افریقہ کی پہلی خاتون اینگلیکن بِشپ

آخری وقت اشاعت:  منگل 20 نومبر 2012 ,‭ 16:02 GMT 21:02 PST
ایلینا وانوکویا

ایلینا وانوکویا افریقہ کے اینگلیکن چرچ کی پہلی خاتون آرچ بِشپ ہیں

سدرن افریقہ کے اینگلیکن چرچ نے بشپ کے منصب پر پہلی بار ایک خاتون کو فائز کیا ہے۔

ایلینا وانوکویا اکسٹھ برس کی ہیں اور وہ قدامات پسند ملک سوازی لینڈ کے چرچ کی بشپ ہوں گی۔

ان کو بشب کے منصب پر فائز کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب چرچ آف انگلینڈ میں بھی کسی خاتون کے بشپ بننے سے متعلق ووٹ ہونے والا ہے۔

کیپ ٹاؤن کے آرچ بشپ کا کہنا ہے کہ ’ہم نے یہ قدم اٹھایا ہے اور ہماری خواہش ہے کہ اس ہفتے چرچ آف انگلینڈ بھی مثبت فیصلہ کرے۔‘

ایلینا وانوکویا کے آرچ بِشپ بننے کی تقریب میں ڈیوڈ ڈینگبوچالنے کہا’ اجتماع کا مقصد ایک بشپ کو منصب پر فائز کرنا تھا، نہ کہ ایک سیاہ فام خاتون، نہ ایک افریقن اور نہ ہی ایک سوازی لینڈ کی خاتون۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ آرچ بِشپ ’ سیاہ فام، سفید فام، خاتون ، مرد اور اپنی عملداری کے تمام علاقوں کے لیے پاسٹر یعنی روحانی رہنما ہوں گی۔‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بشپ وانوکویا سوازی لینڈ کے دارالحکومت ممبانے کی سابق میئر ہیں۔

انہوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں خدا کی ماں کی صفت کی نمائندگی کرنے کی کوشش کرنے جا رہی ہوں۔‘

’ماں دیکھ بھال کرنے والی شخصیت ہوتی ہے، ماں جو کچھ بھی کر رہی ہو اسے اس میں مضبوط ہونا چاہیے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔