مخالفت کے باوجود ریفرنڈم ہوگا: نائب صدر

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 دسمبر 2012 ,‭ 16:52 GMT 21:52 PST
صدارتی محل

منگل کو ہزاروں مظاہرین نے محل کا گھیراؤ کیا تھا اور پولیس کے ساتھ ان کی جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔

مصر کے نائب صدر محمود مکی کا کہنا کے کہ تمام مخالفت کے باوجود آئین کے متنازعہ مسودے پر ریفرنڈم کرایا جائے گا۔

قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر مظاہرے ہو رہے ہیں اور صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی ہیں۔

نائب صدر کا کہنا ہے کہ مظاہرے اس بحران کا حل نہیں اور یہ کہ بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔

اس مسودے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس مسودے میں سیاسی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کچھ زیادہ نہیں کیا گیا۔

صدر مرسی کے مخالفین ان سے اس لیے بھی ناراض ہیں کیونکہ انہوں نے بائیس نومبر کو ایک فرمان کے ذریعے اپنے اختیارات میں اضافہ کر لیا تھا جن کے تحت عدالت ان کے جاری کردہ کسی فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتی۔

سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشر ہونے والی پریس کانفرنس میں نائب صدر نے کہا کہ یہ ریفرنڈم پہلے سے طے شدہ تاریخ یعنی پندرہ دسمبر کو ہی ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ اس کے مخالف ہیں ان کے لیے بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔

صدر مرسی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز سے کہا گیا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں اور تشدد کا جواب تشدد سے نہ دیں۔

صدر مرسی کی اخوان المسلمین نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ صدر کے محل کے باہر ان مخالفین کے جواب میں صدر کے حق میں مظاہرے کریں جنہوں نے صدارتی محل کے گرد خیمے نصب کر کے کیمپ قائم کر لیا۔

محل کے باہر پتھراؤ کی خبریں ہیں اور مرسی کے حامی لوگوں کے ٹینٹ یا خیمے نکال رہے ہیں۔

منگل کو ہزاروں مظاہرین نے محل کا گھیراؤ کیا تھا اور پولیس کے ساتھ ان کی جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔اس دوران اٹھارہ افراد معمولی زخمی بھی ہوئے تھے۔

ایک مقام پر سکیورٹی فورسز نے ٹی وی پر یہ اعلان بھی کیا کہ صدر مرسی محل سے چلے گئے ہیں۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعے کی پہلے مثال نہیں ملتی۔ قاہرہ میں صدارتی محل کا گھیراؤ ہوا، پولیس کے ہاتھوں سے کنٹرول تقریباً جاتا رہا اور صدر مرسی کو محل سے کسی محفوظ مقام کی طرف منتقل کرنا پڑا۔ اس طرح کے واقعات پہلے نہیں ہوئے، گزشتہ سال حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کے دوران بھی نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کی طرف ایک اور اشارہ ہے کہ نئے آئین پر ریفرنڈم سے تقریباً دو ہفتے قبل بھی یہ ملک کس حد تک تقسیم ہو چکا ہے۔

مظاہرین میں سے اکثر اسی قسم کے نعرے لگا رہے تھے جو انہوں نے 2011 میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف تحریک میں لگائے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔