دوسری جنگ عظیم کے خفیہ پیغام نے ماہرین کو چکرا دیا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 23 نومبر 2012 ,‭ 17:57 GMT 22:57 PST
کوڈ پیغام

اس چیستاں کو حل کرنے کے لیے برطانیہ کے خفیہ ادارے کے پاس بھیجا گیا ہے۔

دوسری عالمی جنگ میں کبوتروں کے ذریعے بھیجے گئے ایک پیغام نے برطانیہ کے جنرل کمانڈ ہیڈ کوارٹر یعنی جی سی ایچ کیو کے پیغامات ڈی کوڈ کرنے والوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔

برطانیہ کے کوڈ ورڈ یا معمے کو حل کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ مردہ کبوتر کے پاؤں میں پائے گئے خفیہ پیغام نے انہیں چکرا کر رکھ دیا ہے۔

اس کبوتر کی باقیات سرے کی ایک چمنی میں پائی گئی ہیں جس کے پاؤں سے دوسری عالمی جنگ کے زمانے کا پیغام چسپاں تھا۔

برطانیہ کا خفیہ ادارہ جی سی ایچ کیو اس پیغام کو پڑھنے میں ناکام ہے۔ یہ پیغام انہیں حل کرنے کے لیے چند ہفتے قبل دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے متعلق مزید معلومات کے بغیر اسے حل کرنا تقریبا ناممکن ہے، تا آنکہ عوام کی جانب سے اس پر کچھ روشنی نہ ڈالی جائے۔

انھوں نے بتایا کہ ’کوڑے کرکٹ کے ڈھیر میں ایک مردہ چڑیا کا پاؤں پایا کيا تھا۔ اس پاؤں کے ساتھ ایک گول شکل کا چھوٹا سا ڈبا لگا ہوا تھا اور اس ڈبے کے اندر ایک کاغذ کا پرزہ تھا جس پر سرفہرست ’کبوتر سروس‘ لکھا ہوا تھا اور مندرجات میں ہاتھ کی تحریر میں معمے کے ستائیس الفاظ ہیں۔‘

اس ماہ کے شروع میں اس پرزے کو جی سی ایچ کیو کے حوالے کیا گیا تھا۔

جی سی ایچ کیو کے تاریخ داں ٹونی جنھوں نے صرف آدھا نام ہی استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ انھوں نے کہا : ’ہمیں امید نہیں کہ اس پیغام کو پڑھا جا سکتا ہے کیونکہ یہ اس طرح کے کوڈ ہیں جنہیں صرف ارسال کرنے والا اور موصول کرنے والا ہی سمجھ سکتا تھا۔‘

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’جب تک کہ ہمیں یہ نہیں پتا چلتا کہ اسے کس نے بھیجا تھا اور کس کے لیے بھیجا گیا تھا تب تک اس کا پڑھا جانا بہت مشکل ہے۔‘

کبوتر کا پاؤں

کبوتر کے پاؤں میں یہ ڈبا تھا جس میں کاغذ پر پیغام لکھا تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پیغام کو ڈی کوڈ کرنے کے دو طریقے ہو سکتے ہیں: ایک وہ طریقہ جس میں رینڈم 'کی' کا استعمال کیا جاتا ہے اور اگر اسے اس طریقے سے تیار کیا گیا ہے تو پھر ارسال اور موصول کرنے والے کے علاوہ کوئی نہیں پڑھ سکتا۔

دوسرے یہ کہ یہ کوڈ کسی مخصوص کوڈ بک پر مبنی ہو اور وہ اب تباہ ہو چکی ہے جس میں بڑے پیغام کو مختصر پیغام میں تبدیل کیا جاتا ہو۔

ایک خیال یہ تھا کہ شاید اس پیغام کو سپیشل آپریشن ایکزیکٹیو نے بلیچلی پارک کے لیے بھیجا ہو۔ لیکن اس خیال کو خارج کر دیا گیا ہے، کیونکہ کوئی بھی جاسوس سرکاری نوٹ پیڈ کا استعمال نہیں کرتا کیونکہ اسے اپنے کام کے دوران پکڑے جانے کا خطرہ ہمہ وقت لاحق رہتا ہے۔

ٹانی کا کہنا ہے کہ بلیچلی میں جرمنی اور جاپان کے پیغامات کو ڈی کوڈ کیا جاتا تھا اور برطانوی فوج اپنے مراسلات وہاں عام طور پر نہیں بھیجا کرتی تھی۔

ٹونی نے کہا کہ اس بابت سب سے قرینِ قیاس بات ایک مقامی آدمی نے کہی کہ چونکہ یہ پیغام چمنی سے ملا ہے اس لیے پہلے دو الفاظ ’ڈیئر سانتا‘ ہو سکتے ہیں۔

سب سے اچھا قیاس یہ ہے کہ اس پیغام کو یورپ میں جاری آپریشن کے دوران بھیجا گیا ہوگا کیونکہ انھیں وائرلیس کا استعمال کرنے کا موقعہ نہیں ملا ہوگا۔

یہ خیال بھی ظاہر کیا گیا ہے یہ کسی تربیتی مشق کا حصہ تھا شاید ڈی ڈے کے لیے۔ بہرحال جی سی ایچ کیو اس تلاش میں ہے کہ اسے کہیں سے اس کے پیٹرن کا کوئی سراغ مل جائے۔

اس پیغام میں ایس جے ٹی حروف بھی ہیں جو اس زمانے میں سرجنٹ کے لیے مخفف کے طور پر استعمال کیے جاتے تھے لیکن اس کے ساتھ استعمال ہونے والے دوسرے مخفف کہیں نہیں پائے جاتے۔

اس پوری جنگ کے دوران خبر رسانی کے لیے دولاکھ پچاس ہزار کبوتر استعمال کیے گئے تھے اور ان میں سے ہر ایک کو ایک شناختی نمبر دیا گیا تھا۔ لیکن یہ بھی واضح نہیں ہے کہ جو دو شناختی نمبر اس میں موجود ہیں، ان میں سے کون سا اس کبوتر کے لیے دیا گیا ہوگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔