بائیکاٹ کے باوجود کویت میں ووٹنگ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 دسمبر 2012 ,‭ 10:02 GMT 15:02 PST
کویت انتخابات

کویت میں پارلیمنٹ کے لیے ایک ہی سال میں دوبارہ انتخابات ہو رہے ہیں۔

کویت میں روز افزوں بے اطمینانی کے درمیان شہری نئی پارلیمنٹ کے انتخاب کے لیے ایک ہی سال میں دوسری مرتبہ ووٹ ڈال رہے ہیں۔

انتخابات کی شام کویت میں لاکھوں کی تعداد میں مظاہرین نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ مظاہرین گزشتہ ماہ ووٹنگ کے قوانین میں کی گئی تبدیلی کے خلاف ہیں۔

پارلیمان میں حزبِ اختلاف کے اراکین کا کہنا ہے کہ انتخاب کے قوانین میں کی گئی ترامیم حکومت نواز امیدواروں کو تعاون فراہم کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔

کویت میں حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان مہینوں سے اختلاف جاری ہے۔

بی بی سی کی نمائندہ شائمہ خلیل کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بائیکاٹ کے اعلان کے باوجود سنیچر کی صبح دارالحکومت کے ایک خوشحال ضلعے روماثیہ کے پولنگ سٹیشن پر لوگوں کی بھیڑ تھی۔

خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کویت سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر سلوی میں موجود پولنگ سٹیشن پر بہت کم لوگ ووٹ ڈالنے آئے۔

مظاہرین

کویت میں مظاہرین انتخابات کے بائکاٹ کر رہے ہیں۔

حزب اختلاف انیس اکتوبر کو کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح کی جانب سے جاری آرڈر کے سخت مخالف ہیں۔

کویت کی حکومت پر شیخ صباح کے خاندان کا مکمل کنٹرول ہے۔

یہ سیاسی تنازع جون میں اس وقت شروع ہوا جب عدالت نے فروری میں ہونے والے انتخابات کو کالعدم قرار دیا جس میں اسلام پسندوں کی رہنمائی والی حزب اختلاف کو فائدہ ہوا تھا۔

اس کے علاوہ عدالت نے سابقہ اسمبلی کو بھی بحال کر دیا جسے برسراقتدار خاندان کی حمایت حاصل تھی۔

کئی مہینوں کے مظاہروں کے بعد کویت کے امیر نے پارلیمان کو تحلیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے نئے انتخابات کرانے کا حکم جاری کیا۔

کویت کے امیر کے حکم کے مطابق ایک ووٹر چار کی بجائے اب ایک رکن کو ہی منتخب کر سکتا ہے۔ امیر کا کہنا تھا کہ اس سے پارلیمان میں لوگوں کی صحیح نمائندگی ہو سکے گی۔

اس حکم نامے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے انتخابات کے نتائج پر اثرات مرتب ہوں گے۔

حزب اختلاف کے اراکین پارلیمان کا کہنا ہے یہ خلیجی ممالک کے آئین کی خلاف ورزی ہے اور اسی لیے وہ اس انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔

ہماری نامہ نگار نے بتایا کہ جمعے کو ہونے والے مظاہرے میں شامل افراد سخت ناراضگی کا اظہار کر رہے تھے کیونکہ ان کے مطابق یہ امیر کی جانب سے یکطرفہ فیصلہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے پارلیمان میں عوام کی صحیح نمائندگی نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔