فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی قبرکشائی کر لی گئی

آخری وقت اشاعت:  منگل 27 نومبر 2012 ,‭ 06:14 GMT 11:14 PST

بہت سے فلسطینی سمجھتے ہیں کہ ان کے رہنما کو زہر دے کر قتل کیا گیا تھا۔

منگل کے روز فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی قبرکشائی کر لی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا سکے کہ ان کی موت کس طرح واقع ہوئی۔

سوئس، فرانسیسی اور روسی ماہرین ان کی باقیات کے نمونے لے کر یہ معلوم چلانے کی کوشش کریں گے کہ آیا ان کی موت زہرخوردنی سے تو نہیں ہوئی۔ وہ 2004 میں پیرس کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔

سوئس ماہرین نے ان کے سامان میں تابکار مادے پولونیم 210 کی موجودگی کا سراغ لگایا تھا۔ اس کے بعد فرانس نے اس سال اگست میں ان کے قتل کی تحقیقات شروع کر دی تھیں۔

یاسر عرفات کے میڈیکل ریکارڈ میں لکھا ہوا ہے کہ ان پر فالج کا حملہ ہوا تھا۔

ان کی بیوہ سہا نے اس وقت پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کر دیا تھا تاہم فلسطینی اتھارٹی سے کہا تھا کہ وہ قبرکشائی کی اجازت دیں تاکہ حقیقت کا پتا چلایا جا سکے۔

یاسر عرفات کی موت کی تفتیش کرنے والی فلسطینی کمیٹی کے سربراہ توفیق الطیراوی نے کہا ہے کہ قبرکشائی کے وقت ’اس موقعے کی تکریم‘ کے پیشِ نظر صحافیوں کو وہاں آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

نعش کو قبر سے نکالنے کے بعد سائنس دان نمونے حاصل کر کے اپنے اپنے ملکوں میں لے جائیں گے اور ان کے اندر پولونیم 210 اور دوسرے زہریلے مادوں کا پتا چلانے کی کوشش کریں گے۔

عرفات کی ہلاکت: سوئس انکشافات

  • یاسر عرفات کے لباس، رومال (کیفیہ) اور ٹوتھ برش میں پولونیم 210 کی ’ناقابلِ توجیہہ زیادہ مقدار‘
  • ٹوتھ برش میں 54 یونٹ، انڈرویئر میں 180 یونٹ، جب کہ ایک عام آدمی کے انڈرویئر میں 6.7 یونٹ پولونیم پایا گیا
  • ساٹھ فیصد سے زیادہ پولونیم قدرتی ذرائع سے نہیں آیا تھا

توقع کی جا رہی ہے کہ اس عمل پر کئی ماہ لگیں گے۔

یاسر عرفات کو مغربی کنارے کے شہر رملہ میں مقاطہ محل کے احاطے میں ایک سنگی مقبرے میں دفنایا گیا ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں مقبرے پر پہرہ بٹھا دیا گیا تھا۔

منگل کے روز پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دوبارہ دفنایا جائے گا۔

بہت سے فلسطینی یہ سمجھتے ہیں کہ یاسر عرفات کو اسرائیل نے زہر دے کر ہلاک کر دیا تھا۔ اسرائیل کا خیال تھا کہ یاسر عرفات امن کے راستے میں رکاوٹ ہیں اور اس نے انھیں اپنے گھر میں نظر بند کر رکھا تھا۔ اسرائیل نے اپنے ملوث ہونے کا سختی سے انکار کیا ہے۔

یاسر عرفات 35 برس تک تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کے سربراہ رہے، اور 1996 میں فلسطینی اتھارٹی کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ وہ اکتوبر 2004 میں شدید بیمار پڑ گئے تھے۔ دو ہفتے بعد انھیں فرانس کے ایک فوجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں وہ 11 نومبر 2004 کو 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔