اسرائیل کا اگلا قدم کیا ہوگا؟

آخری وقت اشاعت:  اتوار 18 نومبر 2012 ,‭ 12:26 GMT 17:26 PST

سنیچر کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس کے وزیرِ اعظم اسمائیل ہنیہ کے دفتر پر کیے گئے ڈرون حملے کی ویڈیو جاری کی۔

وزیرِ اعظم ہنیہ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔ حماس کی دیگر قیادت کی طرح، وہ بھی اسرائیل کی جانب سے براہِ راست دھمکیوں کے بعد، کسی نامعلوم مقام پر چلے گئے ہیں۔ تاہم ان کے دفاتر کو زمین بوس کر دیا گیا ہے۔

آج صبح ہم نے جائے وقوع کا دورہ کیا۔ یقیناً حملے سے پہلے یہ ایک اعلیٰ شان عمارت ہوگی۔ بظاہر ان دفاتر کو کئی بار نشانہ بنایا گیا اور دھماکوں نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

چند فلسطینی جھنڈے ہوا میں ہلکے ہلکے لہرا رہے تھے اور وہاں تعینات محافظ ایک اور حملے کے خطرے کے پیشِ نظر لوگوں کو فاصلہ رکھنے کو کہہ رہے تھے۔

اس سب سے ایک سوال اٹھتا ہے۔ حماس کے عسکری صلاحیت کو اس قدر نقصان پہنچا کر کیا اسرائیل اپنا کام تقریباً مکمل تصور کر رہا ہے یا پھر وہ ایک دوسری لہر کی تیاری کر رہے ہیں۔۔۔ جس میں حماس کو غزہ میں بطور ایک سیاسی قوت ختم کر دیا جائے۔

گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں غزہ سے اسرائیل کی جانب نسبتاً کافی کم راکٹ داغے گئے ہیں اور شاید یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سینکڑوں اسرائیلی فضائی حملوں نے اپنا اعلان شدہ ہدف حاصل کر لیا ہے یعنی اسرائیلی شہریوں کا تحفظ۔

آج (اتوار) صبح غزہ میں ایک اور مقام پر ہمیں مزید شواہد ملے کہ اسرائیل اپنا آپریشن وسیع تر کرنے کو تیار ہے اور خالصتاً فوجی اہداف سے بڑھ کر دیگر مقامات کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔

جبالیا غزہ پٹی کے گنجان آباد ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ کیمپ کے درمیان میں ایک تباہ شدہ مکان تھا جو مقمامی افراد کے مطابق ایک حماس اہلکار کا تھا۔ گذشتہ شب اسے اسرائیلی حملے میں تباہ کر دیا گیا تھا۔

حماس اہلکار کو اس حملے میں کچھ نہیں ہوا تاہم ان کے کئی پڑوسی بری طرح زخمی ہوئے۔ اس قدر گنجان آباد علاقے میں اسرائیل چاہے جس قدر بھی ’سرجیکل‘ حملے کر لے، ہمیشہ ہی عام شہری ہلاک ہوں گے۔

اسرائیل نے اپنا اگلہ قدم واضح نہیں کیا ہے۔ اگر حملوں کا پہلا مرحلہ ختم ہو گیا ہے تو کیا وہ چار سال قبل کی طرح زمینی فوج غزہ میں بھیجے گا؟

اسرائیلی حملے کہاں تک جا سکتے ہیں؟

جبالیا غزہ پٹی کے گنجان آباد ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ کیمپ کے درمیان میں ایک تباہ شدہ مکان تھا جو مقمامی افراد کے مطابق ایک حماس اہلکار کا تھا۔ گذشتہ شب اسے اسرائیلی حملے میں تباہ کر دیا گیا تھا۔ حماس اہلکار کو اس حملے میں کچھ نہیں ہوا تاہم ان کے کئی پڑوسی بری طرح زخمی ہوئے۔ اس قدر گنجان آباد علاقے میں اسرائیل چاہے جس قدر بھی ’سرجیکل‘ حملے کر لے، ہمیشہ ہی عام شہری ہلاک ہوں گے۔

اگر اسرائیل نے حماس کی عسکری قیادت سے حکمتِ عملی تبدیل کر کے سیاسی قیادت پر مرکوز کی تو انہیں یقینی طور پر کمزور کیا جا سکتا ہے، شاید ہلاک بھی کیا جا سکتا ہے۔

تاہم حماس کا مکمل خاتمہ، جس میں ہزاروں نوجوان مرد مسلح بریگیڈ کا حصہ ہیں، ایک بے سود قدم ہوگا جس میں مزید اسرائیلی اور فلسطینی جانوں کا نقصان ہوگا۔

اس وقت حماس کے مسلح جنگجوؤں اور ان کے سیاسی سربراہان کے لیے راستے واضح ہیں مگر سب سے اہم فیصلے ابھی اسرائیل کو کرنا ہیں۔

اسرائیل چند روز میں اپنے ابتدائی مقاصد کو پورا کر کے فوجی آپریشن ختم کر سکتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل ان حملوں کا دوسرا مرحلہ شروع کر سکتا ہے۔

یہ وہ فیصلہ ہے جس کے منتظر غزہ کے رہائشی، اسرائیلی اور باقی ساری دنیا کے لوگ ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔