’الجباری کو ہلاک کرنا بہت بڑی غلطی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 17 نومبر 2012 ,‭ 17:21 GMT 22:21 PST

کیا اسرائیلی حکام کے پاس طویل المدت امن قائم کرنے کا کوئی راستہ نہیں

حماس کے اہم رہنما اور اس کے عسکری ونگ کے سربراہ اور اسرائیلی فوجی گیلاڈ شالت کے اغوا کے ذمہ دار احمد الجباری کو بدھ کے روز اسرائیلی میزائل حملوں میں ہلاک کر دیا گیا۔

اسرائیل اس بات کا اعلان کر چکا ہے کہ غزہ کے خلاف حالیہ حملوں کا مقصد وہاں سے ہونے والے راکٹ حملوں کو روکنا ہے۔ ماضی میں اسرائیل کی جانب سے حماس رہنماؤں کو خصوصی طور پر نشانہ بنائے جانے کے بعد بچ جانے والی حماس کی قیادت اکثر چھپ جاتی ہے اور اسرائیل پر راکٹ حملے وقتی طور پر رک جاتے ہیں۔

نیو یارک ٹائمز میں چھپنے والے ایک مضمون کے مطابق اسرائیلی قیادت کا خیال ہے کہ غزہ میں حماس کی سیاسی اور عسکری قیادت کو نشانہ بنانے اور تنظیم کے عسکری ڈھانچے پر حملے کرنے سے راکٹ حملے رک جائیں گے۔ یہ مضمون اسرائیل فلسطینی سینٹر فار ریسرچ اینڈ انفارمیشن کے شریک چیئرمین گیرشون باسکن نے لکھا ہے جو کہ اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کی رہائی کے مذاکرات میں بھی شامل تھے۔

ان کے مطابق اسرائیل کی اس طرح کی جارحانہ پالیسی کبھی بھی لمبے عرصے تک مؤثر نہیں رہی ہے۔ حماس کے بانی اور روحانی رہنماء شیخ احمد یاسین کی اسرائیل کے ہاتھوں ہلاکت پر بھی تنظیم نے ہتھیار نہیں ڈالے اور اب بھی حماس اسرائیل پر راکٹ داغنے جنگ بندی کے معاہدے کے بغیر نہیں کرے گا۔

گیرشون لکھتے ہیں کہ جب اسرائیلی حکام گیلاڈ شالت کی رہائی کے لیے احمد الجباری کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے تو ان میں سے کچھ کا ماننا تھا کہ الجباری اسرائیلی فوجی کو رہا نہیں کریں گے کیونکہ انھیں حراست میں رکھنا ایک قسم کا ان کی زندگی کا بیمہ تھا۔ جب تک ان کے پاس گیلاڈ شالٹ تھے وہ جانتے تھے کہ وہ محفوظ ہیں۔ اکتوبر دو ہزار گیارہ میں شالت کی رہائی کے بعد اسرائیلی حکام کے لیے الجباری کو مارنا آسان ہو گیا تھا۔ ان کو زندہ رکھنا صرف ان کی اہمیت پر مبنی تھا اور یہ بیمہ اس ہفتے پورا ہوگیا۔

حالیہ کشیدگی میں اسرائیل نے اپنے پچھتر ہزار ریزروو فوجیوں کو بھی طلب کر لیا ہے

’میرے خیال میں اسرائیل نے الجباری کو ہلاک کر کے ایک بہت بڑی افسوس ناک اور غیر ذمہ دارانہ غلطی کی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ احمد الجباری امن پسند تھے۔ وہ اسرائیل کے ساتھ امن میں یقین نہیں رکھتے تھے اور کسی اسرائیلی رہنما بلکہ میرے جیسے غیر سرکاری شخص سے بھی کوئی براہِ راست رابطہ نہیں رکھتے تھے۔ الجباری کے ساتھ میرا بالواسطہ تعلق حماس میں میرے ہم منصب غازی حماد کے ذریعے تھا۔ حماس کے نائب وزیرِ خارجہ غازی حماد کو الجباری خود میرے ساتھ رابطے کی منظوری دیتے تھے۔ جب سے الجباری نے حماس کے عسکری ونگ کی ذمہ داری سنبھالی تھی ان سے براہِ راست بات کرنے والے واحد اسرائیلی گیلاڈ شالت خود تھے جنہیں الجباری خود غزہ سے باہر لے کر گئے تھے۔ یاد رہے کہ احمد الجباری نے نہ صرف شالت کو اغواء کیا بلکہ انھیں زندہ رکھا اور قید کے دوران ان کی دیکھ بھال کو یقینی بنایا۔‘

گیرشون کے مطابق ’دونوں جانب سے پیغامات پہنچاتے مجھے ایک بات تو سمجھ آگئی کہ الجباری دیر پا جنگ بندی میں صرف دلچسپی ہی نہیں رکھتے تھے بلکہ ماضی میں مصری خفیہ ایجنسی کی مدد سے طے پانے والی جنگ بندی پر عملدرآمد کروانے کے بھی ذمہ دار تھے۔ انھوں نے وہ جنگ بندیاں اس وقت لاگو کیں جب انھیں اس بات کا یقین ہو گیا کہ اسرائیل غزہ پر حملے روکنے کو تیار ہے۔ جس روز احمد الجباری کو ہلاک کیا گیا، اسی روز انھیں اسرائیل کے ساتھ ایک طویل مدت جنگ بندی کے بارے میں ایک تجویز شدہ مسودہ وصول ہوا تھا جس میں دونوں جانب کے ارادوں کی تصدیق کرنے اور عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہِ کار موجود تھے۔ اس مسودے پر گزشتہ ماہ میرے اور غازی حماد کے درمیان مصر میں اتفاق ہوا تھا۔‘

"دونوں جانب سے پیغامات پہنچاتے مجھے ایک بات تو سمجھ آگئی کہ الجباری دیر پا جنگ بندی میں صرف دلچسپی ہی نہیں رکھتے تھے بلکہ ماضی میں مصری خفیہ ایجنسی کی مدد سے طے پانے والی جنگ بندی پر عملدرآمد کروانے کے بھی ذمہ دار تھے۔"

گیر شون

’اس کا مقصد ماضی کی ریت کو توڑنا تھا۔ کئی سالوں سے کہانی وہی ہے: اسرائیلی خفیہ ادارے کو غزہ سے کسی آنے والے حملے کی اطلاع ملتی ہے۔ اسرائیلی فوج حملے سے پہلے ہی فضائی حملے میں مشتبہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتی ہے۔ اکثر ان حملوں میں ہدف اسلامک جہاد، پاپولر ریزسٹنس کمیٹی یا دیگر سلفی تنظیموں کے ارکان ہوتے ہیں۔ یہ تنظیمیں حماس کے زیرِ کنٹرول علاقے میں کام تو کر رہی ہیں مگر مکمل طور پر ان کے زیرِ اثر نہیں ہیں۔ تنظیمیں جوابی کارروائی میں غزہ کے قریب اسرائیلی آبادی پر راکٹ داغتی ہیں جو کہ اکثر نشانے پر نہیں لگتے۔ اسرائیلی فضائیہ جلد ہی ان کا جواب دیتی ہے۔ نتیجہ ہوتا ہے غزہ میں دس سے پچیس ہلاکتیں، اسرائیل میں کوئی ہلاکت نہیں اور دونوں طرف املاک کو شدید نقصان۔‘

’حماس کے دیگر اہم رہنما اور تنظیم میں فیصلے کرنے والی شوریٰ کونسل کے ممبران اس جنگ بندی کی نئی کوشش کے حامی تھے کیونکہ وہ اسرائیل پر مسلسل راکٹ حملوں کے بے سود ہونے کو با خوبی سمجھتے تھے۔ الجباری اسرائیل کے خلاف لڑائی روکنے کو تیار تو نہیں تھے مگر وہ اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے کی ضرورت سے واقف تھے اور طویل المدت جنگ بندی پر اتفاق کرنے کو راضی تھے۔‘

’اسرائیل میں اس جنگ کو ایک بار پھر ایسے پیش کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ اسرائیلی عوام اپنے پرچم تلے جمع ہے جیسا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ہوتا ہے۔ امریکہ نے اس فوجی کارروائی کی حمایت یہ کہہ کر دے دی ہے کہ اسرائیل کو اپنا اور اپنے شہریوں کے دفاع کا حق حاصل ہے۔ حق تو حاصل ہے مگر ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا انھی مقاصد کو پورا کرنے کا کوئی اور راستہ نہیں تھا جس میں طاقت کا استعمال نہ ہو۔‘

’اسرائیل نے ٹارکٹ کلنگ، زمینی حملے، ڈرون حملے، ایف سولہ طیاروں کے حملے، اقتصادی پابندیاں اور سیاسی بائیکاٹ استعمال کر کے دیکھ لیا ہے۔ جو ایک کام اسرائیل نے نہیں کیا وہ ہے کسی تیسرے فریق کی مدد سے طویل المدت جنگ بندی کا معاہدہ۔‘

’کہانی وہی ہے، اسرائیل کو دہشتگردی کا خطرہ، فضائی حملے اور پھر راکٹ حملے!‘ گیرشون

’کبھی بھی حکومت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کی شہری آبادی پر ہمسایہ خطے سے راکٹ داغے جائیں۔ اور غزہ سے اسرائیل میں راکٹ حملوں کے سلسلے کو رکنا ہوگا۔ یہاں ایک متفقہ جنگ بندی کا موقع تھا۔ جو تجویز میں نے اور غازی حماد نے تیار کی تھی اور ماضی کے تجویز کردہ مسودوں میں فرق یہ تھا کہ ہماری تجویز میں ممکنہ دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کا طریقہ کار اور خلاف ورزیوں کی واضح تعریف تھی۔ اس مسودے کا ترجمہ ہونا تھا اور دونوں الجباری اور اسرائیلی سیکورٹی حکام کو دیا جانا تھا۔ دونوں حریف ہماری مذاکراتی کوششوں سے واقف تھے۔‘

’اپنی ہلاکت سے چند گھنٹے پہلے ہی جو مسودہ الجباری نے پڑھا، اس میں تجویز کیا گیا تھا کہ اسرائیلی انٹیلیجنس کی جانب سے حاصل کردہ کسی بھی متوقع حملے کے بارے میں معلومات مصری حکام کے ذریعے الجباری تک پہنچائی جائیں گی تاکہ وہ اسرائیل کے خلاف متوقع حملے کو روک سکیں۔ الجباری اور ان کی سکیوٹی فورسز کے پاس موقع تھا کہ وہ یہ ثابت کریں کہ جب انھوں نے مصری حکام سے کہا کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے تو وہ اس معاملے میں سنجیدہ تھے۔ اگر الجباری اس پر متفق ہو جاتے تو ہم کشیدگی کی اس نئی لہر کو روک سکتے تھے۔ اگر وہ اس مسودے کو مسترد کر دیتے تو اسرائیل نے وہی کرنا تھا جو ابھی کر رہا ہے۔‘

’یہ مسودہ کم از کم آزمانے کے لائق تو تھا۔ اس میں تو یہ بھی لکھا تھا کہ اگر اسرائیل وقت کی نزاکت کے باعث خود ہی کسی عین متوقع حملے کو روکتا ہے تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں مانا جائے گا اور اس سے کشیدگی میں اضافہ نہیں ہوگا۔‘

’مگر احمد الجباری کو مار دیا گیا ہے اور ان کے ساتھ ہی کسی طویل المدت جنگ بندی کا امکان بھی ختم ہو گیا ہے۔ اسرائیل نے مصری انٹیلیجنس اہلکاروں کی کسی بھی قلیل المدت جنگ بندی قائم کروانے کی صلاحیت کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے اور مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کو خطرے میں ڈالا ہے۔‘

’یہ ناگزیر نہیں تھا، ٹھنڈے دماغ سے کام لینے کی ضرورت تھی۔ الجباری کے قتل کے بعد حماس کے ایک عملی کردار کو مٹا دیا گیا ہے۔‘

گیرشون اخبار میں لکھتے ہیں کہ اسرائیل کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اس سوال کا مکمل جواب نہیں سوچا کہ الجباری کی جگہ کون آئے گا؟

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔