فلوریڈا بھی اوباما کے نام

آخری وقت اشاعت:  اتوار 11 نومبر 2012 ,‭ 20:37 GMT 01:37 PST

اگرچہ یہ نتیجہ حیران کن نہیں ہے، لیکن اس سے صدر اوباما کو مزید تقویت ملے گی۔

امریکی صدر براک اوباما نے ریاست فلوریڈا میں بھی صدارتی انتخاب جیت لیا ہے، جس سے انھیں اپنے حریف مٹ رومنی پر مزید برتری حاصل ہو گئی ہے۔

فلوریڈا وہ واحد ریاست تھی جہاں اب تک منگل کو ہونے والے انتخاب کے نتائج سامنے نہیں آئے تھے۔ ریاست کے جاری کردہ نتائج کے مطابق صدر اوباما نے پچاس فیصد جب کہ مٹ رومنی نے اننچاس اعشاریہ ایک فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

اب صدر اوباما نے تین سو بتیس الیکٹرل ووٹ حاصل کر لیے ہیں، جب کہ مٹ رومنی کو دو سو چھ الیکٹرل ووٹ ملے ہیں۔

ووٹوں کی اس سست رفتار گنتی کی وجہ سے سنہ دو ہزار کے انتخابات کی یادیں تازہ ہو گئیں، جب جارج بش اور ایل گور کے درمیان مقابلے میں فلوریڈا میں ووٹوں کی گنتی پر تنازع کھڑا ہو گیا تھا اور بالآخر سپریم کورٹ کو فیصلہ کرنا پڑا تھا۔

ریاست کی طرف سے جاری کردہ نتائج کے مطابق صدر اوباما نے بیالیس لاکھ چھتیس ہزار ووٹ حاصل کیے جب کہ مٹ رومنی کو اکتالیس لاکھ باسٹھ ہزار ووٹ پڑے۔ اگر ووٹوں کا فرق نصف فیصد سے کم ہوتا ہو ریاستی قانون کے تحت ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل کا شروع ہو جاتا۔

اگرچہ یہ نتیجہ حیران کن نہیں ہے، لیکن اس سے صدر اوباما کو مزید تقویت ملے گی، اور وہ کانگریس میں ری پبلکن پارٹی کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار زوئی کانوے کہتی ہیں کہ چوں کہ فلوریڈا میں بہت زیادہ تعداد میں لاطینو بستے ہیں، اس لیے اس نتیجے سے یہ پیغام مزید مستحکم ہو گا کہ ری پبلکن پارٹی کو ہسپانوی ووٹ حاصل کرنے کے لیے زیادہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

ووٹنگ کے بعد کیے جانے والے رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلا تھا کہ فلوریڈا کے کیوبا نژاد شہریوں نے ریکارڈ تعداد میں صدر اوباما اور ڈیموکریٹک پارٹی کے حق میں ووٹ ڈالے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔