بنکاک میں حکومت مخالف مظاہرے

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 24 نومبر 2012 ,‭ 11:26 GMT 16:26 PST
تھائی لینڈ میں احتجاج کی فوٹو

مظاہرے کی اپیل ’پروٹیکٹ تھائی لینڈ‘ نامی گروپ نے کی تھی

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں سنیچر کے روز وزیر اعظم ینگلک شناوترا کی حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا گیا جس میں کم سے کم دس ہزار افراد شریک تھے۔ پولیس نے مظاہرین کےخلاف کارروائی کی اور آنسو گیس کا استمعال کیا۔

مظاہرے کی اپیل ’پروٹیکٹ تھائی لینڈ’ نامی گروپ کی طرف سے کی گئی تھی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ینگلک شناوترا اپنے بھائی اور ملک کے سابق وزیر اعظم تھاسکن شناواترا کی کٹھپتلی حکمران ہیں۔

واضح رہے کہ تھاسکن شناواترا سنہ دوہزار ایک سے دوہزار چھ تک تھائی لینڈ کے وزیر اعظم تھے بعد میں فوج کی مخالفت کے بعدانہیں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔

بنکاک میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جونا فشر کا کہنا ہے کہ ریلی پر پابندی نہیں لگائی گی حالانکہ پولیس نے مظاہرین کو حکومت کی عمارتوں کے قریب جانے سے روکا۔

خبر رساں ایجنسی رائٹر کے مطابق بنکاک کی پولیس کے ترجمان پیا اتھایا نے ایک مقامی ٹی وی چینل کو بتایا ہے کہ ’ہم نے آنسو گیس کا استمعال اس لیے کیا کیونکہ مظاہرین پولیس کا راستہ روک رہے تھے اور سیکورٹی کے ضوابط کی خلاف ورزی کررہے تھے۔‘

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے مظاہرے کے دوران کچھ لوگوں سے اسلحہ بھی برآمد کیا۔ ریلی کی قیادت کرنے والے ایک ریٹائرڈ فوجی نے ینگلک شناوترا پر بدعنوانی کا الزام عائد کیا ہے۔

ایک ہفتے قبل وزیر اعظم ینگلک شناوترا نے ریلی کے پیش نظر سیکورٹی کے احکامت سخت کرنے، ریلی کے مقام پر سترہ ہزار پولیس اہلکار تعنیات کرنے اور سیکورٹی کا خصوصی قانون نافد کرنے کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔