نقطۂ نظر: چینی خواتین کیا چاہتی ہیں؟

آخری وقت اشاعت:  پير 12 نومبر 2012 ,‭ 20:48 GMT 01:48 PST
چین میں خواتین

ایک بار ماؤزے تنگ نے کہا تھا ’نصف آسمان عورتوں نے تھاما ہوا ہے‘ لیکن اس بات کو ایک عرصہ گزر گیا ہے۔ مصنفہ شنرین یہ جاننا چاہتی ہیں کہ چین کے انقلاب کے دوران خواتین سے جو وعدہ کیا گیا تھا کیا وہ اتنے برسوں میں وفا ہو سکا ہے۔

جس سفر پر چین انیس سو پچاس کی دہائیوں میں چل پڑا تھا اس کے لیے ایک نازک موڑ آ گیا ہے کہ اب ان کا ڈرائیور بدلے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ چین کے ڈرائیور یعنی چین کی قیادت ہمیشہ مردوں کے ہاتھ میں رہی ہے اور یہاں مردوں کے ذریعے تعمیر کیا گیا سماج ہے۔

اس زمانے سے لےکر آج تک یہ نصف آسمان عالمی سطح پر خواتین کی آزادی کے تعلق سے خود کو آزاد کرنے اور اپنا مقام تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

چین کے میڈیا میں آپ کو یہ پتا چل جائے گا کہ خواتین نے اس نصف آسمان پر اپنا دعویٰ قائم رکھا ہے۔ سب سے پہلے انھوں نے ہزار سال پرانے شادی کے قانون کے برخلاف وہ اب اپنا نام برقرار رکھ سکتی ہیں۔

وہ والدین کے ذریعے طے شادی کے بندھن سے بھی آزاد ہو چکی ہیں اور اپنی مرضی کا خاوند منتخب کر سکتی ہیں اور انھیں تعلیم حاصل کرنے کا بھی حق حاصل ہو چکا ہے اور وہ چینی مرد کے مقابلے دفاتر میں کام کرنے اور مقابلے کا حق بھی رکھتی ہیں اور ان سب سے بڑھ کر چین کے سوپر امیر طبقے کا حصہ بھی ہو چکی ہے۔

ان سب کے باوجود چین کے دیہی علاقوں میں آپ کو اس سے مختلف کہانی سنے کو ملتی ہے۔ اور یہ جگہ چین کے دارالحکومت شنگھائی کی چمک دمک سے صرف پانچ گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہے۔

چین بچے

چین کے بچے اپنی ماں سے وقت مانگتے ہیں۔

فیکٹریوں میں کام کرنے والی یہاں کی کئی لڑکیاں صرف اس لیے خوش ہیں کہ وہ ایک سو ساٹھ ڈالر ماہانہ کما لیتی ہیں جو سال بھر دیہات میں کھیتو ں میں کام کرنے کے بعد ہونے والی آمدنی سے بھی زیادہ ہے۔

لیکن گاؤں چھوڑ کر شہر آنے والی ان خواتین میں سے اکثر مائیں اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے پریشان رہتی ہیں کیونکہ یہاں تعلیم بہت مہنگی ہے اور سکول کے ایک ٹرم کے لیے سولہ سو ڈالر لگتے ہیں اور اسکول کی پالیسی یہ ہے کہ وہ مقامیوں کو ہی داخلہ دیتے ہیں۔

اس لیے ان کی مائیں یعنی دادی اور نانی ماں گاؤں میں ہی رہتی ہیں اور کاشتکاری کرتی ہیں اور اپنے پوتے پوتیوں اور ناتیوں کی تعلیم کے لیے اپنی بوڑھی ہڈیوں کا درد سہتی ہیں۔

یہ خواتین اس نئے چین کا حصہ نہیں ہیں جو شہروں میں بستا ہے اور جب وہ اپنے بچوں سے وہاں کے بارے میں سنتی ہیں تو خود کو اس سے ہم آہنگ نہیں کر پاتی ہیں۔

یہ خواتین چین کی ایک اعشاریہ تین ارب آبادی کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی زندگی دشوار ہے اور انھیں سخت مشقت کرنا پڑتی ہے۔

وہ ہر جگہ ہیں، شہروں میں دیہاتوں میں، لیکن نہیں ہیں تو حکومت کی پالیسیوں میں۔ چین کا عمدہ تعلیمی نظام ان کے لیے اندھا ہے۔

پہلے زمانے میں چین پر مردوں کی حد سے زیادہ اجارہ داری تھی۔ اتنی زیادہ کہ وہ ان کے بارے میں سوچتے تک نہیں تھے۔ اور آج کا چین اس قدر مشغول ہے کہ اسے انھیں یاد رکھنے کی فرصت نہیں۔

اسی سال میں نے اس ملک کی ایک بچے والی پالیسی کی پہلی نسل پر اپنی کتاب مکمل کی ہے۔ مجھے اس کا اختتام کرنے میں کافی دشواری پیش آئی کیونکہ ان بچوں میں ان کی ماں کی یاد نہیں ہے تاکہ ان کے خاندان کی پوری تصویر مکمل ہو سکے۔

چینی ماں

چین میں ایک بچے کی پالیسی پر عمل کیا جاتا ہے۔

یہ اس لیے کہ ان کے والدین کھانا پکانے میں اتنے مشغول تھے کہ وہ ان کی تعلیم کا حصہ نہ تھے یا وہ ان کے ساتھ نہ تھے۔ وہ بچے اتنے ہی تنہا تھے کہ وہ یہ نہیں سمجھ سکتے تھے کہ خاندان سے پیسے کے علاوہ انہیں مزید کیا ملنا چاہیۓ تھا۔

روایتی چینی ثفافت نہ صرف امریکی ڈالروں اور یوروپی لیبلوں میں گم ہو کر رہ گئی تھی بلکہ ان کے امیر بننے کی دوڑ کا بھی اس میں بڑا ہاتھ تھا۔

لیکن اس کے علاوہ اور کیا گم ہوا تھا؟ میں ریڈ چائنا میں پلی بڑی۔ میرے والدین نے سیاسی جماعت اور ملک کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا تھا۔ میرا بیٹا پنپن انیس سو اٹھاسی میں اس وقت پیدا ہوا تھا جب چین نے دنیا کے لیے اپنے دروازے کھولنے شروع کیے۔ میں اپنی ماں سے مختلف ہونا چاہتی تھی تاکہ میں اپنے بچے کو بہتر بچپن دے سکوں۔

لیکن مجھے اس وقت دھچکا لگا جب میرے بیٹے نے اپنی بارھویں سالگرہ کی شکل میں مجھ سے میرے دس منٹ مانگے۔ مجھے یاد آیا کہ میں بھی جب بارہ سال کی تھی تو اپنی ماں سے مجھے بھی اسی چیز کی خواہش تھی۔

اگر چہ ہم مختلف زمان و مکان میں پیدا ہوئے تو کیا ہوا، ہم میں محبت اور دیکھ بھال کی وہی خواہش ہے۔ میں نہیں سوچتی کہ یہ سب ایک بچے کی پالیسی کی وجہ سے ہے۔

لیکن بیس ہزار پچیس تک چین میں خواتین کے مقابلے دو کروڑ لڑکے زیادہ ہوں گے اور ایک بچے کی پالیسی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان چینی خواتین کی زیادہ اہمیت ہوگی۔

چین کے لیے خواتین کی اس لیے بھی اہمیت ہے کہ نہ صرف بچوں کو ان کی ضرورت ہے بلکہ یہ ملک کے مستقبل کے لیے بھی ضروری ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔