شام کے مارٹر حملے کے جواب میں اسرائیلی فا‏ئرنگ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 11 نومبر 2012 ,‭ 15:51 GMT 20:51 PST
گولان پہاڑی

گولان پہاڑی پر اسرائیل کا قبضہ ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف جنگ میں ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے شام کو متنبہ کرنے کے لیے فائرنگ کی ہے۔ ان کا کہنا ہے اس سے قبل شام کی جانب سے مارٹر گولے داغے گئے تھے اور گولان کی پہاڑیوں پر قائم اسرائیل کی ایک فوجی چوکی اس کی زد میں آ گئی تھی۔

یہ انیس سو تہتر کی مشرق وسطی کی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے جب اسرائیلی فوج نے شامی فوج پر فائرنگ کی ہو۔

یہ تازہ واقعہ اسرائیل کے قبضے والی گولان کی پہاڑیوں پر شام کی گولی باری کے دوران ایک گاڑی کے زد میں آجانے کے چند دنوں بعد پیش آیا ہے۔

یہ دونوں ممالک باقاعدہ طور پر جنگ کی حالت میں ہیں اور اقوام متحدہ کی فوج ان کے درمیان بفر زون میں موجود ہے۔

اس علاقے میں گشت کرنے والی اقوام متحدہ کی فوج کے ذریعے اسرائیل کی دفاعی فوج (آئی ڈی ایف) نے یہ شکایت درج کی ہے کہ شام سے اسرائیل میں آنے والی گولیوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے اور ’اس کا سختی کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔‘

پوسٹ۔۔۔

"اسرائیل۔ شام کی سرحد کے قریب شام کی اندرونی جنگ کے سبب گولان کی پہاڑیوں پر آئی ڈی ایف کی ایک فوجی چوکی مارٹر فائرنگ کی زد میں آگئی"

آئی ڈی ایف نے اپنی ویب سائٹ پر ہفتے کو پوسٹ کیا ہے کہ ’اسرائیل۔ شام کی سرحد کے قریب گولان کی پہاڑیوں پر آئی ڈی ایف کی ایک فوجی چوکی مارٹر فائرنگ کی زد میں آگئی تھی۔‘

اس میں کسی جانی نقصان یا کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے لیکن جواب میں ’آئی ڈی ایف کے فوجیوں نے شام کے علاقے کی جانب وارننگ کے طور پر فائرنگ کی۔‘

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتےشام کے تین ٹینک باغیوں سے جنگ کرتے ہوئے غیر فوجی بفر علاقے میں داخل ہو گئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ کی فوج سے شکایت کی تھی اور ملٹری چیف آف سٹاف بینی گانٹز نے گولان کا دورہ کیا اور فوج کو چوکس رہنے کے لیے کہا کہ وہ شام میں جاری جنگ کو سرحد پار آنے سے باز رکھیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔