’غزہ میں گھروں سے باہر نکلنا مشکل‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 21 نومبر 2012 ,‭ 20:24 GMT 01:24 PST

غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں سو سے زائد فلسطینی ہلاک ہوگئے

اگر حساب لگایا جائے تو اسرائیل غزہ میں تقریباً ہر پانچ سے سات منٹ میں ایک فضائی حملہ کرتا ہے۔ایسی صورتحال میں وہاں کسی کا گھر سے باہر نکلنا ممکن نہیں اور باہر چلنا پھرنا محفوظ نہیں۔

غزہ میں ہماری تنظیم کے کارکن اب بھی موجود ہیں اور میری ان سے ہر روز ٹیلی فون پر بات چیت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ میری وہاں ہماری تنظیم کے ساتھ کام کرنے والی مقامی تنظیموں سے بھی بات ہوتی ہے۔

مسلسل فضائی حملوں کی وجہ سے وہ لوگ بھی گھروں سے باہر نہیں نکل پا رہے جنہیں طبی امداد کی ضرورت ہے، اس میں وہ بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں جنہیں چوٹیں آئیں ہیں اور ان کا علاج گھر میں نہیں ہو سکتا۔

ہسپتالوں میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وہاں تیل ختم ہو رہا ہے جس کی وجہ سے جنریٹر نہیں چل سکتے اور ادویات ختم ہو رہی ہیں۔

ہماری تنظیم غزہ کی ایک مقامی تنظیم فلسطینی میڈیکل سوسائٹی کے ذریعے وہاں چھ کنٹینرز بھیج رہی ہے جس میں میڈیکل سپلائی اور ضروری ادویات شامل ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں گزشتہ کارروائی کے دوران وہاں ہماری تنظیم کے ایک ڈرائیور کمال نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر لوگوں میں خوراک اور پانی تقسیم کیا تھا لیکن اس بار ان کا کہنا ہے کہ وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتے اور اگر وہ گھر سے باہر نکلے تو اپنی جان کو خطرے میں ڈالیں گے۔

لوگوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے کیونکہ مقامی کسان فصل کی پیدوار حاصل نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے تازہ سبزیاں اور پھل دستیاب نہیں اور یوں لوگوں کو زندگی سے جڑی بنیادی ضروریات حاصل کرنے میں پریشانی کا سامنا ہے۔

میں ایک ماہ پہلے غزہ میں ایک پراجیکٹ کے سلسلے میں گیا تو وہاں مصطفیٰ نامی شہری سے ملاقات ہوئی جو کھیتی باڑی کرتے تھے۔ ان کا مکان بفر زون میں ہے، اسرائیل اور غزہ کو تقسیم کرنے والی لائن کے پانچ سو میٹر کے اندر غزہ کے علاقے کو بفر زون کہا جاتا ہے اور یہ زیادہ تر کھیتی باڑی کے کام آتا ہے، اس علاقے میں آپ جا نہیں سکتے کیونکہ اگر آپ جائیں گے تو اسرائیلی فوجی آپ پر گولی چلائیں گے۔

مصطفیٰ کو جب بھی اپنے فصل لینی ہو توانہیں بفر زون میں جانا پڑتا ہے اور کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ وہ فصل حاصل نہیں کر پاتے، اور اس وقت جاری جنگ کی وجہ سے بفر زون سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اب بھی مصطفیٰ کے مویشی بفر زون میں چارے کے لیے نہیں جا سکے گے، اور ان کو گھر کے اندر، دودھ، دہی اور سبزیاں دستیاب نہیں ہوں گی۔

اسرائیلی کارروائی سے پہلے بھی غزہ میں لوگوں کے لیے زندگی بسر کرنا مشکل تھا کیونکہ اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی تھی۔

میں پہلی دفعہ غزہ دو سال پہلےگیا تھا۔ جب میں اسرائیل کی سرحدی چیک پوائنٹ سے گزر کر غزہ میں داخل ہونے لگا تو مجھے بلکل بھی یقین نہیں ہوا کہ دنیا میں اب بھی ایسی جگہیں موجود ہے ۔آپ جب ایک پنجرے کی مانند جگہ سے گزرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی کتنی ناقابل قبول ہے اور بنیادی طور پر غزہ کو دنیا سے کتنا الگ تھلگ رکھا گیا ہے۔

غزہ کا دنیا سے کوئی رابط نہیں ہے۔اس صورتحال میں غزہ سے کسان اور تاجر اپنا سامان باہر نہیں بھیج سکتےاور نہ باقی دنیا سے سامان اندر غزہ میں آ سکتا ہے، اس کے علاوہ وہ تمام لوگ جو بیمار ہوتے ہیں اور جنہیں ہسپتال میں فوری جانے کی ضرورت ہوتی ہے تو انہیں اس کے لیےاجازت لینا پڑتی ہے۔ کئی بار انہیں بروقت اجازت بھی نہیں ملتی۔

اس کے علاوہ غزہ میں پانی، انجینئیرنگ اور تعمیراتی سامان دستیاب نہیں ہے اور اس کی وجہ سے اب بھی لوگ ٹوٹے مکانوں میں رہ رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔