جنرل پیٹریئس: عراق سے سی آئی چیف تک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 10 نومبر 2012 ,‭ 02:04 GMT 07:04 PST

امریکی حکام کے مطابق خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ ڈیوڈ پیٹریئس غیر ازواجی تعلقات کی بنا پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

امریکی فوج میں سینتیس سال کی سروس میں انہوں نے 2007 میں عراق میں امریکی آپریشن کی سربراہی کی اور پھر جون 2010 سے افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈر رہے۔

افغانستان میں انہوں نے جنرل سٹینلے مییکرسٹل سے کمانڈ لی جن کو رولنگ سٹون رسالے کو متنازع بیان دینے کے باعث فوج سے نکال دیا تھا۔

اگست 2011 کو وہ امریکی فوج سے ریٹائر ہوئے اور انہوں نے خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا۔

پیٹریئس کی پیدائش 1952 میں ہوئی اور وہ نیو یارک میں بڑے ہوئے۔ وہ 1974 میں ویسٹ پوائنٹ اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہوئے اور ان کو انفنٹری میں کمیشن ملی۔

انہوں نے پہلی بار 2003 میں عراق میں ایکشن میں حصہ لیا۔

سنہ 1991 میں ان کی چھاتی پر غلطی سے گولی اس وقت لگی جب مشقوں کے دوران ایک فوجی لڑکھڑا کر گر گیا اور اس سے گولیاں چل گئیں۔ ان کی پانچ گھنٹے سرجری جاری رہی اور ان کی سرجری بل فرسٹ نے کی جو بعد میں سینیٹ میں ریپبلکن جماعت کے سربراہ بنے۔

وہ موت کے منہ سے ایک اور بار اس وقت بچے جب 1999 میں مشقوں ہی کے دوران ان کا پیراشوٹ ساٹھ فٹ کی بلندی پر پھٹ گیا۔

سنہ 2003 میں جنرل پیٹریئس نےعراق میں 101 ایئر بورن ڈویژن کو کمانڈ کیا لیکن وہ اتنا ایکشن میں حصہ نہیں لے سکے کیونکہ عراقی فوجوں نے جلد ہی ہتھیار ڈال دیے۔

پیٹریئس کی ڈویژن کو موصل میں تعینات کیا گیا جہاں ان کی ذمہ داریوں میں معیشت، مقامی سکیورٹی فورسز اور جمہوری نظام کا قیام شامل تھا۔

موصل میں جنرل پیٹریئس نے نئی حکمت عملی کا تجربہ کیا جس کو اس وقت باقاعدہ طور پر استعمال کیا گیا جب عراق میں امریکی فوج میں اضافہ کیا گیا۔

جنرل پیٹریئس نے اپنے فوجیوں کو احکامات دیے کہ پرتشدد کارروائیاں زیادہ نہ کی جائیں اور سنجیدگی سے لوگوں کے دل جیتنے کی کوشش کی جائے اور ان کی حفاظت کی جائے۔

جنرل پیٹریئس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی فوج عراق میں اس حکمت عملی کو اپناتی تو عراق میں انتشار کا شکار نہ ہوتا۔ لیکن حقیقت میں جیسے ہی پیٹریئس کی ڈویژن موصل سے نکلی ہے سُنی شدت پسندوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔

عراق میں دوسری بار تعیناتی پر عراقی فوج اور پولیس کو ازسرِ نو تشکیل دینے کی ذمہ واری ان کو دی گئی۔ عراقی فوج اور پولیس اچھی کارکردگی نہ دکھا سکی اور اس کے لیے پیٹریئس پر تنقید کی گئی۔

سنہ 2005 میں وہ فورٹ لیونفرتھ میں فوجی کالج کے سربراہ بنے اور انہوں نے انسداد دہشت گردی کا ہدایت نامہ دوبارہ تشکیل دیا۔ ہدایت نامے کے مطابق آبادی کو ہر صورت پرتشدد کارروائی سے پچانا چاہیے، چاہے اس میں فوجیوں ہی کو زیادہ نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑے۔

دو سال بعد جنرل پیٹریئس نے عراق میں بین الاقوامی فوج کی کمانڈ سنبھالی۔ صدر جارج بش کی حکمت عملی تھی کہ عراق میں شدت پسندوں کو شکست دے کر ملک کو مستحکم کیا جائے اور فوجوں کا انخلاء کیا جائے۔

ستمبر 2007 میں کانگریس کے سامنے جنرل پیٹریئس نے ڈیموکریٹس کو متنبہ کیا کہ انخلاء میں جلدی نہ کریں کیونکہ اس سے تباہ کن نتائج مرتب ہوں گے۔

اس بریفنگ کے بعد امریکہ نے عراق میں تیس ہزار فوجی مزید بھجوائے اور پیٹریئس نے اپنا بنایا ہوا ہدایت نامہ نافذ کرایا جس کی وجہ سے عراق میں صورتحال کافی بہتر ہوئی۔

عراق میں بیس ماہ کمانڈ کرنے کے بعد ان کو سینٹرل کمانڈ کا سربراہ بنا دیا گیا۔ ان کی ذمہ داریوں میں مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا بشمول افغانستان اور پاکستان میں امریکی فوجی کارروائیاں اور منصوبہ بندی شامل تھیں۔

سنہ 2010 میں انہوں نے افغانستان کی کمانڈ سنبھالی اور اگست 2011 میں فوج سے ریٹائر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ پر ان کو سی آئی اے کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

پیٹریئس کی سربراہی میں خفیہ آپریشنز میں اضافہ ہوا بشمول پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔