بجٹ مذاکرات ناکام، ای یو سربراہ اجلاس ختم

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 24 نومبر 2012 ,‭ 21:43 GMT 02:43 PST

اس اجلاس کی ناکامی کے بعد اب اگلے سال کے شروع میں دوبارہ بجٹ پر بات چیت کی جائے گی۔

برسلز میں یورپی یونین کا سربراہ اجلاس آئندہ سات سال کے لیے یونین کے بجٹ پر کوئی سمجھوتہ کئے بغیر ختم ہو گیا۔

بی بی سی کے نمائندہ کا کہنا ہے کہ بحٹ کے حوالے سے اختلافات ختم کرنے کے لیے یورپین یونین کا دوسرا اجلاس بلانا پڑے گا لیکن یہ واضح نہیں کہ اختلاف رائے کیسے ختم ہوگا۔

ستائیس ملکوں کی تنظیم یورپین یونین یا ای یو کی بجٹ کی منظوری کے لیے سربراہ اجلاس برسلز میں بائیس اور تئیس نومبر کو برسلز میں منعقد ہوا۔

یورپین کونسل کے سربراہ ہرمین وان رومپے نے کہا کہ وہ پر اعتماد ہیں کہ اگلے سال بجٹ پر معاہدہ ہو جائے گا۔

ای یو کے سربراہان کی غریب اور امیر ای یو رکن ممالک کے درمیان فرق کو ختم کرنے پر بات چیت بھی ناکام ہو گئی۔ ای یو کے غریب ممالک کا انحصار زیادہ تر ای یو کی طرف سے مالی امداد پر ہوتا ہے۔

"ہم نے اکھٹے واضح پیغام دیا کہ ہم اپنے ملک کے اندر بجٹ میں کٹوتی کرکے یہاں پر ای یو کے بجٹ میں بڑے اضافے پر دستخط نہیں کریں گے۔"

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون

برطانیہ نے کہا کہ ای یو اپنے اخراجات کم کرے۔

برسلز میں بی بی سی کے نمائندے کرس مورس کے مطابق ای یو رکن ممالک کے درمیان اختلافات ایسے وقت میں کھل کر سامنے آئے جب خطے کو اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔

اگلے سال کے شروع میں بجٹ پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں لمبے عرصے کے ترقیاتی منصوبے خطرے میں پڑ جائیں گے۔

ہرمین وان رومپے نے اجلاس کے دوران فنڈز کی تقسیم میں ردوبدل کیا لیکن خرچ کی رقم نو سو تہتر بلین یورو کو برقرار رکھا۔

یورو زون یا جن ممالک میں یورو کرنسی رائج ہے ان میں جرمنی اور فرانس کا کردار بہت اہم ہے لیکن ان دونوں ممالک کے درمیان ابھی تک ای یو بجٹ پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ای یو کو اخراجات کم کرنے پر زور دیا۔

دوسری طرف برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے شاہ خرچیوں کے بارے میں خبر دار کیا۔

ای یو بجٹ پر بات چیت کی ناکامی سے چند دن پہلے یورو زون کے سترہ ممالک کے وزرائے خزانہ بھی یونان کے لیے امدادی رقم کی ترسیل کی شرائط پر اتفاق نہیں کر سکے۔ جس کی وجہ سے ای یو کے فیصلہ سازی کے عمل پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے صحافیوں کو بتایا کہ ہرمین وان رومپے کا تجویز کردہ بجٹ نہ صرف برطانیہ بلکہ کئی دوسرے ممالک کو بھی ناقابل قبول تھا۔

ان کا کہنا تھا ’ہم نے اکھٹے واضح پیغام دیا کہ ہم اپنے ملک کے اندر بجٹ میں کٹوتی کرکے یہاں پر ای یو کے بجٹ میں بڑے اضافے پر دستخط نہیں کریں گے۔‘

ای یو کی قانونی مسودے تیار کرنے والی کمیشن نےای یو بجٹ کے لیے 1.025 کھرب یورو کامطالبہ کیا ہے۔ اس مطالبے کی حمایت یورپی پارلیمان اور اس سے فائدے اٹھانے والے ممالک نے بھی کی ہے جن میں پولینڈ، ہنگری اور سپین شامل ہیں

جرمن چانسلر آنگیلا میرکل نے کہا کہ ’ بات چیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ بجٹ پر اتفاق رائے قائم کرنے کے امکانات موجود ہیں۔‘

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ اجلاس میں پیش رفت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ کوئی دھمکی نہیں دی گئی ، کوئی آخری بات نہیں ہوئی۔ آنگیلا میرکل اور میں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ معاہدہ کرنے کے لیے ہمیں تھوڑا وقت لینا چاہیئے۔‘

ای یو کی قانونی مسودے تیار کرنے والی کمیشن نےای یو بجٹ کے لیے 1.025 کھرب یورو کامطالبہ کیا ہے۔ اس مطالبے کی حمایت یورپی پارلیمان اور اس سے فائدے اٹھانے والے ممالک نے بھی کی ہے جن میں پولینڈ، ہنگری اور سپین شامل ہیں۔

اکثر ممالک نے ای یو کے بجٹ میں اضافے کی حمایت کی لیکن بجٹ کے لیے پیسے دینے والے ممالک نے اسے کفایت شعاری اپنانے والے معاشی حالات میں ناقابل قبول قرار دیا۔

ای یو میں بجٹ کے لیے زیادہ حصہ ڈالنے والے ممالک میں جرمنی ، برطانیہ ، فرانس اور اٹلی شامل ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔