کمیونسٹ پارٹی کانگریس میں نئی قیادت

آخری وقت اشاعت:  منگل 13 نومبر 2012 ,‭ 14:13 GMT 19:13 PST
سالہ ژی جن پنگ

مسٹر ژی جن پنگ اس وقت بھی سٹینڈنگ کمیٹی کے رکن اور پانچویں نسل میں سرِفہرست ہیں اور بتدریج صدر ہوجنتاؤ کے اختیارات اور عہدہ سنبھالیں گے

انہوں نے کبھی کسی الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ عالمی معیشت اور عالمی حدت کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور چینیوں کی اکثریت ان سے زیادہ ان کی اہلیہ کو پہچانتی ہے جو لوک گلوکارہ ہیں۔

اس کے باوجود انسٹھ سالہ ژی جن پنگ چین کی سب سے زیادہ بااختیار شخصیت اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما بننے والے ہیں جس کا انتخاب پارٹی کی کانگریس ہر دس سال بعد کرتی ہے۔

چین میں انتقالِ اقتدار کا خفیہ عمل ہمیشہ بےیقینی اور کشیدگی کو ہوا دیتا ہے لیکن اب جبکہ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے اور سپرپاور بننے کے مرحلے میں ہے اس کی نئی قیادت کی سوچ بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

چین کو بھی بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ بعض تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ چین کا وہ معاشی ماڈل جس نے اگرچہ بھاری ماحولیاتی اور سماجی قیمت لی ہے لیکن تیزتر پیداوار میسر کی اب غیرپائیدار ہو چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یک جماعتی نظام وقت سے وابستہ مفادات کا سامنا کر سکے گا اور درکار اصلاحات لا سکے گا۔

بےلاگ بات کرنے والے ایک ماہرِ معاشیات ماؤ یوشی کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں تو انتہائی مشکل ہے، اگر حکومت اختیارات کا ناجائز استعمال کرتی ہے تو لوگوں کے پاس اس کا جائزہ لینے کا اختیار ہی نہیں ہے، یہاں تک کہ جو معلومات ملتی ہیں وہ تک شفاف نہیں ہوتیں اور قیادت کے اندرونی دائرے کے بارے میں تو ہماری معلومات انتہایی کم ہیں‘۔

صدر ہو جنتاؤ کی رہنمائی میں چین کی موجودہ قیادت 2002 سے برسرِ اقتدار ہے اور 1949 میں کمیونسٹ پارٹی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پارٹی کی چوتھی نسل کے طور پر جانی جاتی ہے۔

اس نسل کی قیادت اس لیے الگ ہو رہی ہے کہ پارٹی اپنے رہنماؤں کے لیے متعین عمر کی حدود پر سختی سے کاربند ہے۔ سب سے زیادہ بااختیار پولٹ بیورو کی سٹینڈنگ کمیٹی کے نو میں سے سات ارکان اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ اپنے عہدوں پر فائز نہیں رہ سکتے۔

مسٹر ژی جو اس وقت بھی سٹینڈنگ کمیٹی کے رکن اور پانچویں نسل میں سرِفہرست ہیں اور بتدریج صدر ہوجنتاؤ کے اختیارات اور عہدہ سنبھالیں گے۔

پہلی نظر میں تو یہ ایک انتہائی پُرکشش وراثت ہے۔ صدر ہو کے اقتدار کی دہائی میں چین کی معیشت نے 10 فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی کی ہے اور لاکھوں کو غربت سے نکالا ہے۔

لیکن اس ترقی کے خود اپنے بھی مسائل ہیں۔ اس کے نتیجے میں معیشت کا تمام تر انحصار حکومتی سرمایہ کاری اور حکومتی ملکیت میں چلنے والے اداروں پر ہو گیا ہے اور عالمی بینک جیسے ادارے بھی کہنے لگے ہیں کہ چین میں اب نجی شعبے کو بھی فروغ کا موقع ملنا چاہیے۔

چین میں امیروں اور غریبوں کا فرق بہت نمایاں ہے اور اب چین میں ایسے بھی لوگ ہیں جو ارب پتی ہیں اور پندرہ کروڑ ایسے بھی ہیں جن کی آمدنی محض ایک ڈالر یومیہ ہے۔ حکومت نے اگرچہ صحت کی سہولتوں کو بھی توسیع دی ہے اور لاکھوں لوگوں کو پینشن بھی دی جاتی ہے لیکن مستقبل میں چینی معیشت کے لیے بہت بڑے بڑے چیلنج ہیں جن میں سب سے اہم معاملہ یہ ہے کہ اس کی آبادی میں عمرسیدہ لوگوں کا تناسب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ناقدین خاص طور پر سیاسی اصلاحات کے نہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ لوگ اگرچہ قدرے آزاد ہیں اور انفرادی طور پر اور بلاگز میں اپنی رائے کا اظہار کر لیتے ہیں لیکن اب بھی ہر اہم ملازمت کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور اسے لوگوں کو چپ کرانا بھی آتا ہے۔ اس کے علاوہ اندرونی سلامتی پر آنے والے اخراجات دفاعی اخراجات سے زیادہ ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کو کس کا خوف زیادہ ہے؟

امیدیں اور خوف

مسٹر ژی کو مختلف ثابت ہونا ہوگا۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خِیال ہے کہ وہ نسبتًا کم عمر ہیں اور ایک اعلٰی اہلکار کی اولاد ہونے کی وجہ سے انہیں جو ’شہزادوں‘ سی پرورش ملی ہے اس کی وجہ سے وہ مغرب کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں، چیزوں کو آسان لیتے ہیں اور خوداعتمادی رکھتے ہیں۔

مسٹر زی سے ملاقات

"ان میں رہنمائی کی فطری صلاحیت ہے، اگر انہیں ایک ایسے کمرے میں بھیج دیا جائے جس میں لوگ بھرے ہوں تو وہ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں پر چھا جائیں گے"

سن زی، سنگھوا یونیورسٹی

سنگھوا یونیورسٹی کی سن زی کی مسٹر ژی سے ملاقات ہوئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان میں رہنمائی کی فطری صلاحیت ہے، اگر انہیں ایک ایسے کمرے میں بھیج دیا جائے جس میں لوگ بھرے ہوں تو وہ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں پر چھا جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ژی ایک انتہائی مختلف شخصیت ثابت ہوں گے اور سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ وہ سب کو پسند آنے والی شخصیت ہیں۔

کانگریس کے اجلاس سے پہلے اس طرح کی افواہیں بھی سامنے آئیں کہ مسٹر ژی اصلاحات کے ماہرین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں کبھی سرِعام اس طرح کی کوئی بات نہیں کی جس سے ان کے کسی منصوبے کے بارے میں کوئی پتا چل سکے خاص طور پر کوئی اسی بات جو ان کے خلاف استعمال کی جا سکے۔

مسٹر سن کا کہنا ہے کہ کسی نہ کسی طرح کی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ’جو چینی 1979 کے بعد پیدا ہوئے ہیں وہ عوامی امور کا اس طرح چلایا جانا برداشت نہیں کریں گے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ مغربی طرز کی سیاست کی توقع نہ کریں لیکن ہم کچھ سیاسی مہارتیں سیکھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ مثلاً ذرائع ابلاغ کو حکومت پر نظر رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ آپ کو یک جماعتی جمہوریت کا تجربہ ہو سکتا ہے جیسے کہ روس پوتین کے دور میں تھا۔

لیکن کچھ اور لوگ ہیں جنہیں اس پر یقین نہیں آتا کہ مسٹر ژی جن کی تربیت ہی کمیونسٹ پارٹی میں ہوئی ہے، کچھ تبدیلیاں لانے کے بارے میں سوچتے ہوں گے۔

مسٹر ماؤ کا کہنا ہے کہ نئی نسل بنیادی تبدیلیاں نہیں لا سکتی کیونکہ نئے لیڈروں کا انتخاب پرانے لیڈر کرتے ہیں اور وہ لازمًا کمیونسٹ پارٹی ہی کا اقتدار چاہتے ہیں۔

شہری حقوق کے سرگرم کارکن لی فان کا کہنا کہ مسٹر ژی کی نسل کا انداز مختلف ہو گا لیکن وہ لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

وہ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ لوگوں کو ویب سائٹس پر کچھ آزادی دے دیں، بلدیاتی حکومتوں کی بات زیادہ کریں۔ لیکن مسائل اتنے ہیں کہ اس طرح کی پالیسیاں زیادہ چلنے والی نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ نئی حکومت اچھی ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہوگی کہ نئے رہنما جمہوریت کو ٹالنے کی کوشش کر رہے ہوں گے۔

تضادات

"اگر آپ چینی معیشت میں نیا توازن پیدا کرنے کی کوشش کریں گے تو یقینی طور پر آپ خطرہ مول لیں گے"

سٹیوتسانگ، نوٹنگھم یونیورسٹی

چین کا بھی سیاسی نظام تبدیل ہو چکا ہے۔ ماضی میں ماؤزے تنگ اور دنگ سیاؤ پنگ جیسے پُرکشش رہنما قوم کے راستے کا تعین کرتے تھے۔ لیکن آج کی قیادت کہیں زیادہ رضامندانہ ہے۔ مسٹر ژی کو مختلف دھڑوں کے مابین توازن پیدا کرنا ہوگا۔ کم از کم شروع میں تو ان کے پاس زیادہ مواقع بھی نہیں ہوں گے۔ سبکدوش ہونے والے رہنماؤں کا بھی اثر و نفوذ ہو گا اور اس کا بھی خیال کرنا ہوگا۔

درحقیقت کچھ تـجزیہ کار تو یہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی نظام اتنا بدل چکا ہے کہ پارٹی کی بیوروکریسی انتہائی محتاط منتظم کو ہی ترجیح دے گی۔ کوئی مسٹر ہو جیسا محتط منتظم جو جو بڑی اصلاحات بھی نہ کرے اور پارٹی کے اندر مفادات رکھنے والے طاقتوروں اور حکومتی صنعتوں کا بھی خیال رکھ سکے۔

نوٹنگھم یونیورسٹی کے سٹیوتسانگ کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ چینی معیشت میں نیا توازن پیدا کرنے کی کوشش کریں گے تو یقینی طور پر آپ خطرہ مول لیں گے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ملک کی قیادت کے تقاضوں اور نظام کی حاصلات کے درمیان کچھ وراثتی تضادات ہیں‘۔

چینی کمیونسٹ پارٹی خود کو اقتدار میں رکھنے کے لیے ایک طویل عرصے سے خود کو کامیابی سے صرف کر رہی ہے۔

اگر مسٹر ژی عدم مساوات، بدعنوانی اور لوگوں کی تشویش پر بھر پور توجہ دیں گے تو 2022 میں اقتدار انتہائی اطمینان سے اپنے جانشین کو منتقل کر سکیں گے۔

لیکن ہر نسل کے رہنماؤں کو آنے والی ایک نسل کی توقعات وراثت ہوتی ہیں اس لیے اگر پارٹی اقتصادی اصلاحات نہیں کرے گی تو تیزتر سیاسی اصلاحات کے مطالبوں کی آواز اور بلند ہو جائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔