مالی میں فوج بھیجنے کا فیصلہ

آخری وقت اشاعت:  پير 12 نومبر 2012 ,‭ 05:31 GMT 10:31 PST

مغربی افریقہ کے رہنما مالی کے شمال میں شدت پسندوں کے خلاف فوج بیجنے پر متفق ہو گئے

مغربی افریقہ کے علاقائی رہنما مالی میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف تینتیس ہزار فوج بھیجنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

فوج بھیجنے کا مقصد مالی کے شمالی علاقوں کو اسلامی شدت پسندوں سے آذاد کرانا ہے۔

اکنامک کمیونٹی آف ویسٹ افریقن سٹیٹس یامغربی افریقہ کے ممالک کی اقتصادی تنظیم کے چئیرمین نے ایک سربراہ اجلاس میں کہا کہ ان کی تنظیم دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کی نیٹ ورک ختم کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

نائجیریا، نائجر اور بورکینا فاسو اس مشن کے لیے فوجی فراہم کریں گے۔

واضح رہے کہ اسلامی گروہوں اور طورگ باغیوں نے مارچ میں مالی کے صدر کی حکومت کا تختہ الٹ دینے کے بعد ملک کے شمالی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔

آئیوری کوسٹ کے صدر آلاسانی کوٹارہ نے نائجیریا کے دارلخلافہ ابوجا میں صحافیوں کو بتایا کہ جیسے ہی اقوام متحدہ عسکری حکمت عملی کےمنصوبے کی منظوری دے دیگی تو فوج بھیج دی جائے گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اس منصوبے کی نومبر کے آخر یا دسمبر کے اوائل میں منظوری دے دیگی۔

اقوام متحدہ کی تنبیہ

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ شدت پسندوں نے اپنے زیر اثر علاقوں میں سخت گیر اسلامی شریعت نافذ کر دی ہے جہاں زبردستی کی شادی، زبردستی کی جسم فروشی اور زنا بالجبر کے واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹر نے مالی کے ایک عسکری ذریعے سے بتایا کہ یہ فوجی حکمت عملی چھ مہنیے پر محیط ہے۔

پہلے مرحلے میں ملک کے جنوب میں تربیت ہوگی اور فوجی اڈے بنائے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں ملک کے شمالی علاقے میں فوجی کارروائی کی جائے گی۔

اقوام متحدہ نے افریقی ممالک کے سربراہان کو فوجی حکمت عملی بنانے کے لیے بارہ اکتوبر سے پینتالیس دن کی مہلت دی تھی۔

ایک بیان میں مغربی افریقہ کے رہمناؤں نے کہا کہ مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دی گئی لیکن شاید شدت پسندوں اور باغیوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے طاقت کا استعمال ضروری ہوگا کیوں کے ان شدت پسندوں سے بین الاقوامی امن کو خطرہ لاحق ہے۔

بیرونی ممالک مالی کے مسئلے کو ختم کرنے کے طریقہ کار پر متفق نہیں ہیں۔

اتوار کو فرانس کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر مالی کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تو یہ علاقہ دہشت گردوں کی آماجگاہ بن جائے گا۔

فرانس کی وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردوں سے فرانس اور پورے یورپ کی سلامتی کو خطرہ ہے اور فرانس مالی میں فوجی کشی کی حمایت کرے گا۔

انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان دہشت گردوں سے فرانس اور پورے یورپ کی سلامتی کو خطرہ ہے۔

فرانس نے کہا کہ وہ مالی میں فوجی کشی کی حمایت کرے گا لیکن اس کے لیے فوجی قوت مہیا نہیں کرے گا۔

لیکن دوسری طرف الجزائر کے صدر کے ایک مشیر نے کہا کہ مالی میں فوج کشی کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

خبررساں ادارے اے پی نے الجزائر کے صدر کے سلامتی کے مشیر کمال رزاق بارہ کے حوالے سے بتایا کہ یہ مالی کا داخلی معاملہ ہے اور اس کو بین الاقوامی مسئلہ بنانے کی ضرورت نہیں۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ شدت پسندوں نے اپنے زیر اثر علاقوں میں سخت گیر اسلامی شریعت نافذ کر دی ہے جہاں زبردستی کی شادی، زبردستی کی جسم فروشی اور زنا بالجبر کے واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔