بنگلہ دیش: پل گرنے سے تیرہ افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  اتوار 25 نومبر 2012 ,‭ 06:41 GMT 11:41 PST
بنگلہ دیش کے وزیر ورلڈ بینک کے ساتھ پدما پل پروجیکٹ پر دستخط کرتے ہوئے

ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کو پل بنانے والے پروجیکٹ کے لیے مزید امداد تب تک نہیں دے سکتا جب تک بدعنوانی کے معاملات میں تفتیش نہ ہو

بنگلہ دیش کے شہر چٹا گانگ میں ایک زیر تعمیر پل گرنے سے خدشہ ہے کہ کم از کم تیرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ درجنوں لاپتہ ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ پل ابھی زیر تعمیر تھا۔ پل گرنے کے بعد اب بھی کئی افراد اس کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

پولیس کے سب انسپکٹر محمد علاؤالدین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اب تک تیرہ لاشیں ملیں اور زخمی اور ہلاک ہونے والے افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امدادی کارکن کام میں مصروف ہیں اور متاثرہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

پولیس نے مزید بتایا کہ بیس افراد اس وقت زخمی ہو گئے جب اس پل کے گرنے کے بعد مشتعل افراد نے اس پل کی تعمیراتی کمپنی کے دفتر پر حملہ کر دیا اور اس کے نتیجے میں ان کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو کارروائی کرنی پڑی۔

واضح رہے کہ ورلڈ بینک نے ستمبر کے مہینے میں کہا تھا کہ اسے بنگلہ دیش میں جاری بدعنوانی کی فکر ہے۔ ساتھ ہی ورلڈ بینک نے یہ بھی کہا تھا کہ بنگلہ دیش کو پل بنانے والے پروجیکٹ کے لیے تب تک مزید فنڈز نہیں ملیں گے جب تک اس پروجیکٹ میں ہوئی بدعنوانی کی شفاف اور قابل یقین تفتیش نہیں ہوتی ہے۔

عالمی بینک کا یہ بھی کہنا ہے ڈھاکہ کو ساحلی اضلاع سے جوڑنے کے لیے پدما روڈ اور ریل پل پروجیکٹ کے لیے تین ارب ڈالر کی امداد دینے کے لیے وہ ابھی تیار نہیں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔