’غزہ کی صورتحال تباہ کن ہے‘، مصری وزیرِ اعظم

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 16 نومبر 2012 ,‭ 12:22 GMT 17:22 PST

ہشام قندیل نے اس موقع پر فلسطینی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں

مصر کے وزیر اعظم ہشام قندیل نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت بند ہونی چاہیے۔

مصری وزیرِ اعظم نے غزہ میں کونسل آف منسٹرز کی عمارت کا دورہ کیا جہاں انہوں نے فلسطینی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔

وہ ایک ہسپتال میں بھی گئے جہاں اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے والے لوگوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا’جو کچھ میں غزہ میں دیکھ رہا ہوں وہ ایک تباہی ہے، میں اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ اسرائیلی جارحیت کو ہر صورت بند ہونا چاہیئے‘۔

ہشام قندیل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مصر جنگ بندی کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا۔

مصر میں رواں برس اسلام پسند رہنما محمد مرسی کے صدر منتخب ہونے کے بعد حماس اور مصر کے درمیان تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔

حماس تنظیم دراصل اخوان المسلمون کی ہی ایک شاخ ہے جس سے صدر مرسی کا تعلق ہے۔

"جو کچھ میں غزہ میں دیکھ رہا ہوں وہ ایک سانحہ ہے، میں اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ اسرائیلی جارحیت کو ہر صورت رکنا چاہئیے۔ "

مصری وزیرِ اعظم ،ہشام قندیل

اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ مصری وزیرِ اعظم کے دورے کے دوران حملے روک دے گا اگر اس دوران فلسطینی عسکریت پسندوں نے بھی راکٹ داغنا روکے رکھے۔ تاہم اسرائیل نے ہشام قندیل کے اس دورے کے فوری بعد فضائی حملوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع کر دیا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں میں گذشتہ رات اضافہ ہوا جبکہ اسرائیلی حکومت نے تیس ہزار کے قریب ریزروز فوجیوں کو حاضر ہونے کا حکم دے دیا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں رات بھر ایک سو تیس مقامات کو نشانہ بنایا ہے اور رات کو غزہ سے گیارہ راکٹ اسرائیل پر پھینکے گئے۔

حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل نے ہوائی حملہ کر کے حماس کے اعلیٰ فوجی رکن احمد جباری اور ان کے نائب کو ہلاک کر دیا۔

اس کے بعد بدھ سے شروع ہونے والے اسرائیل کے ہوائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم بیس فلسطینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

فلسطینی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں شدت پسند، عام شہری اور پانچ بچے بھی شامل ہیں۔

ان ہلاک شدگان میں بی بی سی عربی کے ایک صحافی جہاد مشراوی کے گیارہ ماہ کا کم سن بیٹا عمر بھی شامل ہے۔

بی بی سی عربی کے جہاد مشراوی اپنے گیارہ ماہ کے بیٹے عمر کی لاش کے ساتھ جو ایک اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوا۔

دوسری جانب اب تک تین اسرائیلی، فلسطینی راکٹ حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیلی باشندے اس وقت ہلاک ہوئے جب کیرات ملاچی نامی قصبے میں ایک چار منزلہ عمارت راکٹوں کا نشانہ بنی۔ہلاک ہونے والوں میں دو عورتیں اور ایک مرد شامل ہیں۔

حکومت کی طرف سے تیس ہزار فوجی بلانے کے بعد اسرائیلی فوج نے جمعہ کو سولہ ہزار فوجیوں کی تعیناتی شروع کر دی ہے۔

تاہم غزہ میں ہمارے نامہ نگار جان ڈونیسن کا کہنا ہے کہ ابھی تک زمینی کارروائی شروع ہونے کے امکانات نظر نہیں آتے۔

مصری وزیر اعظم ہشام قندیل نے جمعہ کو اظہار یکجہتی کے لیے غزہ کا دورہ کیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتنیاہو نے کہا تھا کہ اگر ہشام قندیل کے دورے کے دوران غزہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ نہ پھینکے گئے تو اسرائیلی حملے روک دیے جائیں گے۔

لیکن مصری وزیر اعظم کے غزہ پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد اسرائیلی اور اور فلسطینی حکام نے ایک دوسرے پر عارضی جنگ بندی ختم کرنے کے الزامات لگانا شروع کئے۔

جب ہشام قندیل غزہ کے ہسپتال میں تھےتو امدادی کارکن ایک مرد اور ایک لڑکے کی لاشیں لے کر آئے جس کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ تھوڑی ہی دیر پہلے اسرائیل کے فضائی حملے کا نشانہ بنے۔

جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سے لے کر صبح ہونے تک غزہ شہر اسرائیلی حملوں کے دھماکوں سے گونجتا رہا۔

فلسطینی راکٹ بھی اسرائیلی شہروں پر گرائے گئے جن میں حماس کے مطابق انہوں نے تین سو پچاس راکٹ غزہ سے پھینکے جن میں سے ایک سو تیس اسرائیل کے میزائیل دفاعی نظام نے روک لیے۔

تل ابیب میں جمعرات کو ہوائی حملوں سے خبردار کرنے کے لیے سائرن بجائے گئے اور شہریوں نے محفوظ مقامات پر پناہ بھی لی۔

واضح رہے کہ سنہ انیس سو اکانوے میں خلیجی جنگ کے دوران اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین کی حکومت کی جانب سے اسرائیلی شہر تل ابیب پر داغے جانے میزائلوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ تل ابیب کو میزائلوں کے خطرے کا سامنا ہے۔

اسلامک جہاد کے مسلح گروہ نے بتایا کہ انہوں نے ایران کا تیار کردہ فجر۔پانچ راکٹ داغا جس کی حد پچھتر کلومیٹر تک ہے۔

غزہ کی جانب سے اسرائیل پر کئی راکٹ داغے گئے جن کے نتیجے میں تین اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق انہوں نے غزہ کے مختلف علاقوں میں پمفلٹ پھینکے ہیں جن میں شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ حماس اور دیگر شدت پسند تنظیموں سے دور رہیں۔

اسرائیل نے بھاری جنگی سازوسامان غزہ کی سرحد پر جمع کرنا شروع کیا ہے

اسرائیلی افواج نے ٹینک اور بکتر بند گاڑیوں سمیت بھاری جنگی ساز و سامان غزہ کی سرحد پر جمع کرنا شروع کر دیا ہے جس کے بارے میں اسرائیل میں ٹی وی چینلز کا کہنا ہے کہ شاید ایک زمینی حملے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

اسرائیلی فوجی ذرائع نے کہا کہ اس بارے میں اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

حماس کے وزیر اعظم اسماعیل ہنیا نے غزہ میں اسرائیل کے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے اسرائیلی فضائی حملوں کو ’ناقابل قبول جارحیت‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے کے استحکام کو نقصان پہنچے گا۔

بی بی سی کو اس بات کا علم ہے کہ مصر اسرائیل اور حماس کے درمیان اس لڑائی میں ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے جمعے کو پاکستان کے وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کو ٹیلی فون کرکے غزہ پر اسرائیل کی بمباری سے پیدا ہونے والے صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔

مصر کے صدر پاکستانی وزیرِ اعظم سے درخواست کی کہ جب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین کا معاملہ اٹھایا جائے گا تو پاکستان اس کی حمایت کرے۔

اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان غزہ پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتا ہے کیونکہ اس میں حماس کے رہنما ہی نشانہ نہیں بنے بلکہ معصوم لوگ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستانی وزیرِ اعظم نے یقین دہانی کروائی کہ پاکستانی عوام اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ ہیں۔

جمعے کو عرب لیگ کے وزراء خارجہ اس مسئلے کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ویلیم ہیگ نے دونوں طرفین پر جنگ بندی کے لیے زور دیا اور زمینی حملے کے بارے میں خبردار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب بھی اسرائیل نے زمینی حملہ کیا ہے تو وہ بین الااقوامی ہمدردی اور حمایت سے محروم ہوا ہے۔‘

امریکہ نے ترکی، مصر اور حماس کے ساتھ تعلقات والے یورپی ممالک سے کہا ہے کہ وہ غزہ کی جانب سے راکٹوں کے حملوں کو روکنے کے لیے کوششیں کرئیں اور اس کشیدگی کو روکنے کی ذمہ داری حماس پر عائد ہوتی ہے۔

گذشتہ چار سالوں میں یہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر شدید ترین حملہ ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔