اختیارات پاس رکھنے کا ارادہ نہیں: مرسی

آخری وقت اشاعت:  پير 26 نومبر 2012 ,‭ 05:27 GMT 10:27 PST
قاہرہ میں موجود مظاہرین

مصر میں صدر مرسی کی حکومت کے خلاف مہم کا آغاز ان کے ایک حکم نامے کے بعد شروع ہوا

مصر کے صدر محمد مرسی خود کو وسیع اختیارات دینے والے فرمان کے بعد سے شروع ہونے والے بحران کے حل کے لیے پیر کو اعلیٰ عدلیہ سے ملیں گے۔

محمد مرسی نے یہ بھی کہا ہے کہ خود کو وسیع اختیارات دینے والا فرمان عارضی ہے اور ان کا اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے کا ارادہ نہیں ہے۔

صدر مرسی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پیر کو سینئیر ججوں سے ملاقات کریں گے اور وہ دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر قائم ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فرمان جاری کرنے کا مقصد جمہوری طریقے سے منتخب اداروں کو نقصان پہنچے سے روکنا تھا۔

دریں اثنا مصر میں صدارتی فرمان پر صدر مرسی کے خلاف جاری احتجاج میں اتوار کو پہلی ہلاکت ہوئی ہے۔

منگل کو تحریر سکوائر پر ایک بڑے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

اسی دوران خود کو وسیع اختیارات دینے والے فرمان کے خلاف قاہرہ میں احتجاج جاری ہے اور اسی دوران ملک کے حصص بازار میں دس فی صد گراوٹ درج کی گئی۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں صدر کے اختیارات میں اضافے کے فیصلے کے بعد مظاہرے جاری ہیں جب کہ اخوان المسلمین نے ان کی حمایت میں جلوس نکالنے کا منصوبہ بنايا ہے۔

صدر کے اعلان کے بعد جب حِصص کی قیمتوں میں گراوٹ شروع ہوئی تو تیس منٹ تک خرید و فروخت کو معطل کر دیا گیا۔ لیکن جب دوبارہ خرید و فروخت کا معاملہ شروع ہوا اس کے بعد بھی حصص کی قیمتوں میں گراوٹ جاری رہی۔

سیکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان اتوار کی صبح قاہرہ میں ایک بار پھر جھڑپیں شروع ہوئی ہیں۔ تحریر چوک میں آنسو گیس کے گولوں کے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔

مصر کی خبر رساں ایجنسی مینا کے مطابق قاہرہ میں امریکی سفارت خانے کے پاس پتھر پھینکے گئے ہیں لیکن چونکہ وہاں کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کی جا چکی ہیں اس لیے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ مصر کے اہم مقامات اور سرکاری دفاتر کے ارد گر پولیس کی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔

اس سے قبل مصر میں بیس سے زائد انسانی حقوق کی تنظیموں نے صدر محمد مرسی کے نام ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو وسیع اختیارات دینے والا فرمان واپس لیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے محمد مرسی کے نام لکھے جانے والے اس ’ کھلے خط‘ پر دستخط کیے ہیں اور کہا ہے کہ صدر مُرسی نے اپنے آپ کو جو وسیع اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے وہ ’مصر کی آزادی پر غیر معمولی حملہ ہے۔‘

وہیں حزبِ اختلاف کے رہنما محمد البرادعی نے کہا ہے کہ صدر مرسی کے ساتھ تب تک کوئی بات نہیں ہوسکتی ہے جب تک ان کا تازہ فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا۔

وہیں مقامی میڈیا نے خبر دی ہے کہ اخوان المسلمین نے بھی صدر کی حمایت میں پورے مصر میں مارچ کا اعلان کیا ہے۔

محمد مرسی

صدر مرسی کا کہنا ہے کہ وہ مصر کو ’آزادی اور جمہوریت‘ کی راہ پر لے جا رہے ہیں

مصر کی خبر رساں ایجنسی مینا کے مطابق صدر مرسی کی جماعت فریڈیم اینڈ جسٹس پارٹی کی حمایت کرنے والی اسلام پسند جماعت نے اعلان کیا ہے کہ وہ عابدین سکوئر پر دس لاکھ لوگوں کا مارچ کرے گی۔

واضح رہے کہ منگل کے روز صدر مرسی کے اس اعلان کے بعد کہ اب کوئی بھی صدر کے بنائے ہوئے قوانین، کیے گئے فیصلوں اور جاری کیے گئے فرامین کو چیلنج نہیں کر سکے گا، مصر میں عوام، عدلیہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے زبردست احتجاج جاری ہے۔

صدر مرسی کے فرمان کا مطلب ہے کہ صدارتی اقدامات عدالتی یا دیگر کسی بھی ادارے کی جانب سے نظرِ ثانی سے مبرا ہوں گے۔

قاہرہ انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن رائٹس کی ویب سائٹ پر وہ خط شائع کیا گیا ہے جو انسانی حقوق کی تنظیموں نے صدر کے نام لکھا ہے۔ اس میں لکھا گیا ہے ’صدر کا یہ حکم ملک کے قانون اور انصاف کو پامال کرتا ہے اور ایک مخصوص سیاسی گروپ کے مفاد کے تحفظ کے لیے صدارتی اختیارات کا غلط استعمال کرتا ہے۔‘

واضح رہے کہ اس سے قبل سنیچر کو مصر میں ججوں نے صدر مرسی کی جانب سے اختیارت حاصل کرنے کے صدراتی حکم کو تنقید کا نشانے بناتے ہوئے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔