شام: معاذ الخطیب متحدہ حزب اختلاف کے سربراہ

آخری وقت اشاعت:  پير 12 نومبر 2012 ,‭ 13:42 GMT 18:42 PST

شیخ معاذ انیس سو ساٹھ میں پیدا ہوئے اور ان کی عمر باون سال ہے

مغربی ممالک، قطر اور ترکی نے شام کے صدر کے خلاف حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے متحدہ محاذ کی تشکیل کا خیر مقدم کیا ہے۔

شام کی انقلابی اور حزبِ اختلاف کی فورسز کے قومی اتحاد کا اعلان دوحہ میں اتوار کے روز کیا گیا۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے ایک بیان میں کہا ’ہم اس قومی اتحاد کے حمایت کریں گے کیونکہ اس کا مقصد بشار الاسد کے خونی اقتدار کا خاتمہ اور ایک پرامن اور صرف جمہوری مستقبل کا آغاز ہے۔ جس کی تمام شامی اقوام مستحق ہیں‘۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ یہ قدم ایک نمائندہ حزبِ اختلاف بنانے میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ لارینٹ فیبس کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد اپنے مقصد کی بین الاقوامی پہچان کو قائم رکھے گا۔

شامی حزبِ اختلاف کے اتحاد کے بڑے علاقائی حمایتی قطر نے بھی اس اقدام کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ قطر نے ہی اس اتحاد کے لیے مذاکرات کا اہتمام کیا تھا۔

دریں اثناء شامی فضائیہ کے جہازوں ترکی کی سرحد کے قریب قیو راس العین کے علاقے میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

حملے میں جیٹ طیاروں کو ہیلی کاپٹرز دونوں کا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے علاقے کے شہریوں کو ترکی کی جانب نقل مکانی کرنا پڑی۔ حملے میں ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف طویل لڑائی میں اب تک مبصرین اور حزبِ اختلاف کے کارکنوں کے مطابق چھتیس ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں لوگوں کو ہمسایہ ریاستوں میں نقل مکانی کرنا پڑی۔

متحدہ حزب اختلاف کے نئے سربراہ

قطر میں ہونے والے ان مزاکرات کے مندوبین پر عالمی برادری خاص طور پر امریکہ کی جانب سے ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ تھا

شام کے ایک سنی عالم معاذ الخطیب کو نئی متحدہ حزب اختلاف کے سربراہ کے طور پر منتخب کر لیا گیا ہے۔

معاذ الخطیب سنی فرقہ سے تعلق رکھنے والے دمشق کی امیّہ مسجد کے سابقہ امام ہیں جنھوں نے جولائی میں شامی حکام کی تحویل سے رہا ہونے کے جلا وطنی اختیار کر لی تھی۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک متوازن سوچ کے حامل فرد ہیں۔

اس سے قبل شامی حزب اختلاف کے مختلف دھڑوں نے مل کر ایک متحدہ محاذ بنانے پر اتفاق کیا تھا تاکہ صدر بشار الاصد کی حکومت کا خاتمہ کیا جا سکے۔

ان تمام مخالف دھڑوں پر امریکہ اور دوسرے ممالک کی جانب سے دباؤ تھا کہ وہ معاہدے پر اتفاق کریں جس کے نیتجے میں ایک متحدہ محاذ تشکیل دیا جاسکے۔

شیخ معاذ انیس سو ساٹھ میں پیدا ہوئے اور ان کی عمر باون سال ہے اور دمشق چھوڑنے سے پہلے ان کو کئی بار شامی حکام نے اپنی تحویل میں رکھا۔

ان کے والد بھی اسی مسجد کے امام تھے جس کی امامت بعد میں ان کے حصے میں آئی۔

شیخ معاذ نے اپنے انتخاب کے بعد عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شام کے حوالے سے ’اپنے وعدے‘ پورے کرے۔

ماضی میں وہ تنازعے کے پر امن حل کی بات کرتے رہے ہیں اور یہ خواہش بھی ظاہر کرتے رہے کہ اس تنازعے کے خاتمے کے بعد شامی عوام متحد رہیں۔

قطر میں یہ بھی اتفاق کیا گیا کہ اس نئے متحدہ محاذ کا نام نیشنل کولیشن آف اپوزیشن فورسز اینڈ دی سیرین ریولوشن یعنی شامی حزب اختلاف اور انقلاب کا قومی اتحاد ہو گا۔

اس محاذ کی تشکیل کے لیے بات چیت ہفتہ بھر تک قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری رہی۔

مسلک کے اعتبار سے سنی معاذ الخطیب دمشق کی امیہ مسجد کے امام تھے

اس محاذ کے دو نائب صدر ہوں گے جن میں سے ایک ریاض سیف اور ایک نمایاں سیکولر انسانی حقوق کے کارکن سہیر العتاسی ہوں گے۔

ریاض سیف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امریکہ کے پسندیدہ امیدوار ہیں اور اس عہدے کے لیے ان کا نام بہت زیادہ لیا جاتا رہا ہے۔

بیروت سے بی بی سی کے جم میوئر نے کہا کہ اس اتحاد کے رہنما ایک متوازن فکر ہیں۔

اس سے پہلے شام کی حزب اختلاف کے طور پر جانے جانے والے گروہ شامی نیشنل کونسل نے اس بارے میں ان تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ انھیں بھی شاید اس نئے اتحاد میں ایک جانب دھکیل دیا جائے گا۔

ان مذاکرات میں شامل ذرائع نے بتایا کہ شامی نیشنل کونسل نے معاہدے پر دستخط دباؤ میں کیے اور انھیں دستخط کرنے کے لیے اس انتباہ کے ساتھ وقت دیا گیا تھا کہ اگر وہ دستخط نہیں کریں گے تو انھیں اس عمل سے باہر رکھا جائے گا۔

اس محاذ کی تجویز ریاض سیف نے دی تھی جنھیں امریکہ کی حمایت بھی حاصل تھی۔

ان مذاکرات کے نتیجے میں تشکیل دیے گئے نئے اتحاد میں شامی حزب اختلاف کے مختلف گروہوں کے ساٹھ نمائندے شامل ہیں۔

ان ساٹھ نمائندوں میں کرد، عیسائی، علوی اور خواتین کے نمائندوں کے علاوہ شامی نیشنل کونسل کے لیے بائیس نشستیں مختص کی گئی ہیں۔

اس نئے محاذ کی ایک فوجی کونسل ہو گی جس میں فری سیرین آرمی بھی شامل ہو گی۔

ترکی کے وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو جو ان مذاکرات کے اختتام پر دوحہ میں تھے کہا کہ اب عالمی برادری کے پاس اس شامی حزب اختلاف کو تسلیم نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

دوسری طرف سنیچر کو شام اور اسرائیل کے درمیان پہلی بار انیس سو تہتر کی جنگ کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

اسرائیل اور شام کے درمیان اب بھی کشیدگی پائی جاتی ہے جسے تکنیکی طور پر حالت جنگ کہا جا سکتا ہے اور اقوام متحدہ کی افواج دونوں ممالک کے درمیان ممنوعہ علاقے میں گشت کرتی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔