ایٹمی تجربہ قریب سے دیکھنے والا پائلٹ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 دسمبر 2012 ,‭ 11:12 GMT 16:12 PST

برطانیہ کو سنہ انیس سو اٹھاون میں جوہری طاقت کے روپ میں شناخت ملی

برطانوی فضائیہ کے فلائٹ نیوی گیٹر جو پاسكن کے جہاز کا جیسے ہی دروازہ کھلا وہ دوڑ کر جہاز سے دور بھاگ گئے۔ یہ بات ہے 28 اپریل 1958 کی اور پہلی بار ایسا ہوا تھا جب پاسكن کو اس طرح سے ہوائی جہاز چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا۔

لیکن وہ ہوائی سفر بھی ان کی دوسرے سفر کی طرح نہیں تھا۔ اس خاص ہوائی سفر کے دوران جو پاسكن اور ان کے ساتھیوں نے برطانیہ کے سب سے بڑے ایٹمی تجربے کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔

انہوں نے دانستہ طور پر اپنے جہاز کو ان بادلوں کے درمیان داخل کر دیا تھا جو جوہری تجربے کے بعد آسمان میں تابکار بادلوں کی طرح گھر گئے تھے۔

جب ان کا جہاز واپس بیس اسٹیشن پر پہنچا تو سب سے پہلے انہیں اس مرکز پر لے جایا گیا جو تابکار مادوں کے رابطے میں آنے والوں کے علاج کے لیے بنایا گیا تھا۔

سرد جنگ کے دوران برطانیہ کی پہچان عالمی طاقت کے طور پر آہستہ آہستہ کم ہونے لگی تھی۔ لیکن اسی دوران 1947 میں اس نے ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

خدا کا چہرہ

"مجھے لگتا ہے کہ میں نے پہلی بار خدا کے چہرے کو دیکھا۔ یہ واقعی میں ناقابل یقین اور غیر معمولی تھا۔ اس نے ہمارے دماغ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ایسی چیزیں شاید کسی بھی برطانوی نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔"

جو پاسکن

ادھر امریکہ اور روس پہلے ہی ایٹمی تجربہ کر چکے تھے اور برطانیہ اس دوڑ میں شامل ہونے والا تیسرا ملک تھا۔

تقریبا 60 برس قبل اکتوبر 1952 میں برطانیہ نے پہلی بار جوہری تجربہ کیا اور اس کے بعد بھی برطانیہ نے کئی تجربے کیے تاہم 1958 کے مئي اور ستمبر کے درمیان بحرالکاہل میں کیے گئے نو تجربات نے برطانیہ کو ایک ایٹمی طاقت کے طور پر شناخت دی تھی۔

ان تجربوں کا كوڈ نام گریپل ایکس، وائی اور زیڈ رکھا گیا تھا۔ جو پاسكن نے جس ٹیسٹ کو دیکھا تھا اس کا كوڈ نام گریپل وائی تھا اور اس میں تین میگا ٹن طاقت والے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا گیا تھا جو کہ اب تک کا برطانیہ کا سب سے طاقتور ایٹمی تجربہ ہے۔

جو پاسكن انگلینڈ میں عملے کے ساتھ اپنے دفتر میں بیٹھے تھے تبھی انہیں فون پر آسٹریلیا جانے کی اطلاع دی گئی۔ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں تھی کہ انہیں آسٹریلیا کیوں بلایا گیا تھا۔ لیکن آسٹریلیا پہنچنے کے بعد جو کو بتایا گیا کہ برطانیہ جوہری تجربہ کرنے والا ہے۔

جو پاسکن اب برطانیہ کے بجائے امریکہ ميں رہتے ہیں

جو پاسكن نے جس ٹیسٹ کو دیکھا تھا اس کا كوڈ نام گریپل وائی تھا اور اس میں تین میگا ٹن طاقت والے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا گیا تھا جو کہ اب تک کا برطانیہ کا سب سے طاقتور ایٹمی تجربہ ہے۔

اس پر جو کا رد عمل بہت اچھا نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا، ’مجھے یہ بالکل بھی پسند نہیں آیا۔ لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ جوہری تجربے میں شامل تمام لوگوں کو دراصل قربانی کا بکرا بنایا جا رہا تھا۔‘

ٹیسٹ کے دن پاسكن صبح دو بجے اٹھ گئے تھے اور سورج کے نکلنے سے پہلے ہی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہوائی جہاز میں بیٹھ چکے تھے۔ پاسكن کے ساتھیوں کو جوہری تجربے کے بعد اس کے نمونے جمع کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔

زمین سے تقریبا 46 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر تے ہوئے پاسكن اور ان کے ساتھی کافی جوش میں تھے۔

ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے پاسكن کہتے ہیں، ’ہم لوگ بم لے جا رہے طیارے کو نمبروں کی گنتی کرتے ہوئے سن رہے تھے۔ جیسے ہی انہوں نے کہا کہ بم گرا دیا گیا ہے، ہمیں اپنے جہاز کو اس سے دور لے جانا تھا۔‘ جہاں بم گرایا گیا تھا اس سے وہ لوگ صرف 35 میل کے فاصلے پر تھے۔

پاسكن کہتے ہیں، ’ آٹھ ہزار فٹ کی اونچائی پر بم پھٹا تھا۔ ہم نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں لیکن بند آنکھوں سے بھی ہم روشنی دیکھ سکتے تھے۔ جیسے ہی یہ ہوا ہم لوگ پیچھے بھاگے۔ میری سیٹ کھڑکی کے قریب تھی جس کی وجہ سے میں نے سارے واقعات کو بہت قریب سے دیکھا۔‘

اپنے تجربات کو بتاتے ہوئے پاسكن کہتے ہیں، ’مجھے لگتا ہے کہ میں نے پہلی بار خدا کے چہرے کو دیکھا۔ یہ واقعی میں ناقابل یقین اور غیر معمولی تھا۔ اس نے ہمارے دماغ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ایسی چیزیں شاید کسی بھی برطانوی نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔‘

تھوڑی ہی دیر میں نیوکلیائی گھنے بادل گھرنے لگے اور جیسے ہی پاسكن نے اوپر دیکھا انہیں تابکار بارش نظر آنے لگی۔

امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے جاپان کے ہیرو شیما پر ایٹم بم گرایا تھا

پاسكن کہتے ہیں، ’ایسا صرف ایک ہی بار ہوا ہے جب میں نے 46 ہزار فٹ کی اونچائی پر بارش ہوتے ہوئے محسوس کیا تھا۔‘

اس کے بعد تابکاری کی پیمائش کے لیے طیارے میں لگے آلات کو چالو کر دیا گیا جس کی وجہ سے پاسكن اور ان کے ساتھیوں کو بھی تابکار مادوں کے رابط میں آنے کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔

پاسكن کا کہنا ہے کہ ان کی اور ان کے بچوں کی بیماری کی اصل وجہ ایٹمی تجربہ کے دوران تابکار مادوں سے ان کا متاثر ہونا ہے۔

لیکن وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ جوہری تجربے میں شامل رہے حکام کو کینسر ہونے کے واقعہ معاشرے کے دوسرے لوگوں کو کینسر ہونے کی شرح سے مختلف نہیں ہے۔

حال ہی میں ایسے کچھ لوگوں نے معاوضے کے لیے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے ان کی درخواست خارج کر دی۔

اب تقریبا 750 ایسے لوگوں نے یورپ کی انسانی حقوق کی عدالت میں فریاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن پاسكن ان لوگوں میں سے ایک نہیں ہیں۔ سرکاری رازداری قانون کے تحت پاسكن اپنے تجربے میں کسی اور کو شریک نہیں کر سکتے۔

برطانیہ کی حکومت نے بھلے ہی ایٹمی تجربے میں حصہ لینے والے اپنے پرانے سپاہیوں کو معاوضہ نہیں دیا لیکن امریکہ نے اس طرح کے اپنے افسران کو خوب نوازا دیا ہے۔

پاسكن کو اس بات کا دکھ ہے کہ برطانیہ کی حکومت نے پاسكن اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کو نہیں تسلیم کیا۔ پھر بھی پاسكن کہتے ہیں، ’ہم لوگ ایسا کر رہے تھے اور ہم تمام اس کے لئے مرنے کو بھی تیار تھے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔