غزہ: متغیر مشرق وسطیٰ کے لیے پرتشدد بحران

آخری وقت اشاعت:  اتوار 18 نومبر 2012 ,‭ 04:06 GMT 09:06 PST

پچھلے ہفتے کے اواخر میں لگتا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تشدد میں سے اثر ختم ہو رہا تھا۔

دونوں ایک دوسرے پر تنازعے کو شروع کرنے کا الزام عائد کر رہے تھے اور سوموار تک مصر کی طرف سے جنگ بندی کی ایک تجویز کی بات ہو رہی تھی۔

لیکن اس کے بعد اسرائیل کی جانب سے حماس کے فوجی شعبے کے سربراہ احمد الجباری کے قتل نے حالات کو ڈرامائی انداز میں بدل کر اسے ایک عالمی بحران میں تبدیل کر دیا اور اس کے بعد آنے والی ہر چیز پر بھی اس کا اثر پڑا۔

یہ بحران خصوصی طور پر بہت خطرناک ہے کیونکہ انیس سو پچاس کے بعد سے پہلی بار مشرق وسطیٰ بہت غیر متوازن ہے۔

اضطرابی تبدیلیاں ماضی کے یقینی حقائق کی جگہ لے رہی ہیں اور بہت سارے پرانے چہرے جا چکے ہیں۔

فلسطین کی سرحد کے باہر زرا نظر دوڑائیں تو اندازہ ہو گا کہ شام ایک گہری خانہ جنگی کا شکار ہے جبکہ لبنان جس کے شام سے گہرے روابط ہیں اس کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

دوسری طرف اردن میں مظاہرین وہ نعرے لگا رہے ہیں جو تیونس، مصر، لیبیا، شام اور تمام دوسری جگہوں پر استعمال کیے جا چکے ہیں کہ لوگ نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

حماس کے لیے مصر کی موجودہ حکومت نے بہت زیادہ حمایت کا اظہار کیا ہے لیکن فی الحال یہ صرف لفظی حمایت تک ہی محدود ہے۔

اسی طرح مصر میں حسنی مبارک نامی صدر نہیں ہے جس پر ایسے وقت میں امریکہ اور اسرائیل حالات کو توازن میں رکھنے کے لیے انحصار کرتے۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وقت مظاہرین کے قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

ان کے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے جانشین محمد مرسی کا تعلق اخوان المسلین سے ہے جس تنظیم نے سیاسی اسلام کی بنیاد رکھی اور اس کو ترویج دی۔

اخوان کی شاخوں میں حماس بھی شامل ہے جس کے لیے مصر کی موجودہ حکومت نے بہت زیادہ حمایت کا اظہار کیا ہے لیکن فی الحال یہ صرف لفظی حمایت تک ہی محدود ہے۔

ترکی بھی مصر کے موقف کی حمایت کر رہا ہے لیکن درپردہ دونوں جنگ بندی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں مگر ان دونوں کی حمایت حماس کو اگر ضرورت پڑی تو اس معاملے کو جاری رکھنے کا اعتماد دلائیں گی۔

عرب دنیا میں پچھلے دو سال کے دوران آنے والے تغیر نے اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے کو پس پشت ڈال دیا لیکن جب باقی تمام دنیا کی توجہ بٹی ہوئی تھی تو یہ مسئلہ بڑھ رہا تھا لیکن کبھی بھی اوجھل نہیں ہوا تھا۔

ترکی مصر کے موقف کی حمایت کر رہا ہے لیکن درپردہ دونوں جنگ بندی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں مگر ان دونوں کی حمایت حماس کو اگر ضرورت پڑی تو اس معاملے کو جاری رکھنے کا اعتماد دلائیں گی۔

اصل بات یہ ہے کہ ایک پر تشدد بحران، حتیٰ کہ ایک نئی جنگ کے قریب ترین ایک حقیقت مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ہمہ تن موجود تھی۔

اسرائیل نے پچھتر ہزار فوجی ریزروز کو متحرک کرنے کا حکم دیا ہے تو حماس تل ابیب اور یروشلم کے اسرائیلی حصے کی جانب میزائیل داغ کر گہری چوٹ لگانے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے۔

اب تک جو کچھ ہوا ہے وہ کسی لحاظ سے بھی اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑی گئی دو ہزار نو کی جنگ کے سطح پر نہیں ہے۔

لیکن اگر امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے بظاہر پرملال گزارشات کو جنہیں وہ شدت میں کمی کہتے ہیں دونوں جانب سے نظر انداز کیا جاتا رہا تو یہ یقیناً جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔