مالیاتی بحران: یورپ بھر میں احتجاجی مظاہرے

آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 نومبر 2012 ,‭ 15:48 GMT 20:48 PST

بدھ کو ہونے والے ان مظاہروں میں تیئیس ممالک کے چالیس گروپ شامل ہیں

یورپی یونین میں شامل ممالک میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور حکومتوں کی جانب سے کفایت شعاری کے اقدامات کے خلاف مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سپین اور پرتگال میں عام ہڑتالوں کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کا نظام اور کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے اور میڈرڈ میں مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

یونان، اٹلی اور بیلجیئم میں بھی چھوٹے پیمانے پر ہڑتالیں ہوئی ہیں جبکہ دیگر ممالک میں بھی احتجاج ہوا ہے۔

سپین اور پرتگال میں ہڑتال کی وجہ سے سینکڑوں پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔

ہڑتالوں اور مظاہروں کے اس تازہ سلسلے کا انتظام یورپی ٹریڈ یونین کنفیڈریشن نے کیا ہے اور بدھ کو ہونے والے ان مظاہروں میں تیئیس ممالک کے چالیس گروپ شامل ہیں۔

کنفیڈریشن کی نمائندہ جوڈتھ کرٹن ڈارلنگ کا کہنا ہے کہ کفایت شعاری کے اقدامات کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اس سے معاشرے میں تفاوت، عدم استحکام بڑھ رہا ہے اور اس سے اقتصادی بحران بھی حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا‘۔

سپین اور پرتگال میں یونینز نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات ہڑتال اور مظاہرے شروع کیے۔ اس وقت سپین میں بیروزگاری کی شرح پچیس فیصد ہے جو کہ یورپ میں سب سے زیادہ ہے۔

میڈرڈ میں مظاہرے میں شامل ایک خاتونِ خانہ پیکوئی اولمو کا کہنا تھا کہ ’میرے دو بیٹے ہیں۔ ایک کو حکومتی مدد مل رہی ہے جبکہ دوسرا تین برس سے گھر بیٹھا ہے۔ ایسا نہیں کہ وہ کام نہیں کرنا چاہتا بلکہ کام ہے ہی نہیں‘۔

پرتگال میں احتجاج میں شامل افراد نے یورپی یونین، آئی ایم ایف اور یورپی مرکزی بینک کے خلاف کتبے اٹھا رکھے تھے۔ ان تینوں اداروں نے پرتگال کو اٹھہتر ارب ڈالر کی امداد دی ہے جس کے بدلے وہ حکومت سے سخت کفایت شعاری کے اقدامات کے متقاضی ہیں۔

لزبن میں موجود بی بی سی کے کرس مورس کے مطابق ہڑتال کی وجہ سے شہر میں ٹرانسپورٹ کا نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اور بہت سے دفاتر اور سکول بند ہیں۔

اٹلی میں یونینز چار چار گھنٹے کی ہڑتال کر رہی ہیں جبکہ یونان میں یہ گزشتہ دو ماہ میں تیسری بڑی ہڑتال ہے۔

ایتھنز پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں بدھ کو دس ہزار کے قریب افراد مظاہروں میں حصہ لیں گے جو کہ یونانی پیمانوں کے لحاظ سے زیادہ بڑے مظاہرے نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔