جاپان کے آخری ننجا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 23 نومبر 2012 ,‭ 14:26 GMT 19:26 PST
ننجا ماسٹر

ننجا کی آرٹ کے متعلق آج تک راز کی ایک چادر سی لپٹی ہوئی ہے

جاپان میں شوگنز اور سمورائے کا دور تو کب کا ختم ہو چکا ہے، لیکن ابھی بھی ملک میں ایک یا دو ننجا ضرور باقی بچے ہیں۔

جاسوسی اور خاموشی سے قتل کرنے میں مشہور ننجاز اپنی مہارت نسل در نسل منتقل کرتے تھے لیکن اب ان کے مطابق وہ بس آخری ننجا ہی رہ گئے ہیں۔

لیکن اصل میں جاپان کے ننجاز ابھی تک ایک راز ہی ہیں۔ سمورائے امرا ان ننجاز کو جاسوسی، تخریب کاری اور دشمنوں کو ہلاک کرنے کے لیے کرائے پر حاصل کرتے تھے۔ یہ ننجاز کالے کپڑوں میں ملبوس ہوتے اور آنکھوں کے علاوہ ان کے جسم کا کوئی اور حصہ نظر نہیں آتا۔ جب تک وہ وار نہیں کرتے انہیں سائے میں تقریباً دیکھا ہی نہیں جا سکتا تھا۔

ستارے کی شکل کے شوریکن جسے دور سے دشمن پر پھینکا جاتا اور فوکیا نامی تیر پھینکنے والی نلکی جیسے ہتھیاروں سے لیس ننجاز، خاموشی مگر نہایت سفاکی سے اپنا کام کرتے تھے۔

اس کے لیے وہ ماہر تلوار باز بھی تھے۔ وہ اپنے ہتھیاروں کو صرف دوسروں کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اس سے پتھر کی دیواروں پر چڑھنے، قلعوں کے اندر چپکے سے داخل ہونے اور دشمنوں پر نظر رکھنے کے لیے بھی استعمال کرتے تھے۔

ان کے زیادہ تر مشن صیغۂ راز میں رکھے جاتے اس لیے ان کی کارروائیوں کے متعلق بہت کم سرکاری دستاویزات موجود ہیں۔ ان کے ہتھیار اور طریقۂ کار نسلوں سے زبانی ایک دوسرے کو منتقل ہوئے ہیں۔

اس کی وجہ سے ہی اس بارے میں فلم سازوں، ناول نگاروں اور مزاحیہ اداکاروں کو اپنے بے مہار تخیل کو استعمال کرنے کی اجازت ملی۔

ہالی وڈ کی فلمیں جیسا کہ ’اینٹر دی ننجا‘اور ’امیریکن ننجا‘ میں انہیں غیر معمولی کمالات کا پیکر دکھایا گیا ہے جو پانی پر بھی بھاگ سکتے ہیں، اور پلک جھپتے ہی غائب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جاپان کے آخری گرینڈ ماسٹر ننجا جینیچی کاواکامی ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ ناممکن ہے، اس سے قطع نظر کہ وہ کتنی تربیت حاصل کریں، ننجاز آخر کار انسان ہی ہوتے ہیں۔‘

تاہم ننجاز کے پاس ایسے لکڑی کے چپٹے ضرور ہوتے ہیں جن کی مدد سے سیدھے کھڑے رہ کر بھی پانی پر حرکت کی جا سکتی ہے۔

کاواکامی بان خاندان کے اکیسویں سربراہ ہیں، جس کے ترپن افراد کوکا ننجا قبیلے کے رکن رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے استاد ماسازو اشیدا سے چھ سال کی عمر میں ہی ننجا کی قسم ’ننجٹسو‘ کی تربیت لینا شروع کر دی تھی۔

"اس سے قطع نظر کہ وہ کتنی تربیت حاصل کریں، ننجاز آخر کار انسان ہی ہوتے ہیں"

جینیچی کاواکامی

’مجھے ایسا لگا کہ ہم کھیل رہے ہیں اور سوچا بھی نہیں کہ میں ننجسٹو سیکھ رہا ہوں۔‘

کاواکامی نے کہا کہ ’میں نے یہ بھی سوچا کہ کیا وہ مجھے چور بنانے کی تربیت دے رہے ہیں کیونکہ وہ مجھے بغیر آواز کیے چلنے اور لوگوں کے گھروں میں گھسنے کی تربیت دے رہے تھے۔‘

اس کے علاوہ جن چیزوں میں کاواکامی نے مہارت حاصل کی اس میں آتشگیر مادہ اور دوائیاں بنانا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں اب بھی کچھ جڑی بوٹیوں سے ایسا زہر بنا سکتا ہوں جو کہ کسی کو مارے گا تو نہیں لیکن (جسے یہ دیا جائے گا) وہ یہ ضرور سوچے گا کہ اسے کوئی چھوت کی بیماری لگ گئی ہے۔‘

کاواکامی نے انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور اپنے سوٹ اور ٹائی میں تو وہ کسی بھی جاپانی بزنس مین سے مختلف نہیں لگتے۔

لیکن جاپان کے آخری ننجا کا خطاب صرف ان کے پاس ہی نہیں ہے۔ اسی سالہ ماساکی ہتسومی بھی دعوے دار ہیں کہ وہ ایک اور ننجا ’توگاکورے قبیلے‘ کے رہنما ہیں۔

ہتسومی بین الاقوامی مارشل آرٹس کی تنظیم بنجیکان کے بانی ہیں جو پوری دنیا میں تین لاکھ افراد کو تربیت دے رہی ہے۔ ان میں فوج اور پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

ہتسومی نے جیمز بانڈ کی فلم ’یو اونلی لو ٹوائس‘ کے علاوہ مارشل آرٹس کی کئی فلموں میں بطور مشیر کام کیا ہے اور وہ اب بھی ننجا تکنیک کی تربیت حاصل کرتے رہتے ہیں۔

دونوں ننجا ماسٹر ایک نقطے پر متفق ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ کسی کو اگلا ننجا ماسٹر مقرر نہیں کریں گے۔

کاواکامی کا کہنا ہے کہ گزرے وقتوں میں خانہ جنگیوں کے دوران جاسوسی کرنے، ہلاک کرنے اور زہریلی دوائیاں بنانے کے لیے ننجاز کی صلاحتیں کارآمد ہو سکتی تھیں لیکن ’اب ہمارے پاس بندوقیں، انٹرنیٹ اور بہت بہتر دوائیاں ہیں، اس لیے ماڈرن دور میں ننجٹسو کی آرٹ کی کوئی گنجائش نہیں۔‘

اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی کو اس کے لیے خاص طور پر تیار نہیں کریں گے۔ وہ صرف مئی یونیورسٹی میں ننجا کی تاریخ پڑھاتے ہیں۔

ہتسومی نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے کہ وہ بھی کوئی جانشین نہیں چنیں گے۔

’میرے شاگرد ان تکنیکوں کی تربیت حاصل کرتے رہیں گے جو ننجا استعمال کرتے تھے، لیکن قبیلے کی سربراہی کے لیے کوئی شخص ہونا چاہیئے۔ یہاں ایسا کوئی شخص نہیں ہے۔‘

جاپان کے شہر ایگا میں ایک میوزیم میں دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں اور آشورا نامی گروہ کے فن کا مظاہرہ دیکھتے ہیں جو انہیں ایک گھنٹے تک ننجا کے کرتب دکھاتے ہیں۔ لیکن یہاں ننجٹسو کی خاموش آرٹ کا مظاہرہ نہیں ہوتا بلکہ سکولوں کے بچے اور غیرملکی سیاح جو شو دیکھتے ہیں وہ شور شرابے سے بھرپور اور دلچسپ ہے۔ یہاں آخری ننجا کی موت کے بعد بھی راز مرا نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔