فلسطینی علاقوں کا خاکہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 16 نومبر 2012 ,‭ 18:07 GMT 23:07 PST

مقامی لوگ غزا کے پٹی میں بحیرہ روم کے ساحل پر لطف اندوز ہو رہے ہیں

فلسطینیوں کی ایک کروڑ سے زائد کی آبادی دو حصوں میں بٹ گئی ہے جس کا ایک حصہ تاریخی فلسطین کے علاقوں میں جبکہ دوسرا حصہ پڑوسی عرب ممالک میں تارکین وطن کی حیثیت سے مقیم ہے۔

اسرائیل کے ساتھ مسلسل چپقلش اور تارکین وطن فلسطینیوں کی حیثیت پر محاذ آرائی کی وجہ سے غزہ اور غرب اردن میں فلسطینی ریاست قائم کرنے کی کوششیں ناکام ہوگئیں ہیں۔

سنہ انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کی طرف سے آزادی کا اعلان کرنے کے بعد ہونے والی جنگ میں فلسطینی علاقے اسرائیل، شرق الاردن اور مصر کے درمیان تقسیم کیے گئے۔ غرب اردن، اردن اور غزہ مصر کے زیر انتظام رہا۔ فلسطین کی قومی تحریک بتدریج غرب اردن، غزہ اور پڑوسی ملکوں میں قائم مہاجرین کے کیمپوں میں شروع ہوئی۔

سنہ انیس سو سڑسٹھ کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ سے کچھ ہی عرصہ پہلے تحریک آزادی فلسطین (پی، ایل، او) ایک بڑی نمائندہ تنظیم کی حیثیت سے سامنے آئی۔

حقائق

  • آبادی: چار کروڑ چالیس لاکھ (اقوام متحدہ، 2010)
  • مستقبل کا دارالخلافہ : مشرقی یروشلم (رملہ انتظامی دارالخلافہ ہے)
  • رقبہ:5970 مربع کلو میٹر،غرب اردن 2305 اور غزہ 365 مربع کلو میٹر( فلسطین کی وزارت اطلاعات)
  • بڑی زبان: عربی
  • بڑے مذاہب: اسلام ، عیسائیت
  • عمر: مرد: 73 سال ، عورت:76 سال (اقوام متحدہ)
  • سکہ: 1 اردن دینار= 1000 فلز، 1 اسرائیلی شیکل= 100 اگاراٹ
  • برآمدات: سیٹرس(مالٹا، نیمو)
  • کل قومی آمدنی فی کس: 1230 امریکی ڈالر(عالمی بینک 2007 )
  • انٹرنیٹ ڈومین: پی ایس
  • بین الاقوامی ڈائلینگ کوڈ: 970 +

یاسر عرفات کی سربراہی میں تحریک آزادی فلسطین کو دھیرے دھیرے بین الاقوامی سطح پر فلسطینی عوام کی نمائندہ تنظیم کے طور پر تسلیم کیا گیا جس کی وجہ سے تحریک آزادی فلسطین اور اسرائیل کے درمیان انیس سو ترانوے میں اوسلو معاہدہ بھی ہوا۔ اس معاہدے کے تحت غرب اردن اور غزہ کے علاقوں کا عبوری انتظام سنبھالنے کے لیے فلسطین کی قومی اتھارٹی قائم کی گئی لیکن باہمی طور پر قابل قبول حل نہ ہونے کی وجہ سےاتھارٹی میں مشرقی یروشلم کا علاقہ شامل نہیں تھا۔

علاقے میں جاری تشدد اور اسرائیل کی طرف سے آباد کاری جیسے مسائل نے مستقل بنیادوں پر حل تلاش کرنے کے عمل کو متاثر کیا جس کی وجہ سے دونوں طرفین نے کیے گئے معاہدوں کی اہمیت پر سوال اٹھائے۔ حماس تحریک، جس نے سنہ دو ہزار سات میں غزہ کا کنٹرول سنبھالا، اوسلو معاہدے کو کھلے عام رد کرتا ہے۔

فلسطین کی قومی اتھارٹی، تحریک آزادی فلسطین کی ایک ایجنسی کے طور پر کام کرتی ہے اور بین الاقوامی اداروں میں فلسطین کے لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

فلسطین کی قومی اتھارٹی کا سربراہ ایک براہ راست منتخب کیا گیا صدر کرتا ہے جو وزاعظم اور حکومتی اہل کاروں کو بھی تعینات کرتا ہےاس کے لیے منتخب قانون ساز کونسل کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس اتھارٹی کی سولین اور سکیورٹی عملداری شہری علاقوں جسے علاقہ ’اے‘ کہتے ہیں تک محدود ہے۔ جبکہ دیہی علاقے جسے علاقہ ’بی‘ کہتے ہیں، میں اتھارٹی کی صرف سیولین عملداری ہوتی ہے۔

اسرائیلی کنٹرول

اسرائیل کو وادی اردن، اسرائیلی آبادی اور بائے پاس سڑکوں پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اس کی فورسز مسلح افراد کا پیچھا کرتے ہوئے شہری علاقوں میں بھی داخل ہوتی ہیں۔

تحریک آزادی فلسطین کا ایک فتح نامی گروہ سنہ دو ہزار چھ تک اتھارٹی چلاتا رہا۔ اس کے بعد قانون ساز کونسل کے انتخابات حماس نے جیت لیے۔ اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور حماس کی حکومت کے درمیان خراب تعلقات کی وجہ سے فتح اور حماس تنظیموں کے درمیان خونریزی کے بعد حماس نے جون سنھ دو ہزار سات میں غزہ کےاقتدار پر قبضہ کر لیا اور صدر محمود عباس نے حماس کی حکومت تحلیل کر دی۔ تب سے فلسطینی اتھارٹی کے علاقے غرب اردن فتح کے زیر اتنظام ہے اور غزہ حماس کے کنٹرول میں ہے۔ مصر کی طرف سے دونوں فلسطینی دھڑوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے لیکن ابھی تک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

فلسطینی اتھارٹی نے سنہ دو ہزار گیارہ میں اقوم متحدہ سے ’فلسطینی ریاست‘ کو تسلیم کرانے کی کوشش کی تھی جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں ٹھہراؤ کو بھی اجاگر کرنا تھا۔ حمایت نہ ہونے کی وجہ سے یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی لیکن ثقافت اور تعلیم کے لیےاقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے ’فلسطین ریاست‘ کو اکتوبر میں تسلیم کیا۔

غرب اردن میں اکتوبر سنھ دو ہزار بارہ میں ہونے والے انتخابات میں فتح کی پوزیشن خراب ہوئی کیوں کہ انھیں قانون ساز کونسل میں صرف چالیس فیصد نشستیں ملیں۔ انتخابات میں پچپن فیصد ووٹروں نے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔ فتح کو گیارہ میں سے بڑے شہروں کی چار نشستیں ملی جبکہ آزاد اور بائیں بازوں کے نمائندوں کو

نشستوں کا پانچواں حصہ ملا۔ حماس نے غرب اردن میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور غزہ میں انتخابات نہیں کروائے۔

علاقے میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے فتح کی سربراہی میں فلسطین کی قومی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان بین الاقوامی تعاون سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے لیکن یروشلم جسے دونوں طرفین اپنے ملک کا دارالخلافہ کے طور پر مانتے ہیں، فلسطینی تارکین وطن اور اسرائیلی آباد کاری جیسےمسائل مستقل حل کی طرف پیش رفت میں رکاوٹ ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی نے سنہ دو ہزار گیارہ میں اقوام متحدہ سے ’فلسطینی ریاست‘ کو تسلیم کرانے کی کوشش کی تھی جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں ٹھہراؤ کو بھی اجاگر کرنا تھا۔ حمایت نہ ہونے کی وجہ سے یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی لیکن ثقافت اور تعلیم کے لیےاقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے ’فلسطین ریاست‘ کو اکتوبر میں تسلیم کیا۔

بہرحال اسرائیل اور حماس کے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت سے انکار اور پر تشدت جھڑپیں اور بین الاقوامی سطح پر سردمہری کی وجہ سے علاقے میں دیر پا امن کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔

بڑے رہنماء

محمود عباس

یاسر عرفات کی موت کے بعد محمود عباس تحریک آذادی فلسطین کے سربراہ بنے

فلسطینی اتھارٹی کے سابق وزارعظم اور فتح تنظیم کے صدارتی امیدوار محمود عباس نے جنوری دو ہزار پانچ میں انتخابات جیت کر مرحوم فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی جگہ لے لی اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر بن گئے۔

محمود عباس ابو میزان کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ یاسر عرفات کی موت کے بعد وہ تحریک آذادی فلسطین یا (پی، ایل، او) سربراہ بن گئے تھے۔ وہ سنہ انیس سو انہتر سے یاسر عرفات کے نائب کے طور پر کام کر رہے تھے۔

محمود عباس سنہ انیس سو پینتیس میں سفید نامی علاقے میں پیدا ہوئے جو آج کے شمالی اسرائیل میں ایک قصبہ ہے۔ انھوں نے یاسر عرفات کے ساتھ مل کر انیس سو پچاس میں فتح تنظیم کی بنیاد ڈالی۔

انھوں نے سنہ انیس سو ستر کی دہائی میں بائیں بازو کے اسرائیلیوں سے رابطے قائم کیے۔ محمود عباس کو سنہ انیس سو ترانوے کے اوسلو معاہدے کا خالق سمجھا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی قیام میں آئی۔

اسماعیل ہنیہ

اسماعیل ہنیہ دو ہزار چھ میں انتخابات کے بعد حماس کی طرف سے فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم بنے

حماس کے سب سے زیادہ جانے پہچانے رہنما اسماعیل ہنیہ ہیں۔ وہ سنہ دو ہزار چھ کے انتخابات میں فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم منتخب ہوئے اور اب وہ غزہ میں حماس کی طرف سے انتظامیہ کے سربراہ ہیں۔

اسماعیل ہنیہ سنہ انیس سو باسٹھ میں غزہ کے شمال میں شاطی علاقے میں واقع ایک مہاجر کیمپ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے حماس تنظیم میں ترقی کی اور سنہ دو ہزار چھ میں قانون ساز کونسل کے انتخابات میں کامیابی کے بعد صدر محمود عباس نے انھیں وزیراعظم تعینات کیا لیکن جلد ہی ان کی حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب بین الاقوامی رفاہی اداروں نے ان کی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے یہ شرط رکھی کہ حماس تشدد کا راستہ ترک کرے اور اسرائیل کو تسلیم کرے۔

حماس اور فتح کے درمیان محاذ آرائی کے بعد صدر محمود عباس نے ان کی حکومت تحلیل کردی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔