کن کن مشہور شخصیات کی قبر کشائی کی گئی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 29 نومبر 2012 ,‭ 10:10 GMT 15:10 PST

فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی قبر کشائی کی گئی ہے تاکہ ان کی موت کا سبب معلوم کیا جاسکے۔ اس سے قبل کئی معروف افراد کی قبر کشائی کی جا چکی ہے۔ ان معروف لوگوں میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔

اولیور کرامویل

برطانوی فوجی اور رہنما کا انتقال 1658 میں ہوا۔ ان کی لاش کو حنوط کیا گیا اور ان کو ویسٹ منسٹر کیتھیڈرل میں دفنایا گیا۔ رفارمیشن کے بعد ان کی لاش اور دیگر کو نکالا گیا اور ان کے سر قلم کردیے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق ان کے سر کو ایک گڑھے میں پھینک دیا گیا۔ اس گڑھے پر آج کل ماربل آرچ موجود ہے۔ گڑھے میں پھینکنے سے قبل ان کا سر ایک پول پر لٹکایا گیا اور ویسٹ منسٹر ہال میں نمائش کے لیے رکھا گیا۔ سنہ 1815 میں اس سر کا معائنہ کیا گیا اور تصدیق کی گئی کہ یہ سر اولیور کرامویل کا ہی ہے۔

جیسی جیمز

افواہیں تھیں کہ امریکہ کے بدنام ترین گینگسٹر جیسی جیمز نے 1882 میں اپنی موت کا ڈرامہ کیا۔ ان کی قبر کشائی 1995 میں کی گئی اور ڈی این اے ٹیسٹ سے تصدیق کی گئی کہ یہ لاش جیسی ہی کی ہے۔ لیکن بعد میں دیگر دو افراد کی لاشیں بھی نکالی گئیں جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ حقیقی جیسی جیمز ہیں۔

ہائلی سلاسی

ایتھوپیا کے آخری شہنشاہ ہائلی سلاسی کی لاش 1992 میں نکالی گئی جب یہ معلوم ہوا کہ امپیریئل پیلس کے غسل خانے میں ان کو دفن کیا گیا ہے۔ سلاسی نے ایتھوپیا پر پینتالیس سال حکمرانی کی اور رستافیریئنز ان کو خدا کے درجے پر مانتے تھے۔ سنہ 1974 میں ان کا تختہ مینگستو ہائلی میریئم نے الٹایا۔ ان کو کئی برس تک امپیریئل پیلس میں قید رکھا گیا اور ان کی موت بھی ادھر ہی ہوئی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کو قتل کیا گیا تھا۔ سنہ 2000 میں ان کو دوبارہ ادیس ابابا کے کتھیڈرل چرچ میں دفنایا گیا۔

ایویٹا

ارجنٹینا کے صدر کی اہلیہ کو حنوط کیا گیا لیکن پچاس کی دہائی میں فوجی بغاوت کے بعد حکمران ان کی لاش کو ہٹانا چاہتے تھے۔ بیونس آئرس میں ٹریڈ یونین ہیڈکوارٹر سے ان کی لاش آدھی رات کو نکالی گئی۔ ہیڈکوارٹر سے لاش نکالنے کے بعد اس لاش کو ایک وین میں رکھا گیا جو کئی روز تک شہر کی سڑکوں پر کھڑی رہی، پھر سینما کی ایک سکرین کے پیچھے رکھی گئی اور یہاں تک کہ ملٹری انٹیلیجنس کے دفاتر میں بھی رکھی گئی۔ سنہ 1957 میں ویٹیکن کی جانب سے خفیہ مدد سے ایویٹا کو اٹلی کے شہر میلان میں نقلی نام سے دفن کیا گیا۔ بیونس آئرس میں دیواروں پر لکھا جانے لگا ’ایویٹا پیرون کی لاش کہاں ہے؟‘ سنہ 1971 میں لاش کو سابق صدر جوان پیرون کے میڈرڈ میں نئے مکان میں منتقل کیا گیا۔ دو سال بعد پیرون ارجنٹینا کے دوبارہ صدر منتخب ہوئے لیکن ان کا جلد ہی انتقال ہو گیا۔ پیرون کی تیسری اہلیہ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ایویٹا کی لاش ارجنٹینا واپس لائی جائے۔ ان کی تدفین خاندانی مزار میں کی گئی ہے جو ایک ایٹمی بنکر طرز کی جگہ ہے۔

چارلی چیپلن

مشہور کامیڈین کی لاش کو دو افراد نے 1978 میں قبر سے نکالا اور ایک کھیت میں دفنا کر چیپلن کے وکیل سے تاوان طلب کیا۔ چارلی چیپلن کو سوئٹزرلینڈ میں دفنایا گیا تھاجہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری پچیس سال گزارے۔ ان کی لاش کو چند ماہ بعد دوبارہ ادھر ہی دفنایا گیا جب دونوں مجرم گرفتار ہوئے۔ تاہم دوبارہ جب ان کو دفنایا گیا تو ان کی قبر کو مزید محفوظ کردیا گیا۔ اس گاؤں کے گورکن نے حکام کو کامیڈین کی لاش چوری ہونے کی اطلاع دی تھی۔ تاہم ان گورکن کا کہنا ہے کہ اب ایسا کرنا ناممکن ہے۔ ’چوری کرنے والے کو ڈرلنگ مشین کی ضرورت پڑے گی اور اس سے بہت آواز پیدا ہو گی۔‘

الزبیتھ سڈل

جب برطانوی آرٹسٹ اور شاعر دانتے گیبریئل روزیٹی کی اہلیہ کا انتقال 1862 میں ہوا تو ان کے ساتھ شاعری کی کتاب بھی دفنا دی گئی۔ کئی سال بعد جب ان کی آنکھیں کمزور ہونا شروع ہوئیں اور وہ پینٹنگ کرنے کے قابل نہیں رہے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ شاعری کی کتاب کو قبر سے نکالا جائے۔ اس حوالے سے ان کو سیکریٹری داخلہ کی اجازت چاہیے تھی۔ ان کو اجازت مل گئی اور روزیٹی چاہتے تھے کہ اس امر کو خفیہ رکھا جائے۔ قبر کشائی کی گئی اور شاعری کی کتاب نکالی گئی۔ لیکن روزیٹی کو اس وقت مایوسی ہوئی جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی پسندیدہ نظم کو کیڑے کھا گئے تھے۔

کرسٹوفر کولمبس

کرسٹوفر کولمبس نے اپنی وصیت میں کہا تھا کہ ان کو امریکہ میں دفن کیا جائے۔ لیکن 1506 میں امریکہ میں کوئی خاطر خواہ چرچ موجود نہیں تھا اس لیے ان کو ابتدائی طور پر سپین کے شہر میں دفنایا گیا۔ اس کے بعد ان کی لاش کو سیوِل میں دفنایا گیا۔ سنہ 1542 میں ان کی لاش کو نکالا گیا اور سینٹو ڈومنگو (جو آج کل ڈومینکن ریپبلک ہے) میں دفنایا گیا۔ سترہویں صدی کے آخر میں سپین کے کچھ حصے پر بشمول سینٹو ڈومنگو پر فرانس کا قبضہ ہو گیا۔ کرسٹوفر کی لاش کو نکال کر کیوبا لایا گیا۔ جب کیوبا نے آزادی حاصل کی تو ان کی لاش کو 1898 میں سیوِل کے کتھیڈرل میں دفنایا گیا۔ کم از کم یہاں تک کوئی شک و شبہات نہیں ہیں۔ تاہم ڈومینکن ریپبلک میں کولمبس یادگار میں ایک بکس ہے جس میں ہڈیاں ہیں جن پر لکھا ہے ’کرسٹوفر کولمبس‘۔ سائنسدانوں نے سیوِل میں جو لاش دفن کی گئی ہے اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا تو معلوم چلا ہے کہ وہ کولمبس کے بھائی ڈی ایگو کی ہے۔ دوسری جانب ڈومینکن ریپبلک میں لاش کا ڈی این اے کبھی نہیں لیا گیا۔

میری کیوری

میری کیوری کی راکھ اور ان کے شوہر لاش کو 1995 میں فرانس کے ایک چھوٹے سے قبرستان سے منتقل کیا گیا۔ اس کا مقصد ان کے کام کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔ پولینڈ میں پیدا ہونے والی سائنسدان نے تابکاری کے شعبے میں بہت نمایاں کام کیا تھا اور ان کو دو بار نوبیل انعام بھی دیا گیا تھا۔ ان کی موت 1934 میں لوکیمیا کے مرض کے باعث ہوئی۔

چے گویرا

ارجنٹینا میں پیدا ہونے والے کیوبا کے انقلابی رہنما کو 1967 میں بولیویا میں گرفتار کیا گیا اور گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ کئی برسوں تک ان کی تدفین کی جگہ کو خفیہ رکھا گیا۔ سنہ 1995 میں بولیویا کے اس جنرل نے قبر کی صحیح جگہ کی نشاندہی کی جنہوں نے اس آپریشن میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انقلابی رہنما کو ہوائی اڈے کے رن وے کے قریب دفن کیا گیا تھا۔ دو سال بعد ان کی لاش کو نکال کر کیوبا منتقل کیا گیا۔ تاہم کچھ اہم سوالات کے جوابات نہیں ملے جن میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ آیا صحیح لاش ہی کو کیوبا منتقل کیا گیا ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔