افغانستان: بم دھماکے میں سترہ باراتی ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 16 نومبر 2012 ,‭ 17:22 GMT 22:22 PST

زخمیوں کو صوبہ فرح کے ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔

مغربی افغانستان میں ایک بس کے سڑک پر نصب بم سے ٹکرانے کے باعث ہونے والے دھماکے میں سترہ باراتی ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہلاک شدگان میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل ہیں۔ یہ افراد ایک بارات میں شامل منی بس میں سوار ہو کر دولھا اور دلھن کی گاڑی کے پیچھے ایک قافلے کی شکل میں جا رہے تھے۔

واقعہ مغربی صوبے فراح میں پیش آیا اور زخمی ہونے والے افراد کو مقامی ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔

افغان پولیس نے کہا کہ صوبہ فراح میں ہونے والے اس حملے میں طالبان کا ہاتھ ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اس سال کے پہلے چھ مہینوں میں ایک ہزار سے زائد افغان شہری مارے گئے ہیں۔

ان میں سے اکثریت سڑک پر نصب بموں کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نیٹو افواج کے خلاف اس قسم کے حملوں کو ترجیح دیتے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر اوقات ان سڑکوں پر سفر کرنے والے شہری نشانہ بن جاتے ہیں۔

اتوار کو ہلمند صوبے میں نیٹو افواج کے ہاتھوں سڑکوں پر بم نصب کرنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن میں تین شہری مارے گئے تھے۔ نیٹو نے اس حادثے کے لیے معافی مانگ لی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔