چین میں قیادت کی تبدیلی: امکانات اور آزمائش

آخری وقت اشاعت:  اتوار 18 نومبر 2012 ,‭ 11:55 GMT 16:55 PST

چین کو داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر اہم اقدامات اٹھانے ہوں گے

پندرہ نومبر کو چین میں قیادت کی تبدیلی عمل میں آئی ہے جس کے نتیجے میں حکومت اور کمیونسٹ پارٹی کی باگ ڈور ہوجن تاؤ سے منتقل ہوکر نو منتخب جنرل سیکرٹری، انسٹھ سالہ شی جِن پنگ کے حصے میں آئی ہے جو گزشتہ تیس برس سے صوبائی اور مرکزی سطح پر اہم ملکی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے ہیں۔

اس سے پہلے وہ کئی سالوں تک میدانِ زراعت میں کسانوں کے ساتھ چین کے شمال مغربی صوبے شانجی میں کام کرتے رہے ہیں اور 1985 میں زرعی ترقی میں مہارت کے جائزے کے لیے انہوں نے امریکہ کا مطالعاتی دورہ بھی کیا۔

شی جِن پنگ چند ماہ چین کے تجارتی مرکز شنگھائی کے قائد بھے رہے ہیں۔ وہ 2008 میں پارٹی کے نائب صدر بنے اور اٹلی، بیلجیئم ، جرمنی، سویڈن، ہنگری، جاپان، روس، نیوزی لینڈ، ویتنام، انگولا، جنوبی افریقہ، میکسیکو اور آئرلینڈ کا دورہ کیا۔

موجودہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے انکا ایک اہم دورہ فروری میں امریکہ کا تھا۔ اس عرصے میں وہ ایک مؤثر سفارتکار، اور قائد کےطور پر ابھرے جو بھرپور تیاری اور گہری دلچسپی کے ساتھ عالمی امور میں کردار ادا کرنے کا خواہاں ہو، وہ چین کے صدر کا عہدہ رسمی طور پر مارچ 2013 میں سنبھالیں گے۔

چین میں دس سال میں ایک دفعہ واقع ہونے والی اس بتدریج اور باقاعدہ تبدیلی کے حوالے سے اندرون اور بیرونِ ملک توقعات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اس امر کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کن امور میں نئی قیادت اپنی صلاحیتوں کا مؤثر مظاہرہ پائے گی۔ یوں تو عددی لحاظ سے چین کی معیشت کافی برسوں سے آگے بڑھ رہی ہے، لیکن اب آگے یہ بھی دیکھنا ہے کہ معیار کی بلندی کو کتنی توجہ حاصل ہوگی جو معاشری ترقی سے اگلہ مرحلہ ہے۔

نئی چینی قیادت کو جہاں نئے امکانات حاصل ہوں گے وہیں چند آزمائشیں بھی درپیش ہوں گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ اصلاح کے عمل کو کتنا بڑھایا جائے گا، معیشت کو کس طور نمو اور جِلا دی جائے گی اور عالمی افق پر چین اپنی ابھرتی اہمیت کو کس تحمل اور ذمہ داری سے نبھائے گا۔

ماہرین کے مطابق دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی حیثیت سے چین کو داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر اہم اقدامات اٹھانے ہوں گے جیسا کہ بینکوں اور سرمایہ کاری کے شعبوں کی اصلاح اور ایسے مواقع پیدا کرنے ہوں گے جس کے ذریعے آزاد معیشت سماجی شعبہ میں بہتری لا سکے۔ اس امر کے لیے یہ لازم ہے کہ چینی معیشت داخلی صارفین کی ضرورتیں پورا کرنے پر توّجہ مرکوز کر دے۔

چینی قیادت کی آزمائش

نئی چینی قیادت کو جہاں نئے امکانات حاصل ہوں گے وہیں چند آزمائشیں بھی درپیش ہوں گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ اصلاح کے عمل کو کتنا بڑھایا جائے گا، معیشت کو کس طور نمو اور جِلا دی جائے گی اور عالمی افق پر چین اپنی ابھرتی اہمیت کو کس تحمل اور ذمہ داری سے نبھائے گا۔

ملک کے اندر جیسے جیسے متوسط طبقے کا تناسب بڑھ رہا ہے، ایک معیاری طرزِ زندگی کے متعلق امیدیں بھی بلند ہوتی جا رہی ہیں جس کے لیے نظام تعلیم میں بہتری مطلوب ہے جو نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیتوں کا رجحان بڑھا سکے۔ اسی طرح ایک بڑا امتحان یہ ہے کہ آبادی کے امیر اور غریب طبقوں میں آمدنی کا فرق کم ہو۔

قیادت سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں چینی قائد شی جِن پنگ نے کہا کہ چینی عوام بہتر تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، مستحکم روزگار اور بہتر آمدنی کے ساتھ ساتھ عمدہ طبّی سہولیات اور آرام دہ سہولیاتِ زندگی کے خواہاں ہیں تاکہ ان کی آئندہ نسل ان سے بہتر طور پر زندگی بسر کر سکے۔ شی جِن پنگ نے یاد دلایا کہ جس طرح لوہے کو فولاد میں ڈھالنے کے لیے مضبوطی درکار ہوتی ہے اسی طرح معاشرے کی بہتری کے لیے پارٹی کو مضبوط کردار کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

مبصرین کی نظر میں شی جن پنگ نے نظریاتی اصلاحات اور نعروں پر عام شہری کی امیدوں کو نمایاں جگہ دی۔ خارجی امور میں سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ نئی چینی قیادت علاقائی امن و استحکام برقرار رکھنے کی کن عملی یقین دہانیوں پر زیادہ وقت صرف کریں گے جو کہ کشادگی، تحمل اور وسیع النظری کی عکاس ہو۔

امریکہ اور یورپی ممالک چینی سرمایہ کاروں کو اپنے ملکوں کی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی یورپی یونین نے ابھی تک عالمی منڈی میں چین کے ابھرتے مقام کو خندہ پیشانی سے قبول نہیں کیا اور چین کو جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے درکار پابندیاں نہیں ہٹائی ہیں۔

یورپی ممالک کو اپنی توجہ چین کی ان آئندہ ضروریات پر مرکوز کرنی ہوگی جن میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتیں، ہوا پیمائی، خلا، ماحولیات اور صحت کے شعبوں میں جدید آلات کا حصول شامل ہے۔

توقع کی جاری ہے کہ معیشت میں ڈاکٹر کی ڈگری رکھنے والے ستاون سالہ لی کیکیان چین کے اگلے وزیرِ اعظم کے طور پر سامنے آئیں گے۔ وہ سنہ 2007 سے کمیونسٹ پارٹی کے رکنِ مجلس قائد چلے آ رہے ہیں جو ملک میں تمام اعلیٰ قیادتی فیصلوں کا طاقتور ادارہ ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب چین میں اقتدار کی منتقلی عمل میں آ رہی ہے امریکہ اپنی توّجہ ایشیا بحرالکاہل کے خطے پر بڑھانے کا خواہاں ہے۔ 16 نومبر کو امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے دس وزرائے دفاع کے ساتھ ملاقات کی۔

ان کا کمبوڈیا کا یہ دورہ صدر اوباما کے چار روزہ دورے کی تیاری کے ساتھ یہ پیغام بھی دینا تھا کہ امریکہ اپنے حلیفوں کی طرف سے چین کی ابھرتی ہوئی معاشی اور دفاعی قوّت پر گہری نظر رکھنا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔