عراق کی یتیم نسل کی مشکلات

آخری وقت اشاعت:  بدھ 28 نومبر 2012 ,‭ 14:51 GMT 19:51 PST
عراق کے یتیم بچے

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عراق میں یتیم بچوں کی تعداد جائزے کی رپورٹ میں بتائی گئی تعداد سے زیادہ ہوسکتی ہے

عراق میں کیے جانے والے ایک جائزے میں سامنے آیا ہے کہ ملک میں آٹھ سے دس لاکھ ایسے بچے ہیں جو یا تو اپنے ماں اور باپ میں ایک کو یا دونوں کو کھو چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اصل تعداد سے کم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بڑی تعداد میں یتیم بچے تشدد کے درمیان اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

بارہ سالہ سیف سنہ دوہزار پانچ میں ڈیالہ میں ہوئے ایک بم دھماکے میں اپنے والدین کو ہمیشہ کے لیے کھو چکے ہیں۔ اس بم دھماکے میں سیف بھی زخمی ہوئے تھے۔

سیف ہلکی آواز میں بولتے ہوئے بتاتے ہیں ' مجھے کچھ یاد نہیں کیا ہوا تھا۔’ میں اس وقت بہت چھوٹا تھا۔ ایک آدمی آیا اور مجھے اپنے ساتھ لے گیا بعد میں اس نے بتایا کہ میرے والدین کو کیا ہوا ہے۔ والدین کو کھو دینے بعد زندگی کوئی زندگی نہیں ہے۔‘

سیف کی پرورش ایک پرائیوٹ یتیم خانے میں ہو رہی ہے۔ ان کے ساتھ جو ہوا اس کے باوجود سیف کو کمپوئٹر پر گیمز کھیلنا پسند اور گلوکاری کا شوق ہے اور ان کا خواب ہے کہ وہ بڑے ہوکر ڈاکٹر بنیں۔

عراق میں جاری شورش کے دوران اب تک کتنے بچے اپنے والدین کو کھو چکے اس کا صحیح اعداد و شمار کسی کو معلوم نہیں ہے۔

حالانکہ عراق میں تواتر کے ساتھ ہونے والے بم دھماکوںاور قتل و عام سے یتیم بچوں کی تعداد میں اضافہ ہور ہا ہے۔

عراق میں جاری شورش کے سبب ایک طرف جہاں لوگوں کو ذاتی نقصان ہوا ہے وہیں یتیم بچوں کی تعداد میں اضافے سے سماجی مسائل پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ تیس ملین کی آبادی کے لیے دو سو سے کم سماجی کارکن اور نفسیاتی ماہر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ عراق میں بچوں کے تحفظ کا کوئی قانون ہی نہیں ہے۔

اہلکارروں کا کہنا ہے کہ بچوں کی فلاح کے لیے جس قانون کی سخت ضرورت ہے وہ پارلیمان میں فرقہ پرستی پر مبنی بحث کی بینٹھ چڑھ گیا ہے۔

مرکزی بغداد کے جس پرائیوٹ یتیم خانے میں سیف رہتے ہیں اسے حشام حسن نے قائم کیا تھا جو پرائیوٹ ڈونیشن کی مدد سے چلتا ہے۔

حشام حسن نے بی بی سی کو بتایا ان سے نوجوان عراقیوں کی ایک پوری نسل کی تکلیف دیکھی نہیں گئی اسی لیے انہوں نے یتیم خانے کا قیام کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ’ حکومت کو مسئلہ کا اندازہ ہی نہیں ہے۔‘

حشام حسن اپنے یتیم خانے میں جن بتیس بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں ان میں دس سالہ مصطفی اور گیارہ سالہ مرتضیٰ بھی شامل ہیں۔ مصطفٰی اور مرتضیٰ دونوں سگے بھائی ہیں۔ ان کی والدہ شوٹنگ کے ایک واقع میں ہلاک ہوگئی تھیں اور ان کے والد فرقہ وارنہ جنگ کے دوران لا پتہ ہوگئے تھے۔

وہ اپنی’پیاری‘ ماں کو اور اپنے والد کو یاد کرتے ہیں جو ان کے ساتھ فٹبال کھیلا کرتے تھے۔

حشام حسن اور ان کے سٹاف نے ہر ممکن کوشش ہے کی ہے کہ وہ ان بچوں کو گھر جیسا ماحول دے سکیں۔

یتیم خانے میں ایک کمرہ ایسا ہے جس میں بچے آرٹ کرسکیں، ایک کمپوئٹر روم ہے جہاں بچے سکول کا ہوم ورک ختم ہونےکے بعد گیمز کھیل سکتے ہیں۔ یتم خانے میں انہیں سلائی اور یہاں تک کے خود کے بال کاٹنے تک کی تربیت دی جاتی ہے۔

حشام حسن کا کہنا ہے کہ اپنے تلخ ماضی کو بھول کر ان بچوں کو ایک بہتر مستقبل کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

حشام حسن کہتے ہیں، ’اگر ان بچوں کی صحیح طریقے سے پرورش نہیں کی گئی تو بڑے ہوکر شدت پسند کے ہاتھوں ان کا استحصال ہوگا اور ان کا استمعال بم کے طور پر ہوگا اور پھر یہ ملک کے مستقبل کے لیے ایک خطرہ بن جائیں گے۔‘

شہر کی دوسرے حصے میں ایک سرکاری یتیم خانے میں سترہ سالہ مصطفی رہتا ہے جسے اپنے مستقبل کے بارے میں ڈر ہے۔

ان کا کہنا ہے ’مجھے لگتا ہے کہ میں ایک چڑیا کی طرح پنجرے میں قید ہوں۔ کاش ہمیں سننے والا کوئی ہوتا۔‘

مصطفی جب بارہ برس کے تھے تو ان کے والدین ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

اس یتیم خانے کی حالت خراب ہے۔ یہاں باون لڑکے رہتے ہیں۔ یتیم خانہ ٹوٹا پھوٹا ہوا ہے، کھیل کا میدان استمعال کے لائق نہیں ہے، غسل خانے میں واش بیسن تک نہیں۔

عراق میں سماجی امور کے ڈپٹی وزیر دارا یارا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملک میں سیاسی حالات خراب ہونے کے باجود وہ اور ان کا سٹاف اپنی بہتر کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔