آسٹریلیا: سینڈی جزیرے کا کوئی وجود نہیں

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 22 نومبر 2012 ,‭ 17:08 GMT 22:08 PST
سینڈی جزیرہ

سائنسدانوں کا کہنا ہے اس جزیرے کا وجود صرف نقشوں میں ہے۔

عام طور پر سنا جاتا ہے کہ مہم جوؤں نے کوئی ایسی جھیل، چوٹی یا جزیرہ ڈھونڈ نکالا جس کا پہلے دنیا کو پتا نہیں تھا۔ لیکن اب اس کے برعکس کچھ سائنس دانوں نے ایک بظاہر موجود جزیرے کو غائب کر دیا ہے۔

آسٹریلیا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عالمی نقشوں اور گوگل ارتھ پر دکھائے جانے والے ایک جزیرے سینڈی کا کوئی وجود نہیں ہے۔

جنوبی بحرالکاہل کے اس جزیرے کو سینڈی آئی لینڈ کا نام دیا جاتا ہے اور نقشوں میں اسے آسٹریلیا اور فرانس زیرنگیں نیو کیلی ڈونیا کے علاقے کے بیچ سمندر میں بڑی زمینی پٹی کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔

لیکن جب سڈنی یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم اس کی تلاش میں نکلی تو انھیں وہاں صرف آبی حیات سے مالامال نیلے مرجان کا سمندر نظر آیا۔

اس آسیبی جزیرے کے بارے میں کم از کم ایک دہائی قبل سے باتیں کی جا رہی ہیں اور کئی طرح کی اشاعتوں میں اس کا ذکر ملتاہے۔

جزیرے کی تلاش میں جانے والے جہاز پر موجود سائنس داں ماریہ سیٹن کا کہنا ہے کہ ’ان کی ٹیم زمین کا حصہ دیکھنے کی امید کر رہی تھی نہ کہ چودہ سو میٹر گہرا سمندر۔‘

سڈنی یونیورسٹی کی سائنس داں ڈاکٹر سیٹن نے پچیس دن کے سفر کے بعد خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم اسے جانچنا چاہتے تھے کیونکہ جہاز پر موجود چارٹ میں چودہ سو میٹر گہرا پانی دیکھا یا جا رہا تھا۔‘

سینڈی

ایک نقشے میں اس جزیرے کو اس طرح دکھایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا: ’گوگل ارتھ اور دیگر نقشوں میں اسے دیکھایا گیا ہے اور اس لیے ہم اس کی جانچ کرنے گئے تھے لیکن وہاں کوئی جزیرہ نہیں تھا۔ یہ عجیب بات ہے۔ آخر وہ نقشوں پر کس طرح آ گیا؟ ہم نہیں جانتے لیکن ہم اس کے بارے میں جانچ کریں گے۔‘

آسٹریلیا کے اخباروں میں کہا گیا ہے کہ یہ نہ نظر آنے والا جزیرہ اگر وجود رکھتا ہے تو وہ فرانسیسی خطے کے تحت آئے گا لیکن فرانس کے سرکاری نقشے میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔

آسٹریلیا کی ہائڈروگرافک سروس ملک کے لیے بحری چارٹ تیار کرتی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ چند سائنسی نقشوں اور گوگل ارتھ میں اس کا در آنا انسانی غلطی کا نتیجہ ہو سکتا ہے جو بار بار دہرایا جا رہا ہے۔

اس سروس کے ایک ترجمان نے آسٹریلیا کے اخبار کو بتایا کہ کچھ نقشہ بنانے والے کاپی رائٹ کے لیے اس طرح کی چیزیں شامل کر دیتے ہیں لیکن ناٹیکل نقشوں میں عام طور پر ایسا نہیں کیا جاتا۔

گوگل ارتھ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وہ نقشوں کی نشاندہی کرنے سے قبل ماہرین سے رائے ضرور لیتے ہیں۔

انھوں نے کہا، ’یہ دنیا متواتر بدلنے والی جگہ ہے اور ان تبدیلیوں کے ساتھ سب سے اونچے مقام پر قائم رہنا ایک نہ ختم ہونا والا کام ہے۔‘

سڈنی میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عام طور پر لوگ نئی جگہ دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن آسٹریلیا کی اس ٹیم نے اس کے برخلاف کام کیا ہے اور اب لوگ سینڈی جزیرے کو گم کرنے کے مقابلے میں اتر آئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔