لیبیا: انقلاب کے بعد اب خواتین کے حقوق کی جنگ

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 دسمبر 2012 ,‭ 17:04 GMT 22:04 PST

پچیس سالہ مگدالن عبائدہ کو حال ہی میں حکومتِ برطانیہ نے پناہ دی ہے۔ وہ لیبیا میں سابق حکمران کرنل معمر قذافی کے خلاف لڑنے والے باغیوں کو مدد فراہم کرتی رہی ہیں۔

اب برطانیہ کا شمال مشرقی ساحلی شہر سنڈر لینڈ ان کا عارضی گھر ہے جہاں انہیں کوئی نہیں جانتا۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کے حالات کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ’یہ بہت غلط بات ہے کہ آپ انقلاب کے لیے محنت کرنے کی خاطر اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور پھر آپ کو وہ جگہ چھوڑنا پڑتی ہے کیونکہ وہ آپ کے لیے محفوظ نہیں ہے‘۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ انقلاب کے دوران ہم سب نے مل کے کام کیا۔ لیکن اب حالات مشکل ہیں‘۔

عبائدہ کے والد وکیل ہیں اور وہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں پلی بڑھی ہیں۔

فروری دو ہزار گیارہ میں جب معمر قذافی کے اکتالیس سالہ دورِ حکومت کے خلاف بغاوت کا آغاز ہوا تو حکومت کے خلاف مہم کے سلسلے میں پہلے عبائدہ قاہرہ گئیں اور اس کے بعد پیرس تاکہ وہ باغیوں کے لیے خوراک اور دواؤں کا انتظام کرنے میں مدد کر سکیں۔

"یہ بہت غلط ہے کہ آپ انقلاب کے لیے محنت کرنے کی خاطر اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور پھر آپ کو وہ جگہ چھوڑنا پڑتی ہے کیونکہ وہ آپ کے لیے محفوظ نہیں ہے۔"

مغدولن عبائدہ

اگست میں طرابلس باغیوں کے ہاتھوں میں جانے کے بعد وہ لیبیا لوٹ گئیں اور نئے آئین میں خواتین کے لیے مساوی حقوق حاصل کرنے کے لیےمہم شروع کی۔

بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح انہیں بھی خدشہ ہے کے لیبیا میں اسلامی بنیاد پرستوں کا اثر بڑھ رہا ہے۔

ان کے نزدیک بعض معاملات پریشان کن ہیں۔ مثال کے طور پر اکتوبر دو ہزار ایک میں انقلاب کے دوران عالمی سطح پر پہچانے جانے والے نیشنل ٹرانزیشنل کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ وہ مردوں کی ایک سے زیادہ شادیوں کو آسان بنائیں گے۔

عبائدہ کہتی ہیں ’یہ ہمارے لیے ایک شدید صدمہ تھا۔ ہم اس لیے انقلاب نہیں لائے تھے کہ مرد چار چار عورتوں سے شادیاں کریں۔ ہم زیادہ حقوق چاہتے تھے نہ کہ نصف معاشرے کے حقوق تباہ کرنا۔‘

رواں بر س موسم گرما میں لیبیا کے دوسرے بڑے شہر اور بغاوت کے صدر مقام بن غازی کے دورے پر عبائدہ کو ایک آزاد ملیشیا کے ارکان نے دو مرتبہ قید کیا۔ یہ ملیشیا قذافی کے خلاف لڑائی کے لیے بنی تھی تاہم یہ اب بھی قائم ہے۔ معمر قذافی کے خلاف لڑنے والی متعدد ملیشیا سخت گیر اسلامی تصورات کی حامی ہیں۔

عبائدہ برطانوی امداد سے منعقد ہونے والے خواتین کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے وہاں گئی تھیں تاہم اس اجلاس کو مسلح افراد نے رکوا دیا تھا۔ بعد میں عبائدہ کو ان کے ہوٹل سے حراست میں لے لیا گیا۔ انہیں آزاد کیے جانے کے اگلے روز دوبارہ اغوا کیا گیا اور ملیشیا کے اڈے پر ایک کمرے میں قید رکھا گیا۔

عبائدہ بتاتی ہیں کہ دورانِ قید ’ایک شخص آیا اور اس نے مجھے لاتیں مارنا شروع کردیں۔ اس کے بعد اس نے مجھے بندوق سے مارنا شروع کر دیا۔ وہ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ ’میں تمہیں مار دوں گا اور یہیں دفن کر دوں گا اور کسی کو پتا نہیں چلے گا‘۔ وہ مجھے اسرائیل کا ایجنٹ، فاحشہ اور کتیا کہہ رہا تھا۔‘

’وہ مجھے بار بار کہہ رہا تھا کہ میں تمہیں ابھی مار سکتا ہوں اور کسی کو پتا نہیں چلے گا۔ مجھے لگا مجھے وہاں قتل کر دیا جائے گا۔‘

آخر کار عبائدہ کو آزاد کر دیا گیا۔ انہیں بندوق سے چوٹیں لگائی گئیں اور ملیشیا نے ان پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام عائد کیا جن کی وہ سختی سے تردید کرتی ہیں۔

دوبارہ اغوا ہونے کی صورت میں قتل کر دیے جانے کے خدشے کے پیشِ نظر عبائدہ نے ستمبر میں برطانیہ جانے کا فیصلہ کیا۔

برطانیہ میں پناہ کے لیے عبائدہ کی درخواست کی حمایت کرنے والے تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ عبائدہ کے معاملے میں سب سے اہم بات نئے لیبیا میں لاقانونیت کی فضا ہے۔

شمالی افریقہ کے لیے ایمنسٹی کی محقق ڈیانا التھاوی کا کہنا ہے کہ ’عبائدہ کا معاملے اس رویّے کا عکاس ہے جو ہم حکومت کے گرنے کے بعد دیکھ رہے ہیں۔‘

’مسلح گروہ مکمل طور پر بے قابو ہیں اور کارروائیاں کر رہے ہیں۔ یہ لوگ ملک بھر میں لوگوں کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کر رہے ہیں۔ قید کر رہے ہیں اور ان پر تشدد کر رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کئی لوگ تشدد کے دوران ہلاک ہوئے، میں آخری مرتبہ ستمبر میں لیبیا گئی جہاں مجھے ایسے تین خاندان ملے جن کے رشتہ دار تشدد کے دوران ہلاک ہوئے۔‘

’یہ سب ہورہا ہے کیونکہ لیبیا کی حکومت ان ملیشیاؤں پہ قابو نہیں پانا چاہتی یا قابو پا ہی نہیں سکتی۔‘

ستمبر میں مشتعل افراد نے بن غازی میں ایک ملیشیا کے اڈے پر حملہ کر دیا تھا ان کا مطالبہ تھا کہ اس ملیشیا کی جانب سے لاقانونیت کا خاتمہ کیا جائے۔

"ہمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کو فوری طور پر روکنا ہوگا خاص طور پر لیبیا کی جیلوں اور قید خانوں میں۔ ہمیں یہ مسائل درپیش ہیں، ہم اس سے شرما نہیں رہے، ہم اسے مسترد نہیں کر رہے، ہم جانتے ہیں کہ یہ ہمارا بڑا مسئلہ ہے، اور ہم اسے ختم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔"

وزیرِ انصاف صالح مرغانی

اس سے قبل اس ملیشیا کے کچھ ارکان امریکی قونصلیٹ پر حملے اور امریکی سفیر کے قتل میں ملوث پائے گئے تھے۔ تاہم حال ہی میں لیبیا کی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ ان تمام ملیشیاؤں کو کنٹرول میں لائے گی۔

نئے وزیرِ انصاف صالح مرغانی جو انسانی حقوق کے سابق کارکن بھی ہیں، نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کو فوری طور پر روکنا ہوگا خاص طور پر لیبیا کی جیلوں اور قید خانوں میں۔ ہمیں یہ مسائل درپیش ہیں، ہم اس سے شرما نہیں رہے، ہم اسے مسترد نہیں کر رہے، ہم جانتے ہیں کہ یہ ہمارا بڑا مسئلہ ہے، اور ہم اسے ختم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں‘۔

برطانیہ جس نے لیبیا میں کرنل قذافی کی حکومت کے خاتمے کے لیے فوجی کارروائی میں لاکھوں پاؤنڈ خرچ کیے ہیں، اب وہاں انسانی حقوق کی پامالی پر خدشات کا شکار ہے۔ تاہم وہ لیبیا میں جمہوریت کی جانب ہونے والی پیش رفت پر زور دیتا ہے، خاص طور پر موسم گرما میں ہونے والے ملک میں پہلے جمہوری انتخابات پر۔

لیبیا کی بعض انسانی حقوق کی کارکنوں جن میں لندن میں مقیم اور ویمن فار لیبیا سے تعلق رکھنے والی سارہ ماذق بھی شامل ہیں، کا خیال ہے کہ وہ قذافی کے دور سے کہیں زیادہ ترقی کر رہی ہیں۔

وہ کہتی ہے’ کانگرس میں تینتیس خواتین ہیں، کابینہ میں دو خواتین وزرا ہیں۔ لیبیا جیسے بنیاد پرست معاشرے میں جہاں تک میں سمجھتی ہوں مجموعی طور پر صورتحال ایک معجزہ ہے۔‘

لیکن عبائدہ نے اسے قبول نہیں کیا۔ وہ برطانوی حکومت کی مشکور ہیں جس نے انہیں پناہ دی۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ برطانیہ میں محفوظ رہتے ہوئے اپنی مہم جاری رکھیں گی۔

وہ سمجھتی ہیں کہ اگر وہ کبھی لیبیا واپس گئیں تو ملیشیا والے انھیں دوسرا موقع نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر اب انھوں نے مجھے پکڑا تو مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے نہیں چھوڑیں گے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔