ابو قتادہ کی برطانیہ سے ملک بدری منسوخ

آخری وقت اشاعت:  پير 12 نومبر 2012 ,‭ 17:18 GMT 22:18 PST

اس سے پہلے اسی سال کے آغاز میں ایک یورپی عدالت نے سٹریبرگ میں فیصلہ کیا تھا کہ اگر ابو قتادہ کو اردن بھیجا جائے گا تو انھیں کسی برے رویے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا

مذہبی مبلغ ابو قتادہ کی جانب سے خصوصی امیگریشن کمیشن میں دائر اپیل کی کامیابی کے بعد انہیں ملک بدر کر کے اردن بھیجنے کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

ان کی اپیل کی کامیابی کی بنیاد ان کے وکلاء کا موقف تھا کہ اردن میں ان کا مقدمہ غیر جانبدار نہیں ہو سکتا۔ ابو قتادہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اردن میں بم حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

برطانوی سیکرٹری داخلہ کو اردن کے حکام نے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ ابو قتادہ کے مقدمے میں ایسے شواہد استعمال نہیں کیے جائیں گے جو کہ تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے ہوں۔

"ہمیں نہ صرف ان کے ساتھ رویے کے بارے میں بلکہ ان کے مقدمے کے معیار کے سلسلے میں بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ چنانچہ ہم اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی کوشش کریں گے"

برطانوی وزارتِ داخلہ

ابو قتادہ کے وکیل ایڈورڈ فیٹزجیرلڈ نے ان کی فوری رہائی کے لیے ضمانت کی درخواست دے رکھی ہے۔ ابو قتادہ جن کا اصل نام عمر عثمان ہے اور ورسسٹشائر کے لونگ لارٹن جیل میں زیرِ حراست ہیں۔

ایڈورڈ فیٹزجیرلڈنے عدالت کو بتایا کہ ایک قانونی ملک بدری کا مناسب وقت میں معقول امکان نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا ’اس بات کا کوئی جواز نہیں کہ عمر عثمان کو قید رکھا جائے۔ بہت ہو چکا ہے اور یہ کئی سال سے جاری ہے۔‘

ُادھر وزارتِ داخلہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں نہ صرف ان کے ساتھ رویے کے بارے میں بلکہ ان کے مقدمے کے معیار کے سلسلے میں بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ چنانچہ ہم اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

بی بی سی کے داخلہ امور کے نامہ نگار ڈومنک کاسیانی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد داخلہ سیکرٹری تھیریسا مئے ایک نئی طرز کے قانونی مسائل میں الجھ گئی ہیں۔ ’یہ فیصلہ ان کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔‘

ہمارے نامہ نگار نے مزید بتایا کہ عدالت ابو قتادہ کی ضمانت کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔

’منظوری کی صورت میں اس بات کا بہت امکان ہے کہ یہ ضمانت انتہائی مشروط ہو اور ان کی آمدو رفت اور روابط پر شدید پابندیاں ہوں۔‘

اس سے پہلے اسی سال کے آغاز میں ایک یورپی عدالت نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر ابو قتادہ کو اردن بھیجا جائے گا تو انھیں کسی برے رویے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور اردن کے درمیان ابو قتادہ کے ساتھ ہونے والے رویے کے بارے میں معاہدہ ٹھیک ہے اور وہ اس سلسلے میں یورپی قوانین کے معیار پر پورا اترتا ہے۔

فلسطین میں پیدا ہونے والے اور اردن کے شہری ابو قتادہ کو مجاہدین کا روحانی قائد کے طور پر بیان کیا گیا ہے

تاہم پیر کو برطانوی عدالت نے اس وجہ سے ابو قتادہ کے غیر جانبدار مقدمے کے امکان کو رد کر دیا کیونکہ اردن میں عدالت وہ شواہد استعمال کر سکتی ہے جو کہ تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے ہوں۔

ابو قتادہ پر الزام ہے کہ انھوں نے سنہ انیس سو اٹھانوے اور انیس سو ننانوے میں مغربی اور اسرائیلی نشانوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی۔ انیس سو ننانوے میں اردن میں ان کی غیر موجودگی میں انہیں دہشت گردی کا مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔

فلسطین میں پیدا ہونے والے اور اردن کے شہری ابو قتادہ کو مجاہدین کے روحانی قائد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کا ماننا ہے کہ انھوں نے خودکش حملوں کو نظریاتی طور پر پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

سنہ دو ہزار ایک سے انھیں برطانیہ میں کئی بار زیرِ حراست رکھا گیا ہے تاہم ان کے خلاف کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔