غزہ میں ہلاکتیں سو سے زائد ہوگئیں

آخری وقت اشاعت:  پير 19 نومبر 2012 ,‭ 09:30 GMT 14:30 PST

اسرائیلی حملوں کا چھٹا دن

یہ زمین بوس عمارت الدالو خاندان کا گھر تھا جس کے ملبے سے امدادی کارکنان لاشین نکال رہے ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں چار بچے بھی شامل تھے۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فلسطینی اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ چھٹے روز بھی جاری رہا۔ فلسطینی طبی حکام کے مطابق اب تک کی کارروائیوں میں ایک سو پانچ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تین اسرائیلی حماس کی جانب سے داغے گئے راکٹوں کا نشانہ بنے ہیں۔

پیر کے دن ہلاک ہونے والوں میں اسلامی جہاد کا ایک کمانڈر بھی شامل ہے۔

شدت پسندوں کی طرف سےپیر کو اسرائیل پر سو سے زائد راکٹ داغے گئے۔ تاہم ان حملوں میں جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری جانب جنگ بندی کی کوششیں بھی جارہی ہیں۔ اسرائیلی حکام مصر کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی منصوبے پر بات چیت کر رہے ہیں۔

ابھی تک مصر کی طرف سے پیش کردہ امن منصوبے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں لیکن اسرائیل اور حماس نے اپنے اپنے شرائط پیش کر دیے ہیں۔

اسرائیل نے غزہ سے کئے جانے والے راکٹ حملے بند کرنے اور حماس کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ حماس نے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے اور اسرائیل کی طرف سے قاتلانے حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

مصر اسرائیلی اور حماس حکام کے مابین قاہرہ میں امن معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایک مصری اہل کار نے امید ظاہر کی کہ وہ پیر یا منگل کو کوئی اعلان کر سکے گے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے غزہ میں فریقین سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔اور جنگ بندی کی کوششوں کا حصہ بننے کے لیے قاہرہ پہنچ گئے ہیں۔

سیکٹری جنرل بان کی مون اسرائیلی وزاعظم اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقاتیں کرنے کا ارادہ رکھتےہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے مصر کے صدر اور اسرائیلی وزیراعظم سے حالات کو قابو میں لانے کے حوالے سے بات کی ہے۔

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر نے کہا ہے کہ ان کےملک کی طرف سے تجویز دی جا سکتی ہے کہ سکیورٹی کونسل قرارداد کے ذریعے دونوں فریقین سے تشدت ختم کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔

حماس کے رہنما خالد مشال نے کہا ہے کہ ’ ہم جنگ بندی کے حق میں ہیں لیکن اسرائیل جارحیت بند کردے۔‘

درین اثناء ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان نے غزہ میں بمبار کے دوران بچوں کی ہلاکت کا حوالے دیتے ہوئے اسرائیل کو ایک دہشت گرد ملک قرار دیا۔

میڈیا کی عمارت پر حملے میں اسلامی جہاد کا کمانڈر رمیض حرب ہلاک ہوگئے۔

غزہ میں وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد ایک مرد اور عورت اور دو بچے جن کی عمریں دو اور چار سال تھی ایک فضائی حملے میں ہلاک کئے گئے۔

ایمرجنسی خدمات کے اہل کاروں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ چھ دوسرے افراد مخلتف حملوں میں ہلاک ہوئے اور اتوار کو زخمی ہونے والے چار افراد بھی پیر کو انتقال کر گئے۔

اطلاعات کے مطابق ایک فلسطینی لڑکا غرب اردن میں غزہ میں فضائی حملوں کے خلاف احتجاج کے بعد ہلاک کیا گیا۔

اتوار کی شب اور پیر کو ہونے والے اسرائیلی حملوں میں دو بچوں سمیت مزید اٹھارہ فلسطینیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب غزہ میں اسّی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں راکٹ داغنے کے زیرِ زمین مقامات اور حماس کی پولیس کا ہیڈکوارٹر بھی شامل ہیں۔

ادھر اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ ایسی اطلاعات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ غزہ میں کارروائیوں کے دوران ایک غلط گھر کو نشانہ بنایاگیا ہے جس کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے دس افراد ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین ہونے والی ہے۔

اتوار جانی نقصان کے اعتبار سے غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا بدترین دن رہا جب کم از کم چھبیس افراد اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے جن میں ایک ہی خاندان کے گیارہ افراد بھی شامل تھے۔

اتوار کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتنیاہو نے کہا تھا کہ وہ ’پلر آف ڈیفینس‘ نامی اس آپریشن کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیلی حکام نے اپنے پچھہتر ہزار ریزرو فوجیوں کو بھی طلب کر لیا ہے۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں زمینی کارروائی کے ’سنگین نتائج‘ برآمد ہوں گے اور نہ تو مصر اور نہ ہی باقی دنیا اسے قبول کرےگی۔

جنگ بندی پر بات چیت کے سلسلے میں ایک سینیئر اسرائیلی اہلکار قاہرہ پہنچے ہیں جبکہ عرب لیگ نے منگل کو اپنے وزرائے خارجہ کا ایک وفد غزہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

فلسطینی طبی حکام کے مطابق اتوار کو حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں چودہ بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔ ان حملوں میں سے ایک میں حماس پولیس کے ایک اہلکار محمد دالو کا مکان نشانہ بنا جس سے ان کے نو اہلخانہ سمیت دس افراد مارے گئے۔

حماس کے عسکری ونگ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دالو خاندان کے قتلِ عام کا بدلہ لیا جائے گا۔

اتوار کو حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں چودہ بچے اور خواتین بھی شامل تھیں

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے غزہ سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ حملوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’یہ رکنا چاہیے۔ میں فریقین پر زور دیتا ہوں کہ وہ فوری فائر بندی کے لیے مصری صدر کی قیادت میں جاری کوششوں کے لیے تعاون کریں‘۔

اسرائیل کے فوجی ترجمان یاؤ موردیسائی نے مقامی ٹی وی کو بتایا کہ اس حملے کا اصل ہدف’حماس کے راکٹ پھینکنے والے یونٹ کے سربراہ یحیی ربیعہ تھے لیکن اس میں عام شہری مارے گئے‘۔

امدادی ادارے سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ غزہ میں آبادی کو پانی اور خوراک کی قلت کا سامنا ہے اور زیادہ تر لوگ اپنے مکانات میں محصور ہیں اور انہیں دن میں اٹھارہ گھنٹے تک بجلی کی فراہمی میں تعطل کا سامنا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اتوار کو غزہ سے اسرائیل پر ایک سو چھیالیس راکٹ فائر کیے گئے جن میں سے ایک سو پانچ مختلف علاقوں میں گرے جبکہ اکتالیس کو حفاظتی نظام کی مدد سے تباہ کر دیا گیا۔

اشکیلون نامی شہر میں فضائی حملے کے سائرن سارا دن بجتے رہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس شہر میں راکٹ حملوں میں دو افراد شدید جبکہ دس معمولی زخمی ہوئے۔

امورِ مشرقِ وسطیٰ کے لیے بی بی سی کے مدیر جیریمی بوئن کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ تنازع باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کرتا نہیں دکھائی دے رہا تاہم اگر فریقین نے لڑائی بند کرنے کی اپیلوں پر عمل نہ کیا تو یہ بھی چار برس قبل ہونے والی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

اسرائیل کا اگلا قدم کیا ہوگا؟

سنیچر کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس کے وزیرِ اعظم اسمائیل ہنیہ کے دفتر پر کیے گئے ڈرون حملے کی ویڈیو جاری کی۔

وزیرِ اعظم ہنیہ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔ حماس کی دیگر قیادت کی طرح، وہ بھی اسرائیل کی جانب سے براہِ راست دھمکیوں کے بعد، کسی نامعلوم مقام پر چلے گئے ہیں۔ تاہم ان کے دفاتر کو زمین بوس کر دیا گیا ہے۔

آج صبح ہم نے جائے وقوع کا دورہ کیا۔ یقیناً حملے سے پہلے یہ ایک اعلیٰ شان عمارت ہوگی۔ بظاہر ان دفاتر کو کئی بار نشانہ بنایا گیا اور دھماکوں نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

چند فلسطینی جھنڈے ہوا میں ہلکے ہلکے لہرا رہے تھے اور وہاں تعینات محافظ ایک اور حملے کے خطرے کے پیشِ نظر لوگوں کو فاصلہ رکھنے کو کہہ رہے تھے۔

اس سب سے ایک سوال اٹھتا ہے۔ حماس کے عسکری صلاحیت کو اس قدر نقصان پہنچا کر کیا اسرائیل اپنا کام تقریباً مکمل تصور کر رہا ہے یا پھر وہ ایک دوسری لہر کی تیاری کر رہے ہیں۔۔۔ جس میں حماس کو غزہ میں بطور ایک سیاسی قوت ختم کر دیا جائے۔

گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں غزہ سے اسرائیل کی جانب نسبتاً کافی کم راکٹ داغے گئے ہیں اور شاید یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سینکڑوں اسرائیلی فضائی حملوں نے اپنا اعلان شدہ ہدف حاصل کر لیا ہے یعنی اسرائیلی شہریوں کا تحفظ۔

اتوار کی صبح غزہ میں ایک اور مقام پر ہمیں مزید شواہد ملے کہ اسرائیل اپنا آپریشن وسیع تر کرنے کو تیار ہے اور خالصتاً فوجی اہداف سے بڑھ کر دیگر مقامات کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔

جبالیا غزہ پٹی کے گنجان آباد ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ کیمپ کے درمیان میں ایک تباہ شدہ مکان تھا جو مقمامی افراد کے مطابق ایک حماس اہلکار کا تھا۔ گذشتہ شب اسے اسرائیلی حملے میں تباہ کر دیا گیا تھا۔

حماس اہلکار کو اس حملے میں کچھ نہیں ہوا تاہم ان کے کئی پڑوسی بری طرح زخمی ہوئے۔ اس قدر گنجان آباد علاقے میں اسرائیل چاہے جس قدر بھی ’سرجیکل‘ حملے کر لے، ہمیشہ ہی عام شہری ہلاک ہوں گے۔

اسرائیل نے اپنا اگلا قدم واضح نہیں کیا ہے۔ اگر حملوں کا پہلا مرحلہ ختم ہو گیا ہے تو کیا وہ چار سال قبل کی طرح زمینی فوج غزہ میں بھیجے گا؟

اگر اسرائیل نے حماس کی عسکری قیادت سے حکمتِ عملی تبدیل کر کے سیاسی قیادت پر مرکوز کی تو انہیں یقینی طور پر کمزور کیا جا سکتا ہے، شاید ہلاک بھی کیا جا سکتا ہے۔

تاہم حماس کا مکمل خاتمہ، جس میں ہزاروں نوجوان مرد مسلح بریگیڈ کا حصہ ہیں، ایک بے سود قدم ہوگا جس میں مزید اسرائیلی اور فلسطینی جانوں کا نقصان ہوگا۔

اس وقت حماس کے مسلح جنگجوؤں اور ان کے سیاسی سربراہان کے لیے راستے واضح ہیں مگر سب سے اہم فیصلے ابھی اسرائیل کو کرنا ہیں۔

اسرائیل چند روز میں اپنے ابتدائی مقاصد کو پورا کر کے فوجی آپریشن ختم کر سکتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل ان حملوں کا دوسرا مرحلہ شروع کر سکتا ہے۔

یہ وہ فیصلہ ہے جس کے منتظر غزہ کے رہائشی، اسرائیلی اور باقی ساری دنیا کے لوگ ہیں۔

حملے کا چھٹا دن:تصاویر

  • اسرائیلی فضائی حملے کے بعد لوگ ملبے سے سامان اور زخمیوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
  • اتوار کی شب اور پیر کو ہونے والے اسرائیلی حملوں میں دو بچوں سمیت مزید اٹھارہ فلسطینیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
  • امدادی ادارے سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ غزہ میں آبادی کو پانی اور خوراک کی قلت کا سامنا ہے اور زیادہ تر لوگ اپنے مکانات میں محصور ہیں۔
  • اسرائیلی فوج کے مطابق اتوار کو غزہ سے اسرائیل پر ایک سو چھیالیس راکٹ فائر کیے گئے جن میں سے ایک سو پانچ مختلف علاقوں میں گرے۔
  • اسرائیلی فوجی غزہ اور اسرائیلی سرحد پر حملوں کی تیاری کرتے ہوئے۔
  • اتوار کو ہونے والے حملوں میں ایک ہی کنبے کے گیارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جنہیں آخری رسومات کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔
  • فلسطینی سول ڈیفینس کے کارکن ملبے سے ایک زخمی شخص کو باہر نکال رہے ہیں۔
  • اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فلسطینی اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ چھٹے روز بھی جاری ہے اور اب تک اسّی فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں ۔ یہ منظر غزہ کا ہے جہاں ایک اسرائیلی حملے کے نتیجے میں علاقے سے زبردست دھواں اٹھ رہا ہے۔
  • غزہ کے مختلف علاقوں میں اس طرح کے حملے ہورہے ہیں۔
  • پیر کی صبح ایک اسرائیلی فوجی اپنے ٹینکوں کے ساتھ موجود ہے۔ تازہ اسرائیلی حملوں میں دو بچوں سمیت مزید اٹھارہ فلسطینیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
  • اسرائیل کی جانب سے حملوں کے نتیجے میں غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
  • ایک اسرائیلی ٹینک بٹالین کے فوجی غزہ کی سرحد کے قریب صبح کے وقت دعا کر رہے ہیں۔
  • ایک اسرائیلی میزائیل غزہ کی جانب سے آنے والے راکٹ کو مار گرانے کے لیے فضا میں بلند ہو رہا ہے۔ اس طرح کی کئی میزائیل بیٹریاں اسرائیل کا ’آئرن ڈوم‘ نامی حفاظتی حصار بناتی ہیں۔
  • اسرائیل کی جانب سے حملوں کے خلاف احتجاج کرتا ہوا ایک فلسطینی طالب علم۔
  • اسرائیل پر داغے جانے والے راکٹوں کی تعداد میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔
  • غزہ میں ایک خاتون اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ اپنے گھر کی کھڑکی سے تباہی کا منظر دیکھ رہی ہے۔
  • اسرائیل نے بدھ کے بعد سے نو سو مقامات کو غزہ میں نشانہ بنایا ہے جبکہ غزہ کی جانب سے بھی نو سو کے قریب راکٹ داغے گئے ہیں۔


فلسطینی علاقوں کا خاکہ

فلسطینیوں کی ایک کروڑ سے زائد کی آبادی دو حصوں میں بٹ گئی ہے جس کا ایک حصہ تاریخی فلسطین کے علاقوں میں جبکہ دوسرا حصہ پڑوسی عرب ممالک میں تارکین وطن کی حیثیت سے مقیم ہے۔

اسرائیل کے ساتھ مسلسل چپقلش اور تارکین وطن فلسطینیوں کی حیثیت پر محاذ آرائی کی وجہ سے غزہ اور غرب اردن میں فلسطینی ریاست قائم کرنے کی کوششیں ناکام ہوگئیں ہیں۔

سنہ انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کی طرف سے آزادی کا اعلان کرنے کے بعد ہونے والی جنگ میں فلسطینی علاقے اسرائیل، شرق الاردن اور مصر کے درمیان تقسیم کیے گئے۔ غرب اردن، اردن اور غزہ مصر کے زیر انتظام رہا۔ فلسطین کی قومی تحریک بتدریج غرب اردن، غزہ اور پڑوسی ملکوں میں قائم مہاجرین کے کیمپوں میں شروع ہوئی۔

سنہ انیس سو سڑسٹھ کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ سے کچھ ہی عرصہ پہلے تحریک آزادی فلسطین (پی، ایل، او) ایک بڑی نمائندہ تنظیم کی حیثیت سے سامنے آئی۔

حقائق

  • آبادی: چار کروڑ چالیس لاکھ (اقوام متحدہ، 2010)
  • مستقبل کا دارالحکومت: مشرقی یروشلم (رملہ انتظامی دارالحکومت ہے)
  • رقبہ:5970 مربع کلو میٹر،غرب اردن 2305 اور غزہ 365 مربع کلو میٹر( فلسطین کی وزارت اطلاعات)
  • بڑی زبان: عربی
  • بڑے مذاہب: اسلام ، عیسائیت
  • اوسط عمر: مرد: 73 سال ، عورت:76 سال (اقوام متحدہ)
  • سکہ: 1 اردن دینار= 1000 فلز، 1 اسرائیلی شیکل= 100 اگاراٹ
  • برآمدات: سیٹرس(مالٹا، لیموں)
  • کل قومی آمدنی فی کس: 1230 امریکی ڈالر(عالمی بینک 2007 )
  • انٹرنیٹ ڈومین: پی ایس
  • بین الاقوامی ڈائلنگ کوڈ: 970 +

یاسر عرفات کی سربراہی میں تحریک آزادی فلسطین کو دھیرے دھیرے بین الاقوامی سطح پر فلسطینی عوام کی نمائندہ تنظیم کے طور پر تسلیم کیا گیا جس کی وجہ سے تحریک آزادی فلسطین اور اسرائیل کے درمیان انیس سو ترانوے میں اوسلو معاہدہ بھی ہوا۔ اس معاہدے کے تحت غرب اردن اور غزہ کے علاقوں کا عبوری انتظام سنبھالنے کے لیے فلسطین کی قومی اتھارٹی قائم کی گئی لیکن باہمی طور پر قابل قبول حل نہ ہونے کی وجہ سےاتھارٹی میں مشرقی یروشلم کا علاقہ شامل نہیں تھا۔

علاقے میں جاری تشدد اور اسرائیل کی طرف سے آباد کاری جیسے مسائل نے مستقل بنیادوں پر حل تلاش کرنے کے عمل کو متاثر کیا جس کی وجہ سے طرفین نے کیے گئے معاہدوں کی اہمیت پر سوال اٹھائے۔ حماس تحریک، جس نے سنہ دو ہزار سات میں غزہ کا کنٹرول سنبھالا، اوسلو معاہدے کو کھلے عام رد کرتی ہے۔

فلسطین کی قومی اتھارٹی، تحریک آزادی فلسطین کی ایک ایجنسی کے طور پر کام کرتی ہے اور بین الاقوامی اداروں میں فلسطین کے لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

فلسطین کی قومی اتھارٹی کا سربراہ ایک براہ راست منتخب کیا گیا صدر کرتا ہے جو وزاعظم اور حکومتی اہل کاروں کو بھی تعینات کرتا ہےاس کے لیے منتخب قانون ساز کونسل کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس اتھارٹی کی سویلین اور سکیورٹی عمل داری شہری علاقوں جسے علاقہ ’اے‘ کہتے ہیں تک محدود ہے۔ جبکہ دیہی علاقے جسے علاقہ ’بی‘ کہتے ہیں، میں اتھارٹی کی صرف سویلین عمل داری ہوتی ہے۔

اسرائیلی کنٹرول

اسرائیل کو وادیِ اردن، اسرائیلی آبادی اور بائی پاس سڑکوں پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اس کی فورسز مسلح افراد کا پیچھا کرتے ہوئے شہری علاقوں میں بھی داخل ہوتی ہیں۔

تحریک آزادی فلسطین کا ایک فتح نامی گروہ سنہ دو ہزار چھ تک اتھارٹی چلاتا رہا۔ اس کے بعد قانون ساز کونسل کے انتخابات حماس نے جیت لیے۔ اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور حماس کی حکومت کے درمیان خراب تعلقات کی وجہ سے فتح اور حماس تنظیموں کے درمیان خونریزی کے بعد حماس نے جون سنھ دو ہزار سات میں غزہ کےاقتدار پر قبضہ کر لیا اور صدر محمود عباس نے حماس کی حکومت تحلیل کر دی۔ تب سے فلسطینی اتھارٹی کے علاقے غرب اردن فتح کے زیر اتنظام ہے اور غزہ حماس کے کنٹرول میں ہے۔ مصر کی طرف سے دونوں فلسطینی دھڑوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے لیکن ابھی تک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

فلسطینی ریاست

فلسطینی اتھارٹی نے سنہ دو ہزار گیارہ میں اقوم متحدہ سے ’فلسطینی ریاست‘ کو تسلیم کرانے کی کوشش کی تھی جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں ٹھہراؤ کو بھی اجاگر کرنا تھا۔ حمایت نہ ہونے کی وجہ سے یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی لیکن ثقافت اور تعلیم کے لیےاقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے ’فلسطین ریاست‘ کو اکتوبر میں تسلیم کیا۔

غرب اردن میں اکتوبر سنہ دو ہزار بارہ میں ہونے والے انتخابات میں فتح کی پوزیشن خراب ہوئی کیوں کہ انھیں قانون ساز کونسل میں صرف چالیس فیصد نشستیں ملیں۔ انتخابات میں پچپن فیصد ووٹروں نے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔ فتح کو گیارہ میں سے بڑے شہروں کی چار نشستیں ملی جب کہ آزاد اور بائیں بازوں کے نمائندوں کو نشستوں کا پانچواں حصہ ملا۔ حماس نے غرب اردن میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور غزہ میں انتخابات نہیں کروائے۔

علاقے میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے فتح کی سربراہی میں فلسطین کی قومی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان بین الاقوامی تعاون سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے لیکن یروشلم جسے دونوں طرفین اپنے ملک کا دارالحکومت کے طور پر مانتے ہیں، فلسطینی تارکین وطن اور اسرائیلی آباد کاری جیسےمسائل مستقل حل کی طرف پیش رفت میں رکاوٹ ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی نے سنہ دو ہزار گیارہ میں اقوام متحدہ سے ’فلسطینی ریاست‘ کو تسلیم کرانے کی کوشش کی تھی جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں ٹھہراؤ کو بھی اجاگر کرنا تھا۔ حمایت نہ ہونے کی وجہ سے یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی لیکن ثقافت اور تعلیم کے لیےاقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے ’فلسطین ریاست‘ کو اکتوبر میں تسلیم کیا۔

بہرحال اسرائیل اور حماس کے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت سے انکار اور پر تشدت جھڑپیں اور بین الاقوامی سطح پر سردمہری کی وجہ سے علاقے میں دیر پا امن کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔

بڑے رہنما

محمود عباس

فلسطینی اتھارٹی کے سابق وزارعظم اور فتح تنظیم کے صدارتی امیدوار محمود عباس نے جنوری دو ہزار پانچ میں انتخابات جیت کر مرحوم فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی جگہ لے لی اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر بن گئے۔

محمود عباس ابو میزان کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ یاسر عرفات کی موت کے بعد وہ تحریک آذادی فلسطین یا (پی ایل او) سربراہ بن گئے تھے۔ وہ سنہ انیس سو انہتر سے یاسر عرفات کے نائب کے طور پر کام کر رہے تھے۔

محمود عباس سنہ انیس سو پینتیس میں سفید نامی علاقے میں پیدا ہوئے جو آج کے شمالی اسرائیل میں ہے۔ انھوں نے یاسر عرفات کے ساتھ مل کر انیس سو پچاس میں فتح تنظیم کی بنیاد ڈالی۔

انھوں نے سنہ انیس سو ستر کی دہائی میں بائیں بازو کے اسرائیلیوں سے رابطے قائم کیے۔ محمود عباس کو سنہ انیس سو ترانوے کے اوسلو معاہدے کا خالق سمجھا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی قیام میں آئی۔

اسماعیل ہنیہ

حماس کے سب سے زیادہ جانے پہچانے رہنما اسماعیل ہنیہ ہیں۔ وہ سنہ دو ہزار چھ کے انتخابات میں فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم منتخب ہوئے اور اب وہ غزہ میں حماس کی طرف سے انتظامیہ کے سربراہ ہیں۔

اسماعیل ہنیہ سنہ انیس سو باسٹھ میں غزہ کے شمال میں شاطی علاقے میں واقع ایک مہاجر کیمپ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے حماس تنظیم میں ترقی کی اور سنہ دو ہزار چھ میں قانون ساز کونسل کے انتخابات میں کامیابی کے بعد صدر محمود عباس نے انھیں وزیراعظم تعینات کیا لیکن جلد ہی ان کی حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب بین الاقوامی رفاہی اداروں نے ان کی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے یہ شرط رکھی کہ حماس تشدد کا راستہ ترک کرے اور اسرائیل کو تسلیم کرے۔

حماس اور فتح کے درمیان محاذ آرائی کے بعد صدر محمود عباس نے ان کی حکومت تحلیل کردی۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔