ایران: امریکی ڈرون کی ٹی وی پر نمائش

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 دسمبر 2012 ,‭ 10:03 GMT 15:03 PST
امریکی ڈرون

امریکہ کا کہنا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں اس کا کوئی ڈرون لاپتا نہیں ہے

ایران کے سرکاری ٹی وی پر اس امریکی ڈرون کی تصاویر دکھائی گئی ہیں جسے منگل کو خلیجِ فارس کے علاقے میں ایرانی فضائی حدود سے قبضے میں لے لیا گیا تھا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بتایا تھا کہ انھوں نے امریکیوں کے زیرِ استعمال ’سکین ایگل‘ نامی قدرے کم پیچیدہ اور چھوٹے حجم کا طیارہ اتار لیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے ریئر ایڈمرل علی فداوی کے حوالے سے بتایا تھا کہ گذشتہ چند روز سے اس طیارے نے متعدد جاسوسی پروازیں کی تھیں۔

البتہ امریکہ کی بحریہ کا کہنا ہے کہ مشرقی وسطی میں اس کا کوئی ڈرون لاپتا نہیں ہے۔

سکین ایگل نامی ڈرون طیارہ کم قیمت اور لمبے عرصے تک استعمال ہونے والا طیارہ ہے۔ یہ طیارہ بوئنگ کمپنی کی ’این سٹو‘ نامی ایک شاخ تیار کرتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کا کہنا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں متحدہ عرب عمارات سمیت کئی ممالک ’سکین ايگل‘ طیارے کا استعمال کرتے ہیں۔

ریئر ایڈمرل علی فداوی کا کہنا تھا کہ اس طرز کے ڈرون عموماً بڑے بحری جہازوں سے لانچ کیے جاتے ہیں۔

فارس نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ ڈرون کو ’گذشتہ کچھ دنوں‘ پہلے قبضے میں لیا گیا ہے، تاہم اس بارے میں اس نے مزید تفصیلات نہیں دی ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب ایرانی فوج کا خصوصی دستہ ہیں جن کی اپنی بحری فوج ہے۔

بحرین میں مقیم امریکی بحریہ کے سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کا کہنا ہے ’امریکہ نے مشرقی وسطیٰ میں زیر استمعال اپنے سبھی ڈرون طیاروں کی گنتی کرلی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’خلیج ممالک میں ہمارے آپریشن صرف بین الاقومی تسلیم شدہ فضائی اور بحری حدود تک محدود ہیں۔‘

انھوں نے بتایا ’ہمارے پاس ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ ہمارا سکین ایگل نامی ڈرون گم ہوگیا ہو۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ مہینے امریکہ نے کہا تھا کہ بین الاقوامی فضائی حدود میں اڑنے والے ایران کے ایک فوجی طیارے نے ایک امریکی جاسوسی طیارے پر گولی چلائی تھی۔ ایران کا کہنا تھا کہ یہ امریکی طیارہ اس کی فضائی حدود میں داخل ہوگیا تھا۔

نومبر کے مہینے میں امریکہ میں مقیم ایرانی سفارتکار کار نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان گی مون کو تحریری طور پر شکایت کی تھی کہ امریکہ بار بار اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ امریکہ کی جانب سے اس قدم کو ایران نے ’غیر قانونی اور اشتعال انگیز عمل‘ قرار دیا تھا۔

اس سے قبل گذشتہ برس ایران کے سرکاری ٹی وی پر ایک امریکی جاسوسی ڈرون کی تصاویر دکھائی گئی تھیں جس کے بارے میں اس نے کہا تھا کہ اس نے اسے اتار لیا تھا۔ تاہم امریکہ کا کہنا تھا کہ ڈرون تکنیکی خرابی کا شکار تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔