شام میں کلسٹر بم حملے میں دس بچے ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 26 نومبر 2012 ,‭ 12:30 GMT 17:30 PST

شام کی حکومت پر کلسٹر بموں کے استعمال کےکئی الزامات لگ چکے ہیں

شام میں حزبِ اختلاف کے کار کنان کا کہنا ہے کہ حکومت کے ایک جنگی طیارے نے کھیل کے میدان پر کلسٹر بم گرایا ہے جس میں دس بچے ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس سے متعلق انٹرنیٹ پر جو ویڈیو شائع کی گئی ہے اس میں میدان پر بچوں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں جن پر ان کی مائیں گریہ زاری کر رہی ہیں۔

اپوزیشن کارکنان کا کہنا ہے کہ روسی ساخت کے مگ جنگی طیارے نے دمشق کے مشرق میں دارلاصفر نامی گاؤں کے ایک کھیل کے میدان پر بمباری کی جس کے نتیجہ میں یہ بچے ہلاک ہوئے۔

اس دوران شام کے دارالحکومت دمشق کے گرد و نواح میں شدید لڑائی جاری ہے اور باغیوں نے اتوار کو ایک ایئر بیس کے بعض حصے پر قبضہ کر لیا۔

اس سے متعلق مزید ویڈیو فوٹیج سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ میدان پر کلسٹر بم گرا گيا۔ اس میں دو بچیوں کو ایک گلی میں مردہ پڑے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ایک ماں کو کلینک میں اپنی بچی کی لاش کے پاس دکھایا گيا ہے۔

دارالاصفرگاؤں کے ایک کار کن ابو قاسم نے خبر رساں ادرے رائٹرز کو بتایا کہ گاؤں میں دو کلسٹر بم گرائے گئے۔

’ ہلاک ہونے والوں میں کوئي بھی پندرہ برس سے زيادہ کا نہیں ہے۔‘

ابو قاسم کا کہنا تھا کہ اس حملے میں پندرہ دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ گاؤں میں کوئی باغی موجود تھا اور کہا کہ حکومت مخالف فوسرز اپنا آپریشن گاؤں کے باہر سے کرتے رہے ہیں۔

شام کی فوج اور باغیوں میں شدید لڑائی جاری ہے

گزشتہ ماہ بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام عائد کیا تھا کہ شام کی حکومت کی جانب سے کلسٹر بموں کے استعمال میں قابل قدر اضافہ دیکھا گیا ہے۔

لیکن شام کی حکومت نے یہ کہہ کر اس کی تردید کی ہے کہ اس کے پاس ایسے کوئي ہتھیار نہیں ہیں اور اس الزام کو بے بنیاد بتایا ہے۔

لبنان میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں شام کی حکومت پر کلسٹر بم کے استعمال کے شدید الزامات لگتے رہے ہیں۔

اس دوران بشار الاسد کی فوج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے جس میں شام کی مقامی اپوزيشن کوارڈینیشن کمیٹی کے مطابق اتوار کے روز تقریبا ایک سو سترہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

باغی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مرج السلطان کے فوجی ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے لیکن برطانیہ میں شام کے انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے گروپ کا کہنا ہے کہ بعد میں باغیوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔