اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں نئے گھر تعمیر کرے گا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 30 نومبر 2012 ,‭ 18:36 GMT 23:36 PST

اسرائیل میں حکام کے مطابق حکومت نے متعلقہ حکام کو مقبوضہ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے پر مزید تین ہزار یونٹ تعمیر کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے یہ اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے جمعہ کو فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دینے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب فلسطین اتھارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی مکانات کی تعمیر کے منصوبے کی بندش تک مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آئے گی۔

یاد رہے کہ اسرائیل کی جانب سے نئے گھر تعمیر کرنے کے منصوبے کی فلسطینی مخالفت کرتے آئے ہیں۔

فلسطینیوں کا موقف ہے کہ مغربی کنارے پر اسرائیلی گھر تعمیر ہونے سے مغربی کنارہ دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا جس سے فلسطین کی ریاست کا وجود متاثر ہو گا۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دینے کے بعد ریاست اور ریاست سے باہر آباد فلسطینیوں نے بھرپور جشن منایا۔

جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دے دیا تھا جس کی امریکہ اور اسرائیل نے مخالفت کی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی ووٹنگ اور اس کے بعد فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کا خطاب نیویارک سے براہ راست نشر کیا گیا جسے فلسطینی شہروں رام اللہ، بیت اللحم، غزہ اور دوسرے کئی شہروں میں بڑی سکرینوں پر فلسطینیوں نے دیکھا۔

ووٹنگ کے نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں فلسطینی اپنا قومی پرچم اٹھائےسڑکوں پر نکل آئے۔

غزہ اور رام اللہ میں فلسطینیوں نے گاڑیوں کے ہارن بجا کر خوشی کا اظہار کیا اور کئی جگہوں پر نوجوان گاڑیوں کی چھتوں اور سڑکوں پر محوِ رقص نظر آئے۔

"پیسنٹھ سال پہلے آج ہی کے دن اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی نے قرارداد 181 کو منظوری دے کر فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا اور اسرائيل کو پیدائش کا سرٹیفکیٹ دے دیا تھا۔"

فلسطینی رہنما محمود عباس

جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی اتھارٹی کا درجہ بڑھائے جانے کی تجویز پر ہونی والی ووٹنگ میں ایک سو ترانوے ممالک میں سے ایک سو اڑتیس ممالک نے قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا۔

اسرائيل، امریکہ اور کینیڈا سمیت نو ممالک نے اس تجویز کے خلاف ووٹ ڈالا جبکہ اکتالیس ممالک نے اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کیا۔

دوسری جانب اسرائیل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی اتھارٹی کا درجہ بڑھائے جانے کی تجویز پر ہونی والی ووٹنگ کو مسترد کرتے ہوئے اُسے ایک ’منفی سیاسی تھیٹر‘ قراد دیا جس سے امن کو نقصان پہنچے گا۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان مارک ریگو کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دینے کے بعد فلسطین اور اسرائیل اب مزاکرات کے عمل سے باہر نکل گئے ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دے دیا تھا۔

ووٹنگ سے پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب میں فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ’آج اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ فلسطین کی پیدائش کا سرٹیفکیٹ جاری کرے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’پیسنٹھ سال پہلے آج ہی کے دن اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی نے قرارداد 181 کو منظوری دے کر فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا اور اسرائيل کو پیدائش کا سرٹیفکیٹ دے دیا تھا۔‘

اقوام متحدہ میں قرارداد منظور ہونے کے بعد غزہ اور مغربی کنارے پر جشن کا ماحول تھا۔ لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر نغمے گائے، آتش بازی کی اور گاڑیوں کے ہارن بجاكر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے اسرائيل کے سفیر نے ووٹنگ سے پہلے خطاب کرتے ہوئے کہا ’اس تجویز سے امن کو کوئی فروغ نہیں ملے گا بلکہ اس سے امن کو دھچكا ہی لگے گا۔ اسرائيلي لوگوں کا اسرائيل سے چار ہزار سال پرانا تعلق اقوام متحدہ کے کسی فیصلے سے ٹوٹنے والا نہیں ہے۔‘

امریکہ کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو اسرائيل کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنی چاہیے اور اس طرح اقوام متحدہ میں یکطرفہ اقدامات کے ذریعے ریاست کا درجہ حاصل نہیں کرنا چاہیے۔

ایک فلسطینی بچہ اپنے گال پر قومی پرچم کی تصویر بنائے ہوئے۔

برطانیہ اور جرمنی نے اس تجویز کے لیے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا دونوں ملک فلسطینیوں کی اس تجویز کے لائے جانے سے خوش نہیں تھے لیکن اقوام متحدہ میں اس تجویز کو بھارت سمیت فرانس، روس، چین اور جنوبی افریقہ جیسے کئی ممالک کی حمایت حاصل تھی۔

گزشتہ سال فلسطینی اتھارٹی نے مکمل رکنیت حاصل کرنے کے لیے اقوام متحدہ میں درخواست دی تھی لیکن سلامتی کونسل میں امریکہ نے اس تجویز کو ویٹو کر دیا تھا اور فلسطینیوں کی کوشش ناکام ہو گئی تھی۔

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے رکن ممالک سے کہا کہ وہ فلسطینی انتظامیہ کی کامیابیوں کو تسلیم کریں۔

غیر رکن مبصر کی حیثیت حاصل کرنے کے بعد اب فلسطین کو اقوامِ متحدہ کے اداروں میں شمولیت حاصل ہو جائے گی جن میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف بھی شامل ہے۔

فلسطینی چاہتے ہیں کہ مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی بیت المقدس کے علاقوں کو فلسطینی ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے جن علاقوں پر اسرائیل نے سنہ انیس سو سڑسٹھ میں قبضہ کر لیا تھا۔ اس رائے شماری کے مخالفین کا موقف رہا ہے کہ فلسطینی ریاست کا فیصلہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے۔

"اقوامِ متحدہ میں ہونے والا فیصلہ، زمینی حقائق نہیں بدلے گا۔ اس سے فلسطینی ریاست کی انتظامیہ ترقی نہیں کرے گی بلکہ یہ معاملات کو مزید تاخیر کا شکار کرے گا۔"

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتین یاہو

اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتین یاہو نے کہا تھا کہ ’اقوامِ متحدہ میں ہونے والا فیصلہ، زمینی حقائق نہیں بدلے گا‘۔ ان کا مزید کہنا تھا ’اس سے فلسطینی ریاست کی انتظامیہ ترقی نہیں کرے گی بلکہ یہ معاملات کو مزید تاخیر کا شکار کرے گا‘۔

جبکہ فلسطینی حکام کا موقف تھا کہ اس اقدام کا مقصد امن بات چیت کو ختم کرنا نہیں بلکہ فلسطینی اختیار میں اضافہ کرنا اور اس خطے کی وضاحت کرنا ہے جسے وہ فلسطینی ریاست کے طور پر چاہتے ہیں۔ اس میں وہ علاقہ بھی شامل ہے جو اسرائیلی آبادکاری کے باعث متاثر ہوا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔