شادی کے بارے میں لڑکیاں تذبذب کا شکار

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 8 نومبر 2012 ,‭ 14:34 GMT 19:34 PST
لڑکیاں

ہر تین لڑکیوں میں سے دو کا خیال ہے کہ تعلیم کے لیے جدوجہد اولین ترجیح ہے۔

ایک سروے کے مطابق برطانوی لڑکیاں شادی کے بارے میں تذبذب کا شکار ہوتی ہیں جبکہ لڑکے شادی کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ اس سروے کے مطابق چھپن فیصد لڑکوں کے مقابلے صرف چھیالیس فیصد لڑکیاں اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ شادی ایک بہترین رشتہ ہے۔

اس سروے میں خاندان اور بچوں کی پرورش کے بارے میں لڑکوں اور لڑکیوں کے تبدیل ہوتے نظریے کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

’گرلز گائیڈ‘ نام کی تنظیم کی جانب سے کیے جانے والے سروے کے مطابق لڑکیاں اب بھی شادی اور گھرگرہستی کی قدر کرتی ہیں لیکن وہ اسے زندگی کی مکمل کامیابی تصور نہیں کرتیں۔

اس سروے میں چھ سو لڑکوں اور بارہ سو لڑکیوں سے سوالات پوچھے گئے تھے۔ جن کی عمر سات سے اکیس سال کے درمیان تھی۔

سروے میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ 2012 میں چھپن فیصد لڑکیاں پُر اعتماد اور خود مختار ہونے کو کامیابی سمجھتی ہیں۔ جبکہ اکیس فیصد لڑکیاں شادی کو۔

ان اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لڑکیاں شادی کے بارے میں مثبت سوچ تو رکھتی ہیں لیکن زیادہ تر اس بارے میں کھلا ذہن رکھتی ہیں کہ آْیا شادی ہی زندگی میں بہترین آپشن ہے۔

انہتر فیصد لڑکیاں اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ کچھ خاص طرح کی فیملیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا جن میں ایسے والدین جن کی شادی نہیں ہوئی، ہم جنس پرست اور تنہا بچے کی پرورش کرنے والی ماں یا والد۔

بہتر فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ شادی صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے جبکہ چھہتر فیصد لوگ اس بات سے متفق نہیں تھے کہ شادی کرنی ہی نہیں چاہئیے۔

چھیالیس فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ شادی شدہ جوڑے بہت جلدی طلاق کا فیصلہ کر لیتے ہیں اور معاملات کو سلجھانے کی کوشش نہیں کرتے۔

اس سال کے سروے میں لڑکوں کو پہلی مرتبہ شامل کیا گیا ہے تاکہ لڑکیوں کے خیال کے ساتھ ان کے خیالات کا موازنہ کیا جا سکے۔

زیادہ تر لڑکے اور لڑکیوں کا خیال ہے بچوں کی پرورش کی ذمہ داری ماں اور باپ دونوں پر یکساں ہونی چاہئیے۔

روزگار کے معاملے میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کی سوچ زیادہ مثبت ہے۔

ہر تین لڑکیوں میں سے دو کا خیال ہے کہ تعلیم کے لیے جدوجہد اولین ترجیح ہے۔

زیادہ تر لڑکیوں کا خیال ہے کہ ان کی زندگی ان کی ماں کی نسل سے بہتر ہے اور وہ اپنی تعلیم اور آزادی کی قدر کرتی ہیں۔

ایک دلچسپ پہلو کے بارے میں لڑکیوں کا خیال ہے کہ لڑکیوں کو ان کی قابلیت سے زیادہ ان کی شکل و صورت کو ترجیح دی جاتی ہے۔کام کرنے والی پچھہتر فیصد خواتین اس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔

گیارہ سے اکیس سال کی عمر کے لوگوں کا خیال ہے کہ جو خواتین کام کے بجائے بچوں کی پرورش پر توجہ دیتی ہیں سماج میں ان کی زیادہ قدر نہیں ہوتی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔