لندن: بلند ترین عمارت کے مستقبل پر سوالیہ نشان

آخری وقت اشاعت:  پير 19 نومبر 2012 ,‭ 15:56 GMT 20:56 PST
لندن

کساد بازاری کے سبب لندن کے تجارتی علاقے میں بننے والی کئی اہم عمارتوں کو کرائے دار نہیں مل رہے

لندن کی سب سے اونچی عمارت کی تعمیر کا منصوبہ اب شاید کبھی حقیقت نہ بن سکے۔ یہ بات ’شارڈ ‘ کہلانے والی عمارت کے ایک اہم آرکیٹیک نے بی بی سی کی ایک تفتیش میں بتائی ہے۔

بی بی سی کے پروگرام ’اِنسائڈ آؤٹ‘ کی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ اس عمارت کو ایک بھی کرائے دار نہیں ملا ہے۔ یہ صورتحال آٹھ سال پہلے کے بالکل بر عکس ہے جب سنہ 2004 میں لندن میں ایک اور نئی اور نمایاں عمارت ’دا گرکِن‘ کی تمام منزلیں عمارت کی افتتاح سے پہلے ہی کرائے پر اٹھ چکی تھیں۔

بی بی سی کی اس تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ شہر میں جاری کئی اور بڑے تعمیراتی پروجیکٹ ایسے ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے تعطل کا شکار ہوچکے ہیں اور جن کا مستقبل غیر واضح ہے۔

اس تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ کروڑوں پاؤنڈ کی لاگت سے بننے والے کم از کم چھ ایسے اہم تعمیراتی پروجیکٹ ہیں جو یا تو روک دیے گئے ہیں یا پھر منسوخ کردیے گئے ہیں۔

جن عمارتوں کا کام روک دیا گیا ہے ان میں اہم عمارت ’پِناکل‘ شامل ہے ۔ یہ برطانیہ میں بننے والی دوسری سب سے اونچی عمارت ہوتی۔ یہ شہر کے نئے تجارتی اور مالیاتی علاقے کنیری وارف میں زیر تعمیر ہے۔ اس کی تعمیر کا کام سنہ 2009 میں شروع ہوا تھا لیکن اب اسے روک دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ’پِناکل‘ کی تعمیر کا کام سنہ 2013 تک دوبارہ شروع نہیں ہوسکے گا۔

شارڈ نامی عمارت کے منصوبے سے منسلک ایک آرکیٹکٹ (معمار) لی پولیسانو نے بی بی سی کو بتایا ’میرا یقین یہ ہے جو عمارت اب بنے گي وہ اس عمارت سے مختلف ہوگی جو یہاں کھڑی ہے ۔‘

ان کا کہنا تھا ’یہ بے حد شرم کی بات ہے کہ ہمارے پاس شہر کے ایک اہم علاقے میں زمین ہے لیکن وہ خالی پڑی ہے ۔‘

لی پولیسانو کے علاوہ اس پروجیکٹ سے منسلک کسی اور آرکیٹیکٹ نے اس بارے میں کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

تعمیراتی صنعت کے پروفیشنل افراد کی یونین کے علاقائی سکریٹری جیری سویئن کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کی حالت سے تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والوں کو درکار مشکلات واضح ہوتے ہیں ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پنکال عمارت کی تعمیر کسادبازاری کے اثرات کی سب سے نمایا مثال ہے۔

ان کے مطابق ’اس پروجیکٹ کی یہ حالت دیکھنا انتہائی افسوسناک ہے‘۔

پچھلے کچھ سالوں میں لندن میں جو بڑی عمارتیں تعمیر ہوئی ہیں ان میں سے بیشتر خالی پڑی ہیں۔

تاہم معمار تنظیم ’لندن سینٹر فار دا بِلٹ اینوائرومنٹ‘ کے چئرمین پیٹر مرے کا کہنا تھا کہ صورتحال تشویشناک نہیں ہے اور اس میی بہتری کا امکان ہے ’ہر مرتبہ کساد بازاری کی صورت میں کہا جاتا ہے کہ یہ عمارت کیوں بنائی گئی یا ان دفاتر کی ضرورت ہی نہیں تھی لیکن جب معیشت بہتر ہوئی تو ہم نے ہمیشہ یہ دیکھا کہ ان دفاتر کی بہت مانگ ہوتی ہے۔ میں لندن کے تجارتی علاقے دا سٹی کے بارے میں پر امید ہوں، اس

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔