نیویارک میں مؤذن پر حملہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 21 نومبر 2012 ,‭ 05:31 GMT 10:31 PST

نیویارک میں ایک حملہ آور نے ایک مسجد کےمؤذن کو چھریوں کے وار کر کے زخمی کردیا ہے جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

منگل کی صبح نیویارک کے کویئنز کے علاقے میں افغان نژاد تارکینِ وطن کی ایک آبادی کی مسجد الصالحین کے صدر احمد وئیش نے بتایا ہے کہ مسجد کے مؤذن احمد پیر کی صبح چار بجے جب فجر کی اذان کے لیے مسجد کا دروازہ کھول رہے تھے تو ایک شحص ان کی طرف بڑ[ھا اور پوچھا ُُکہ کیا وہ مسلمان ہیں؟

احمد وئیش کے مطابق جب مؤذن احمد نے ان سے پوچھنے والے شخص کو جواب ہاں میں دیا تو اس شخص نے چھریوں کے وار کر کے مؤذن کوشدید زخمی کردیا۔ احمد و‏ئیش نے مطابق مؤذن پرحملہ آور نے چھریوں کے پانچ وار کیے، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

مسجد کے صدر احمد وئيش نے چشم دید گواہوں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور سفید فام نسل کا تھا۔

ادھر واقعے کے بعد پولیس اطلاع پر فوری طور جائے واردات پر پہنچ گئی اور تب سے ایک پولیس کار مسجد کے باہر حفاظت کے طور پر کھڑی ہے تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

پولیس نے مشتبہ ملزم کے حلیے پر مبنی خاکہ جاری کردیا ہے۔

علاقے کے لوگوں نے بتایا ہے کہ مسجد سے متصل علاقے میں واقعے کے بعد خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

علاقے کے مکینوں کے مطابق اس واقعے کے بعد سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

مسجد کے صدر احمد وئیش نے مسلم کمیونٹی سے صبر و تحمل کی اپیل کی ہے اور پولیس کی کارگردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان ایسا کوئی عمل نہ کریں جس سے ان کی بدنامی ہو۔

اس علاقے میں بڑی تعداد میں افغان آباد ہیں جو افغانستان میں انیس سو اناسی میں روسی مداخلت اور پھر افغان جنگ کے دوران نقل وطنی کر کے یہاں آ بسے تھے۔

ادھر نیویارک پولیس کے سربراہ کمشنر ریمنڈ کیلی کا کہنا ہے کہ نیویارک پولیس کو ایک مشتبہ سیریئل قاتل کی تلاش ہے جس کا نشانہ ایک ایرانی نژاد شخص رحمت ولیٰ وحید پوری سمیت اب تک تین تارکین وطن بزنس مین ہوسکتے ہیں۔ قاتل کے طریقۂ واردات سے لگتا ہے کہ اس کا ہدف مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔

اتوار کی شام قتل ہوجانے والے اٹھہتر سالہ ایرانی کی بیٹی یاسمین نے پولیس کو بتایا ہے کہ ان کے والد کو ایک شخص نے اس وقت گولی ماردی جب وہ اپنی بوتیک یا فیشن کی دکان بند کر رہے تھے۔

ایرانی نژاد تارک وطن رحمت ولی وحید پوری گذشتہ بیس سال سے امریکہ میں رہائش پذیر تھے۔

اس سے قبل اگست میں بروکلین ہی کے علاقے میں مشرق وسطی سے تعلق رکھنے والے دو بزنس مین بھی ہلاک کیے جاچکے ہیں۔ پولیس کے مطابق مشتبہ قاتل کا طریقۂ واردات ایک سا لگتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔