کابل بینک فراڈ کی تحقیقات میں سیاستدانوں کی مداخلت

آخری وقت اشاعت:  بدھ 28 نومبر 2012 ,‭ 17:14 GMT 22:14 PST

بدعنوانیوں کے الزامات کی وجہ سے 2010 میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے کابل بینک سے پیسہ نکلا

افغانستان میں انسداد بدعنوانی کے ایک ادارے نے افغان سیاستدانوں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے کابل بینک فراڈ کی تحقیقات میں مداخلت کی تھی۔ کابل بینک میں نو سو ملین امریکی ڈالر کا فراڈ ہوا ہے۔

انسداد بدعنوانی کے ادارے کا دعویٰ ہے کہ سیاستدانوں نے فراڈ میں مشکوک افراد کی فہرست میں رد و بدل کیا ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی کے بھائی محمود کرزئی کو کئی بار کابل بینک فراڈ کے ساتھ منسلک کیا گیا لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ محمود کرزئی بدعنوانی میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہیں۔

کابل بینک فراڈ کے تحقیقاتی جج نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا کہ محمود کرزئی بائیس ملین امریکی ڈالر واپس کر چکے ہیں۔ ایک حکومتی حکمنامے کے مطابق جو شخص جون تک رقم واپس کر دے گا اس پر مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔

منگل کو ایک امریکی آڈٹ کمپنی نے میڈیا کو یہ خبر لیک کی کہ یہ رقم افغان سیاسی زعماء کے ساتھ جڑی ہوئی کمپنیوں کو دی گئی۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کچھ رقم ہوائی جہاز میں خوارک ٹرے کے ذریعے ملک سے باہر بھیجی گئی۔

کابل بینک سکینڈل کی وجہ سے بڑے ناموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا او اس سکینڈل کے سامنے آنے سے افغان اداروں کی مضبوطی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے۔

بدعنوانیوں کے الزامات کی وجہ سے 2010 میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے بینک سے پیسہ نکلا جس کے بعد بین الاقوامی اداروں نے اقتصادی مشکلات سے نکلنے کے لیے بینک کو قرضہ دیا۔

انسدادی بد عنوانی کی آذاد نگران مشترکہ کمیٹی نے جس میں افغان اور غیر ملکی افراد شامل ہیں نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بینک نے دو قسم کا مالی ریکارڈ رکھا تھا ایک نگرانی کرنے والے اداروں کے لیے اور دوسرے ریکارڈ میں غیر قانونی ادائیگیوں کا اندراج تھا

امریکی آڈٹ کمپنی کو بینک کی جانچ پڑتال کے دوران پتہ چلا کہ جعلی کمپنیوں اور غیر ملکی کھاتوں میں بغیر سود کے قرضوں کے نام پر پیسے بھیجے گئے جو کبھی واپس نہیں کئے گئے۔

اس مہینے کے اوائل میں کابل بینک فراڈ کے سلسلے میں بیس ملزمان کے خلاف مقدمہ شروع کیا گیا۔

انسداد بد عنوانی کی آزاد نگران مشترکہ کمیٹی نے جس میں افغان اور غیر ملکی افراد شامل ہیں، اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بینک نے دو قسم کا مالی ریکارڈ رکھا تھا ایک نگرانی کرنے والے اداروں کے لیے اور دوسرے ریکارڈ میں غیر قانونی ادائیگیوں کا اندراج تھا۔

انسداد بدعنوانی کمیٹی نے رپورٹ میں کہا کہ 2011 میں ایک اعلیٰ سطح سیاسی کمیٹی نے کابل بینک میں فراڈ کی تحقیقات کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ ان تحقیقات پر بات چیت کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کی حتمی فہرست 2012 تک جاری نہیں کیاگیا جسے بعد میں متعلقہ سیاستدانوں کی خواہشات کے مطابق تبدیل کردیاگیا۔

اس سے پہلے اٹارنی جنرل آفس کے ترجمان بسیر عزیزی نے اس بات کو سختی سے رد کیا کہ بینک فراڈ تحقیقات کو سیاسی طور پر اثر انداز کیا گیا ہو۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔