روس: پُسی رائٹ گلوکارہ قید تنہائی میں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 24 نومبر 2012 ,‭ 02:27 GMT 07:27 PST

پُسی رائٹ کی قیدی رکن ماریا الیوکہینا ان کی درخواست پر جیل میں قید تنہائی میں بھیج دیا گیا

روسی میوزک بینڈ پُسی رائٹ کی جیل میں قیدی رکن ماریا الیوکہینا کو جیل میں دوسرے قیدیوں کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے قید تنہائی میں بھیج دیا گیا۔

ماریا کے وکیل کے مطابق ماریا کو دوسرے ساتھیوں کے ساتھ بھوک ہڑتال میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے ماسکو کے شمال میں بریزنسکی کالونی میں قید تنہائی میں بھیج دیا گیا۔

ماریا کو جو کہ ایک گلوگارہ ہیں، ماسکو کی ایک عدالت نے اگست میں چرچ میں حکومت کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا گانا گانے کے الزام یں دو برس قید کی سزا سنائی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ خواتین ہلڑ بازی کی مرتکب ہوئیں جس کی بنیاد مذہب سے نفرت تھی

بینڈ کی دوسری رکن نادزدا تولوکونیکووا بھی جیل میں ہیں۔

عدالت کی طرف سے دونوں خواتین کو دو سال کی قید سزا دیے جانے کے فیصلے کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایاگیا۔

چوبیس سالہ ماریا پرم شہر کے قریب جیل اپنی قید کاٹ رہی ہیں جبکہ نادزدا تولوکونیکوو مارڈویا میں قید ہے۔

ماریا الیوکہینا کے شوہر پیٹر ویرزیلف نے ماریا کے وکیل کو بتایا کہ جب جیل میں قید دوسری عورتوں نے ماریا کی طرف جارحانہ رویہ اختیار کیا تو ماریا کو قید تنہائی میں منتقل کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کے ماریا کو جیل کے سزا دینے والے حصے میں رکھا گیا ہے لیکن ان کو سزا نہیں دی جا رہی۔

اس سے پہلے جیل کی ایک خاتون ترجمان نے کہا کہ قیدیوں کے درمیان تعلقات خراب ہوئے جس کی وجہ سے جب ماریا نے جیل حکام کو مطلع کیا تو انھیں علیحدہ قید خانہ میں منتقل کیا گیا۔

تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بریزنسکی کی جیل میں دوسرے قیدی کیوں احتجاج کرنا چاہتے تھے۔

ماریا الیوکہینا اور بائیس سالہ تولوکونیکووا کو فروری میں عدالت نے ہلڑ بازی، مذہبی نفرت پھیلانے اور نازیبا انداز میں ایک چرچ میں گانا گانے کے الزام میں دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نےاکتوبر میں ان دونوں خواتین کی طرف سے سزا کے خلاف اپیل کو مسترد کیا۔

روس میں مذہبی حلقے چرچ میں گانا گانے کے واقعے پر بہت ناراض تھے۔

اس واقعے کے بعد روس کے آرتھوڈوکس چرچ میں اشتعال پیدا ہوگیا تھا اور انہوں نے بینڈ کے عمل کو گرجا گھر کی توہین قرار دیا تھا۔

اس مقدمے کے حوالے سے روس میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ کئی لوگوں کا خیال ہے ان عورتوں کے ساتھ سخت برتاؤ کیا گیا ہے اور اسے حزبِ مخالف کو دبانے کی کوشش کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔

دوسری جانب اس گروپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اپنے مخالفین کے معاملے میں کس قدر عدم برداشت کا مظاہرہ کرتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔