڈے‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی، جس میں اس کارروائی کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ امریکی محکمۂ دفاع نے کہا تھا کہ وہ اس کتاب کے خلاف قانونی کارروائی کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔